ملک ریاض جہاں کھڑے ہوں قطار وہیں سے شروع ہوتی ہے

ملک ریاض کو بولی لگانی آتی ہے، چیز چاہے نیلامی کے لیے پیش کی گئی ہو یا نہیں، چیز چاہے خریدنے کے قابل بھی ہو یا نہیں۔

ملک ریاض ہمارے معاشرے کا آئینہ ہیں، وہ سیاست، فوج، میڈیا، بیوروکریسی سے لے کر عدلیہ تک سب کا چہرہ ہمیں بار بار دکھاتے ہیں(اے ایف پی)  

کچھ مڈل کلاسیے اچھل اچھل کر ملک ریاض کو پڑنے والے مبینہ ہرجانے کا جشن منا رہے ہیں، برطانیہ میں ہونے والی ملک ریاض کی سُبکی پہ کچھ ناعاقبت اندیش پھول کے کپا ہوئے جاتے ہیں۔

ذرا سنبھل جاؤ میرے ہم وطنو۔ وہ اتنا دھن والا ہے کہ آپ سمیت آپ کا پورا سسٹم خرید سکتا ہے۔

مڈل کلاسیوں کا تو یہ حال ہے کہ ابا ساری زندگی سرکاری دفتر کی جوتیاں گھستے گھستے اللہ کے پاس جا بسے، پیچھے اپنے نکمے لڑکوں کو بسانے کے لیے جو 120 گز کا پلاٹ چھوڑ گئے تھے، اس پر چھ بھائیوں کے بیچ مقدمے بازی چل رہی ہے، چھ کے چھ کرائے کے مکانوں میں رہتے ہیں جہاں ہر پہلی تاریخ کو مالک مکان کے ہاتھوں عزت کا سیخ کباب بنواتے ہیں۔

کم بختو سے اس پلاٹ پر چار دیواری تک نہ اٹھائی گئی، مگر سلام ہے اس خود اعتمادی پہ جب چھ کے چھ بھائی مل کر ملک ریاض کو اجتماعی لعن طعن کرتے ہیں کہ ’ملک ریاض سارا ملک کھا گیا۔‘

میں سمجھتی تھی کہ پاکستانیوں میں ’پلاٹ‘ خریدنے کا پہلے ضرورت پھر فیشن اور اب لت بنانے کے پیچھے بھی ملک ریاض کا ہاتھ ہے، پھر دھیرے دھیرے اندازہ ہوا کہ جیسے ملک ریاض ایک ہی نگاہ میں بندے کی قیمت کا اندازہ لگا لیتے ہیں ویسے ہی ملک صاحب نے اس قوم کی نبض پہ بھی ہاتھ رکھا۔

ہمارے متوسط طبقے کو پلاٹ کی شکل میں دنیا کی محفوظ ترین سرمایہ کاری نظر آتی ہے، بیرون ملک مقیم پاکستانی چاہے برسوں میں ایک بار وطن آئے مگر اپنی کوٹھی ضرور بناتا ہے۔ جہیز میں بھی دیے گئے پلاٹوں کی بڑی دھوم ہوتی ہے، لڑکے بھی ترکے میں ملنے والے رقبوں پر بہت چوڑے ہوتے ہیں۔

جو زیادہ امیر ہیں وہ شہر سے پرے خالی پلاٹ پر فارم ہاؤس بنا کر نجانے کون سے جذبات کی تسکین کرتے ہیں۔ آپ خود اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں سمجھ آجائے گا کہ یہ ’پلاٹ‘ موئی کس آفت کا نام ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

راولپنڈی لوئی بھیر کے اطراف میں جنگلات تھے، ان جنگلوں میں بھی ملک صاحب نے راستے نکال لیے۔ پہلے ایسا صرف جنید جمشید کے گانے میں ہوتا تھا۔ کراچی کی جو زمین بنجر تھی سندھ حکومت نے ویسے بھی وہاں تیسرا ٹاؤن ٹائپ کا کوئی فلاپ پراجیکٹ ہی بنانا تھا، سو وہاں ملک ریاض نے حسرتوں کا تاج محل کھڑا کر دیا۔ پرانے لہور والے یونہی اپنی تاریخی عمارتوں پر اتراتے تھے، ملک ریاض نے بحریہ ٹاؤن لاہور بنا کر نئی تاریخ رقم کر دی۔

ملک صاحب پہ دھوکہ دہی، قتل، رشوت، جنگلات پہ قبضے، حکومتی اراضی پر قبضے کے درجنوں مقدمات بنے مگر وہ ماشاء اللہ سے ہر بار سرخرو ہوئے، کہیں مصالحت کے نتیجے میں کہیں سپریم کورٹ کو پیسے دے کر۔

ملک صاحب واحد بندہ ہے جو کھل کر بتاتا ہے کہ فائلوں کو پہیے کیسے لگائے جاتے ہیں، ذرا فلمی ہو جائے گا مگر تحریر کے اس نازک موڑ پر یہ ڈائیلاگ مارنا ضروری ہے کہ ’ابھی تک وہ قانون ہی نہیں بنا جو ملک ریاض پر گرفت کر سکے‘ یا پھر ’ملک ریاض جہاں کھڑے ہو جائیں قطار وہیں سے شروع ہوتی ہے۔‘

کیس میڈیا پر اچھلے تو ملک صاحب اپنا اخبار نکال لیتے ہیں، صحافیوں کی زبانیں زیادہ چلنے لگیں تو اپنے آڑی اینکرز کو شو کرا دیتے ہیں۔ کوئی میڈیا گروپ آنکھیں دکھائے تو بحریہ ٹاؤن کے یہ لمبے لمبے اشتہار کروڑوں میں دے دیتے ہیں۔

کیس سپریم کورٹ آئے تو سپریم کورٹ بار کے صدر کو ہی اپنا وکیل کر لیتے ہیں۔ ایک فوجی نے اپنے حلف میں سوہنی دھرتی کی حفاظت کی قسم اٹھائی ہوتی ہے، تو ملک صاحب اسی اٹھائی گئی قسم کی ایکسٹینشن کرتے ہوئے ریٹائرڈ افسران کو اپنے ہاں ملک کے چپے چپے کی حفاظت کے لیے رکھ لیتے ہیں۔

وللہ ایسی دور اندیشی ایسی منصوبہ بندی! سوائے ڈی ایچ اے کوئی مقابل نہیں دور تک۔ محسوس ہوتا ہے کہ پاک بحریہ بھی تذبذب کا شکار ہے کہ بحریہ ٹاؤن میں خواہ مخواہ لگے اپنے نام پہ فخر کرے یا اس سے اظہار لاتعلقی فرما دے۔

ملک ریاض کی محفل میں کون ہے جو غزل سرا نہ ہوا۔ ملک صاحب زرداری کے عزیز دوست ہیں تو شریف خاندان کے بھی پکے ساتھی، چوہدری برادران بھی ملک ریاض کے قریبی سمجھے جاتے ہیں تو تحریک انصاف والے بھی ان کے پیارے ہیں۔ اور تو اور یہ ملک ریاض ہی کا دل گردہ تھا جو حیدرآباد میں الطاف بھائی کے نام سے یونیورسٹی بنانے کا نادر خیال پیش کیا بلکہ فیتہ تک کاٹ دیا۔ کوئی اور ایسا خطروں کا کھلاڑی ہے تو بتائیں۔

ملک ریاض کو بولی لگانی آتی ہے، چیز چاہے نیلامی کے لیے پیش کی گئی ہو یا نہیں، چیز چاہے خریدنے کے قابل بھی ہو یا نہیں، کوئی خود کو بازار میں برائے فروخت لایا یا نہیں، یا پھر کسی نے خود کو انمول سمجھ کر کوئی قیمت ہی نہ لگائی ہو۔ ملک ریاض وہ خریدار ہے جو قیمت خود طے کرتا ہے۔ وہ ایک ہی ملاقات، چھوٹی سی بات یا ڈھکی چھپی مناجات سے سمجھ جاتا ہے کہ کس کو کتنے دام میں خریدا جا سکتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ ملک ریاض کے پاس کامیابی کی کون سی گیدڑ سنگھی ہے؟

اس کا جواب بھی سوال میں چھپا ہے یعنی پہلے ’مال‘ پھر ’کامیابی۔‘ روئٹرز کو دیے ایک انٹرویو میں ملک ریاض کا کہنا تھا کہ ’اگر میں یہ بتا دوں کہ میں نے سب سے بڑی رشوت کتنے پیسوں کی دی تو آپ کو دل کا دورہ پڑ جائے گا۔‘

ملک ریاض ہمارے معاشرے کا آئینہ ہیں۔ وہ سیاست، فوج، میڈیا، بیوروکریسی سے لے کر عدلیہ تک سب کا چہرہ ہمیں بار بار دکھاتے ہیں۔ میرے خیال میں تو ملک ریاض کو اس ملک کی ’کرپشن مٹاؤ مہم‘ کا سربراہ بنا دیا جائے، سارے چور اندر ہوں گے۔ ملک صاحب نے تو ویسے بھی باہر ہی رہنا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر