تنازعات سے بھرپور افغان صدارتی انتـخابات کے نتائج کا حل کیا؟

موجودہ صدر ڈاکٹر اشرف غنی کے سیاسی حریف اور مخالف امیدوار ڈاکٹر عبد اللہ عبد اللہ اور بعض دیگر صدارتی امیدوارں نے نہ صرف انتخابی نتائج تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے بلکہ اس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے۔

28 ستمبر 2019 کو لی گئی اس تصویر میں  افغان انڈپینڈنٹ الیکشن کمیشن کی ایک عہدیدار  ہرات میں ووٹوں کی گنتی کر  رہی ہیں۔ (تصویر: اے ایف پی)

تقریباً چار دہائیوں سے مسلسل جنگ کی لپیٹ میں رہنے والے پڑوسی ملک افغانستان میں ستمبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات ایک مرتبہ پھر سے تضادات اور تنازعات کی زد میں ہیں، جس کا تاحال کوئی قابلِ قبول حل نظر نہیں آرہا۔

اس تنازع کی وجہ سے اگر ایک طرف ملک میں سیاسی بحران اور کشیدگی کی فضا تیزی سے بڑھتی جارہی ہے تو دوسری طرف خود افغان جمہوری نظام بھی ایک سوالیہ نشان بن کر رہ گیا ہے۔

افغانستان کے موجودہ صدر ڈاکٹر اشرف غنی کے سیاسی حریف اور مخالف امیدوار ڈاکٹر عبد اللہ عبد اللہ اور بعض دیگر صدارتی امیدواروں نے نہ صرف انتخابی نتائج تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے بلکہ اس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے۔ ڈاکٹر عبد اللہ عبداللہ اور ان کے حامیوں کی طرف سے ملک کے ان سات شمالی صوبوں میں ووٹوں کی گنتی زبردستی روک دی گئی ہے جہاں ان کا اثر و رسوخ زیادہ بتایا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ موجودہ افغان جمہوری سیاست میں پنجہ آزمائی کرنے والے حزب اسلامی کے رہنما اور صدارتی امیدوار گلبدین حکمت یار کے حامیوں کی طرف سے بھی دھاندلی کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

یہ بحران ایک ایسے وقت میں شدت اختیار کر رہا ہے جب امریکہ اور افغان طالبان کے مابین تین ماہ سے تعطل کا شکار امن مذاکرات کا عمل پھر سے دوحہ میں شروع ہوچکا ہے اور جس سے فریقین نے کافی ساری امیدیں بھی وابستہ کر رکھی ہے۔

تنازع کیسے پیدا ہوا؟

افغانستان میں 28 ستمبر کو صدارتی انتخابات کے لیے پولنگ ہوئی جس میں تقریباً 18 امیدواروں نے حصہ لیا، تاہم اصل مقابلہ موجود صدر ڈاکٹر اشرف غنی اور ان کے سیاسی حریف ڈاکٹر عبد اللہ عبد اللہ کے درمیان تھا۔

افغانستان میں دیگر انتخابات کے برعکس 2019 کے الیکشن میں طالبان کی طرف سے شدید حملے کیے گئے اور انتخابی عمل کو ناکام بنانے کی بھرپور کوشش کی گئی لیکن شدید خوف اور بے یقینی کے حالات کے باوجود افغان عوام نے انتخابی عمل میں بڑھ چڑ کر حصہ لیا جس کو دنیا بھر میں سراہا گیا۔ تاہم خوف اور تناؤ کے سائے پھر بھی چھائے رہے جس کے باعث انتخابات میں عمومی طور پر ووٹ ڈالنے کی شرح پہلے کے مقابلے میں انتہائی کم رہی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم اس تنازع نے اس وقت سر اٹھایا جب ڈاکٹر اشرف غنی کے ساتھ نائب صدارت کی نشست پر حصہ لینے والے امیدوار امر اللہ صالح نے ووٹوں کی گنتی کے دوران ہی الیکشن میں کامیابی کا دعویٰ کردیا۔ دوسرے روز ڈاکٹر اشرف غنی کی جانب سے بھی اسی قسم کی کامیابی کا دعویٰ دہرایا گیا جس پر مخالف امیدواروں کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا اور ان اعلانات کو دھاندلی سے تعبیر کیا گیا۔

افغان امور پر گہری نظر رکھنے والے سینئیر تجزیہ نگار طاہر خان کا کہنا کہ سب سے پہلی غلطی اشرف غنی اور ان کے حامیوں کی طرف سے ہوئی کیونکہ گنتی سے قبل ایسے بیانات دینا غیر ضروری تھا، جس سے جمہوری عمل خواہ مخواہ متنازع ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ’موجودہ حالات میں ایسا لگتا ہے کہ جیسے تمام معاملات ایک بند گلی میں داخل ہوچکے ہوں کیونکہ ہر طرف سیاسی عدم استحکام اور بے یقینی کی فضا ہے جو افغانستان کے لیے زہرِ قاتل سے کم نہیں۔‘

طاہر خان کا مزید کہنا تھا کہ اگر اس صورت حال میں نتائج کا اعلان کیا جاتا ہے تو عبد اللہ عبد اللہ اور دیگر امیدوار نہیں مانیں گے جس سے نہ صرف کشیدگی میں اضافہ ہوگا بلکہ غالب امکان ہے کہ اس میں لسانیت کے مسائل بھی سامنے آسکتے ہیں۔

حل کیا ہے؟

افغانستان میں گذشتہ تقریباً 15 سالوں میں تین مرتبہ صدارتی انتخابات کا انعقاد ہوا اور تینوں بار یہ عمل تنازعات اور مسائل کا شکار رہا۔ 2014 کے صدارتی انتخابات میں بھی دھاندلی کے الزامات لگے، اُس وقت بھی مقابلہ اشرف غنی اور عبد اللہ عبداللہ کے مابین تھا اور حالات اس وقت بھی ایسے ہی کشیدہ تھے لیکن بعد میں امریکہ کی مداخلت پر ایک فارمولے کے تحت قومی حکومت تشکیل دی گئی جس میں اہم فریقین کو برابر حصہ دیا گیا ۔

حالیہ الیکشن میں دھاندلی اور تنازعات کو روکنے کی خاطر پہلی مرتبہ بائیو میٹرک نظام متعارف کرایا گیا لیکن بظاہر یہ نظام بھی کامیاب ثابت نہیں ہوسکا کیونکہ تمام امیدواروں کی طرف سے نہ صرف ایک دوسرے پر وسیع پیمانے پر دھاندلی کے الزامات لگائے گئے بلکہ نتائج ماننے سے بھی انکار کردیا گیا۔

افغانستان کے امور پر نظر رکھنے والے سینئیر صحافی سمیع یوسفزئی کا کہنا ہے کہ افغانستان میں جمہوری نظام نیا نیا ہے اور ایسے میں یہاں صاف شفاف الیکشن کرانا اب ایک خواب ہی رہ گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ انتخاب میں نہ صرف ووٹنگ کی شرح کم رہی بلکہ سرفہرست دو امیدواروں کی طرف سے دھاندلی بھی کی گئی کیونکہ یہ اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔

ان کے بقول: ’جیسے پہلے یہ معاملہ افہام و تفہیم سے حل کرایا گیا اسی طرح موجودہ حالات میں بھی اس کا کوئی دوسرا حل نظر نہیں آرہا۔‘

کابل میں افغان خبر رساں ادارے اے آئی پی سے وابستہ صحافی محمد اسماعیل عندلیب کا کہنا ہے کہ کابل میں ایسے حالات پیدا کیے جا رہے ہیں کہ موجودہ صورت حال میں معاملہ بیلٹ کی بجائے مذاکرات سےحل کرایا جائے۔

ان کے مطابق: ’ جو امیدوار واویلا کر رہے ہیں، انہوں نے جیسے افغانستان کی نبض پر ہاتھ رکھا ہوا ہے کیونکہ انہیں اس بات کا ادراک ہے کہ احتجاج، لسانیت اور سیاسی عدم استحکام اس ملک کے لیے موت سے کم نہیں جبکہ زیادہ زور اسی پر دیا جارہا ہے۔‘

افغان انتخابات کا طریقہ کار

مختلف افغان ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حالیہ انتخابی عمل میں ڈاکٹر اشرف غنی کو 50 فیصد سے زیادہ ووٹ ملے ہیں لہذا ان کی جیت یقینی ہے تاہم سرکاری طور پر تاحال اس ضمن میں کچھ نہیں کہا گیا ہے۔

یاد رہے کہ افغان آئین کے مطابق پہلے مرحلے میں جیتنے والے امیدوار کے لیے 50 فیصد ووٹ حاصل کرنا لازم ہوتا ہے تاہم اگر مطلوبہ تعداد نہیں ملتی تو پھر الیکشن میں عمومی طور پر زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے دو امیدواروں کے درمیان دوسرے مرحلے کے لیے دوبارہ مقابلہ ہوتا ہے اور اس میں جو امیدوار زیادہ ووٹ حاصل کرتا ہے اسے کامیاب قرار دیا جاتا ہے۔

تاہم دوسری طرف اکثر مبصرین یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ اگر اس مرتبہ بھی انتخابات کا فیصلہ بیلٹ کی بجائے جرگے کے ذریعے سے ہوا تو پھر افغان جمہوری عمل کا مستقبل کیا ہوگا؟

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا