موٹر وے پر ہیوی بائیک کا عدالتی فیصلہ: ہارس پاور، عمر اور شرائط کیا؟

اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے اجازت کے بعد رواں برس یکم مارچ کو موٹر وے پولیس نے موٹر وے پر ہیوی بائیک چلانے کے شرائط و ضوابط عدالت میں جمع کروائی تھیں۔ 

موٹر وے پولیس حکام کے مطابق موٹروے پر ہیوی بائیک چلانے کے لیے بائیکرز کو سخت شرائط کا پورا کرنا ضروری ہوگا۔ (اے ایف پی)

اسلام آباد ہائی کورٹ نے موٹروے پر 600 سی سی موٹربائیکس چلانے کے عدالتی فیصلے پر 15 دسمبر تک ہر صورت میں عمل درآمد کا حکم دے دیا۔

عدالتی کارروائی کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے سوموار کو ریمارکس دیے کہ ’آئندہ اتوار تک عدالتی حکم پر عمل نہ ہوا تو آئی جی موٹروے کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کر کے گھر بھجوا دوں گا۔‘ انہوں نے کہا کہ عدالت نے ہیوی بائیکس چلانے کی اجازت کا جو حکم دیا اس پر مکمل عمل کریں۔‘

بائیکرز کے وکیل بابر ستار نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ معاملہ ابھی کا نہیں بلکہ گزشتہ برس کا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2011 میں موٹر وے پر ہیوی بائیک چلانے کی اجازت دی گئی تھی لیکن سابق آئی جی موٹر وے ذوالفقار چیمہ نے 2013 میں پابندی لگا دی جو کہ ابھی تک برقرار ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ برس بائیکر کلب نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور استدعا کی تھی کہ موٹر وے پر ہیوی بائیک چلانے کی اجازت دی جائے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے استدعا منظور کرتے ہوئے آئی جی موٹر وے کو ہدایات جاری کیں کہ بائیکرز کے لیے شرائط و ضوابط عدالت میں جمع کروائیں اور اجازت بحال کریں۔ بابر ستار نے کہا کہ ’موٹروے پولیس اس معاملے سستی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔‘ 

ہیوی بائیک کو اجازت میں تاخیر کی وجہ؟ 

وکیل بابر ستار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ موٹر وے پولیس نے عدالت میں یہ موقف اختیار کیا کہ بائیکرز ٹریفک رولز کی خلاف ورزی کرتے ہیں جو  ایکسیڈنٹ کی وجہ بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’پولیس کے مطابق حفاظتی اقدامات کے پیش نظر اجازت میں تاخیر سے کام لیا جا رہا ہے۔‘

موٹر وے پر ہیوی بائیکز چلانے کے شرائط و ضوابط:

اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے اجازت کے بعد رواں برس یکم مارچ کو موٹر وے پولیس نے موٹر وے پر ہیوی بائیک چلانے کے شرائط و ضوابط عدالت جمع کروائے تھے۔ 

موٹر وے پولیس حکام کے مطابق موٹروے پر ہیوی بائیک چلانے کے لیے بائیکرز کو سخت شرائط کا پورا کرنا ضروری ہوگا۔ موٹروے پولیس شرائط پر پورے اترنے والوں کو بائیکرز کارڈ جاری کرے گی۔ جن کے پاس موٹر وے کی جانب سے جاری کردہ کارڈز ہوں گے انہی کو موٹر وے پر ہیوی بائیک چلانے کی اجازت ہو گی۔ موٹر سائیکل کا لائسنس رکھنے والے کو بائیکر کارڈ کی اجازت ہو گی۔

نوٹیفیکیشن کے مطابق موٹر وے پر ہیوی بائیک چلانے کے لیے کم از کم عمر تیس سال ہونا ضروری ہے۔ موٹر وے پر ہیوی بائیک کی حد رفتار 110 کلومیٹر فی گھنٹہ ہو گی۔ موٹر وے پولیس حکام نے بتایا کہ ’موٹر وے پر ون ویلنگ اور ریس لگانے کی اجازت نہیں ہو گی۔ اور نہ ہی غروب آفتاب کے بعد ہیوی بائیک چلانے کی اجازت ہو گی۔‘

نوٹیفکیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ موٹروے پولیس بائیکرز کو قواعد و ضوابط کا پابند بنائے نیز معلومات کے لیے موٹروے انٹری پوائنٹس اورمختلف جگہوں پرسائن بورڈ لگائے جائیں۔ 

پیر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے موٹروے پر 600 سی سی یا اس سے ہیوی انجن کے موٹربائیکس چلانے کے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کیس کی سماعت کے دوران موٹر وے پولیس کے نمائندے کو مخاطب کر کے کہا کہ اب موٹروے پر نظر آنا چاہئیے کہ بائیکرز کو اجازت دے دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیفارم کے لوگ بھی عدالتی حکم نہیں مانیں گے تویہ ٹھیک نہیں ہے۔‘ 

موٹر وے ترجمان سے جب رابطہ کر کے سرکاری موقف جاننے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے معاملہ عدالت میں ہونے کی وجہ سے بات کرنے سے اجتناب کیا۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان