کروڑوں روپے کاجعلی ٹیکس ریفنڈ، وفاقی ٹیکس محتسب کا سو موٹو

وفاقی ٹیکس محتسب کی ایف بی آر کو ملوث افسران کے خلاف کارروائی کرنے کی سفارش

ایف بی آر نے ملوث ٹیکس ملازمین و دیگر  محکموں کے افراد کے خلاف کارروائی نہیں کی: وفاقی ٹیکس محتسب(اے ایف پی)

وفاقی ٹیکس محتسب (ایف ٹی او)نے سوموٹو  اختیارات کا استعمال کرکے ایف بی آر کو ہدایات دی ہیں کہ 2011-2014 کے دوران کروڑوں روپے کےجعلی ٹیکس ریفنڈ جاری کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔

ایف ٹی اوکی رپورٹ کے مطابق ایف بی آر کی ڈائریکٹریٹ جنرل آئی اینڈ آئی ان لینڈ ریونیو کی ایف بار آر کی متعلقہ فیلڈ فارمیشنز کو واضح ریڈ الرٹ جاری کرنے کے باوجود نہ جعلی ری فنڈ حاصل کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی گئی اور نہ ان ایف بی آر افسران کے خلاف کارروائی ہوئی جنہوں نے یہ ریفنڈ کلیم پروسیس  کیے اورری فنڈ چیک جاری کیے۔

اس کے علاوہ ان بینک افسران کے خلاف کارروائی بھی نہیں ہوئی جنہوں نے وہ اکاؤنٹس کھولنے میں مدد دی، جس کے ذریعے یہ چیک ڈرا کیے گئے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایف ٹی اوکی رپورٹ کے مطابق جعلی افراد کی رجسٹریشن  کرنےکے  بعد ایف بی آر سٹاف کو ملوث کرکے جعلی واؤچرز پر ریفنڈ حاصل کیے گئے جس کی وجہ سے قومی خرانے کو کروڑوں کا نقصان  ہوا۔

اگر چہ ڈائریکٹریٹ جنرل آئی اینڈ آئی کی طرف سے ریڈ الرٹ تو جاری کیے گئے لیکن ایف بی آر  انتظامیہ نے  صرف جعلی افراد کو بلیک لسٹ کرنے پر اکتفا کیا اور کروڑوں کی رقم کی واپسی کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔

ایف بی آر انتظامیہ نے اندرونی اور بیرونی ملوث عناصر کی نشاندہی کے لیے  کوئی کوشش نہیں کی۔

وفاقی ٹیکس محتسب رپورٹ میں واضح کیا گیا  کہ ڈائریکٹریٹ جنرل آئی اینڈ آئی کے اتنے اہم  ٹیکس چوری کے خلاف اقدام کے باوجود ایف بی آر  افسران کی غفلت اوردانستہ طور پر دی گئی چھوٹ ٹیکس معاملات میں شفافیت پر سوالیہ نشان ہیں ۔

ایف ٹی او کی طرف سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں مزید کہا گیا  کہ چیف کمشنر ریجنل ٹیکس آفس تھری کراچی نے یہ کہہ کر خود کو بری الذمہ کرنے کی کوشش کی کہ ریکارڈ میں ریڈ الرٹ لیٹر موجود نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت