جنوبی افریقہ: نوجوان والدین سے چھپ کر ختنے کیوں کراتے ہیں؟

جنوبی افریقہ کے ’کھوسا‘ نامی قبیلے میں نوجوان ختنے کے لیے کسی ہسپتال نہیں جاتے۔

جنوبی افریقہ کے ’کھوسا‘ نامی ایک قبیلے میں روایت ہے کہ جب لڑکے جوان ہونے لگیں تو ان کا ختنہ کرایا جائے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس روایت سے لڑکے اپنی مردانگی کا ثبوت دیتے ہیں۔

یہ آپریشن ہسپتال میں نہیں ہوتا بلکہ گھروں میں غیر تربیت یافتہ ’سرجن‘ کرتے ہیں جس کی وجہ سے کئی لڑکوں کو انفیکشن ہو جاتا ہے جو بلآخر کئی لڑکوں کی موت کا باعث بن جاتا ہے۔

تاہم ان تمام مسائل کے باوجود لڑکے ختنہ کی اس روایت پر عمل کرتے ہیں۔ جنوبی افریقہ میں ختنہ کرانے کی قانونی عمر 18 سال ہے لیکن کئی لڑکے ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے والدین کی اجازت کے بغیر 13 سے 15 سال کی عمر میں ہی ختنہ کروا لیتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا