بس سروس بھی گئی، بی آر ٹی بھی نہ بنی: خواتین میلوں پیدل چلنے پر مجبور

پشاور میں بی آر ٹی بنی نہیں اور پرانی بس سروس بھی تقریباً ختم ہو چکی ہے ایسے میں پچھلے دو برس سے کئی شہریوں کو روازنہ طویل راستہ پیدل طے کرنا پڑ رہا ہے جن میں بڑی تعداد خواتین کی ہے۔

متاثرہ افراد کو یا تو میلوں پیدل چلنا پڑتا ہے یا پھر مجبوراً یلو کیب، اوبر اور کریم کا استعمال کرنا پڑتا ہے جو کافی مہنگی سواریاں ہیں۔(تصویر: انیلا خالد)

خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے گذشتہ دور حکومت میں شروع کیے جانے والا میٹرو منصوبہ (بی آر ٹی)  گذشتہ ڈھائی برس سے مکمل نہیں ہو پایا ہے جب کہ پشاور شہر میں چلنے والی پرانی بس سروس بھی کسی حد تک بند ہے جس کے نتیجے میں شہریوں کو کوئی سستی سواری کی سہولت میسر ہی نہیں ہے۔

پشاور میں پہلے سے چلنے والی بس سروس شہر کے سب سے مصروف روٹ یعنی حیات آباد سے حاجی کیمپ اڈے تک چلتی تھی، جو بی آر ٹی کی وجہ سے بہت محدود ہو گئی ہے۔

اس روٹ پر یونیورسٹیوں، کالجوں کے علاوہ ہسپتال وغیرہ آتے ہیں جہاں لوگوں کی بڑی تعداد کا روزانہ کی بنیاد پر آنا جانا رہتا ہے جب کہ اس صورتحال سے متاثر ہونے والوں میں خواتین کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔

ان متاثرہ افراد کو یا تو میلوں پیدل چلنا پڑتا ہے یا پھر مجبوراً ییلو کیب، اوبر اور کریم کا استعمال کرنا پڑتا ہے جو کافی مہنگی سواریاں ہیں۔

2017 میں ریپیڈ بس ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے آغاز کے بعد صوبائی حکومت نے نئی بس سروس کے فنکشنل ہو جانے پر پرانی بسوں کو مالکان سے خرید کر انہیں سکریپ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔ تاہم اس حکومتی قدم سے پہلے ہی بسوں کی تعداد دن بہ دن گھٹتی گئی۔ جس کی ایک بڑی وجہ بی آر ٹی منصوبے پر کام کے دوران راستوں میں رکاوٹوں کا ہونا بتایا جا رہا ہے۔

حاجی کیمپ سے حیات آباد تک 22 سال بس چلانے والے ایک ڈرائیور امجد خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ خود انہوں نے بھی بس چھوڑ کر ٹیکسی چلانا شروع کر دی ہے کیوں کہ نہ صرف سڑکوں پر رکاوٹیں بڑھ جانے سے بس مالکان کو خسارہ ہونے لگا ہے بلکہ کئی ڈرائیوروں کو اپنا مستقبل تاریک نظر آنے پر خود ہی اس نوکری  کو خیرباد کہنا پڑا۔

’مثال کے طور پر اگر ابتدا میں  چار سو بسیں چلتی تھیں تو آج کل ان کی تعداد 50  بھی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب لوگوں کو مین سڑکوں پر بھی گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں  نے پانچ سال قبل کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے  بتایا کہ تب حیات آباد کی ہر گلی کے نکڑ پر لوگ بسوں کا انتظار کر رہے ہوتے تھے جن میں مردوں سے زیادہ خواتین ہوتی تھیں۔ ’وجہ یہ تھی کہ بسوں کا کرایہ بھی کم تھا، اور خواتین گھر کے پاس ہی باآسانی اس میں بیٹھ جاتی تھیں۔ اس کے علاوہ انہیں گاڑی بدلنے کی ضرورت بھی کم ہی پیش آتی تھی۔ کیونکہ یہ بس پورے پشاور کے گرد چلتی تھی۔‘

پرانی بس سروس حیات آباد کے علاقے سے ختم ہونے پر جہاں اور بہت سی خواتین متاثر ہوئی ہیں ان میں ایک سائرہ اقبال بھی ہیں۔ جو پچھلے دو سال سے روزانہ فیز تھری سے جمرود روڈ  بس سٹاپ  تک تین کلو میٹر پیدل چلتی ہیں اور اسی طرح واپسی پر انہیں دوبارہ تین کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا  پڑتا ہے۔

’میں خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں نرس ہوں۔ روزانہ ٹیکسی میں جانا میری استطاعت سے باہر ہے۔ لہذا سوائے پیدل چلنے کے میرے پاس کوئی دوسرا حل نہیں ہے۔ مردوں کے لیے پھر بھی آسانی ہے کیونکہ آج کل ٹیکسی سٹینڈ پر چار مختلف لوگ ایک ٹیکسی میں بیٹھ جاتے ہیں۔‘

سائرہ اقبال نے مزید کہا کہ ’چونک چار مرد آرام سے ایڈجسٹ ہو جاتے ہیں اور انہیں کرایہ بھی کم دینا پڑتا ہے اور ٹیکسی ڈرائیور بھی زیادہ تر مرد سواریوں کو ہی ترجیح دیتے ہیں کیونکہ اگر بیچ میں کوئی اتر جائے تو کسی اور سواری کو بٹھا لیتے ہیں۔‘

انڈپینڈنٹ اردو نے یونیورسٹی روڈ سے تہکال تک تمام بس سٹاپوں پر جب مختلف خواتین خصوصاً طالبات سے ان کی روزانہ آمد و رفت کے بارے پوچھا تو جواباً انہوں نے بتایا کہ پچھلے ڈیڑھ دو سال سے انہیں مرکزی شاہراہوں پر بھی کم سے کم 20 سے 30 منٹ بس کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔  جب کہ اس دوران انہیں مردوں کی گھورتی نگاہوں کی اذیت الگ برداشت کرنا ہوتی ہے۔

موجودہ صورتحال کے بارے میں جب وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی سے پوچھا گیا کہ بی آر ٹی تو نہ جانے کب مکمل ہوگی لیکن کیا ان کی حکومت خواتین کے لیے کچھ ایسا ارادہ رکھتی ہے جس کی وجہ سے عارضی طور پر ہی سہی ان کا یہ مسئلہ حل ہو جائے؟ تو انہوں نے بتایا کہ اس وقت فوری طور پر کچھ نہیں کیا جا سکتا۔

’عوام نے جہاں اتنا صبر کر لیا ہے تھوڑا اور کر لیں۔ نئی بس سروس سے خواتین کو ریلیف مل جائے گا۔‘

ان سے دوبارہ سوال کیا گیا کہ پنک بس جو کہ دوسرے اضلاع میں ناکام ہو چکی ہے، کیا حکومت اس کو ہی پشاور میں متعارف نہیں کروا سکتی، کیوں کہ یہاں خواتین کی زیادہ تعداد گھروں سے نکلتی ہے اور ویسے بھی ابتدا میں کچھ بسیں تو پشاور کے لیے بھی مختص تھیں، ان کا کیا ہوا؟ اس کے جواب میں وزیر اطلاعات نے اپنی بات دہراتے ہوئے کہا کہ ’بی آر ٹی کی تکمیل میں بہت کم عرصہ رہ گیا ہے جب کہ پنک بسیں لیز پر دی گئی ہیں لہذا ان کے بارے میں تب ہی سوچا جائے گا جب اس ٹھیکے کی مدت ختم ہوگی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان