جنرل سلیمانی کے بعد عراق سب سے زیادہ کشیدہ صورت حال کا شکار

عراق کا کہنا ہے کہ امریکہ نے اسے قاسم سلیمانی پر حملے سے قبل آگاہ نہیں کیا تھا جس سے ان کی خودارادیت چیلنج ہوئی ہے اور امریکہ مخالف جذبات بڑھے ہیں۔

عراقی شہر نجف میں ایران امریکہ تنازع میں عراق کو شامل کرنے کے خلاف  احتجاج کرنے والے شخص نے عراق کا جھنڈا اٹھایا ہوا۔ (تصویر: اے ایف پی)

ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد کی انتہائی کشیدہ صورت حال میں سب سے زیادہ کس ملک کو نقصان اٹھانے کا اندیشہ ہے؟ پاکستان؟ افغانستان یا خلیجی ممالک؟ نہیں ان میں سے ایک بھی اس حساس کیفیت کے قریب نہیں جتنا کہ عراق ہے۔

افغانستان کی طرح کئی پراکسی جنگوں کا میدان بنے عراق کی انتظامیہ یہ دعا کر رہی ہے کہ ملک میں جاری جنگوں کے علاوہ وہ ایک نئی جنگ کا متحمل کسی صورت نہیں ہوسکتا۔ امریکہ اور ایران کی تازہ کشیدگی میں عراق نے پھر ایک فرنٹ لائن ملک کی حیثیت بدقسمتی سے حاصل کر لی ہے۔

عراق نے 2003 کی امریکی مداخلت کی بعد سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان توازن قائم رکھنے کی سرتوڑ کوشش کی ہے۔ 2018 میں منتخب ہونے والے عراقی صدر برہام صالح نے امریکی جریدے نیو یارکر کو بتایا کہ ’امریکہ ہمارا اتحادی ہے جبکہ ایران ہمسایہ‘۔ عراق کا کہنا ہے کہ امریکہ نے اسے قاسم سلیمانی پر حملے سے قبل آگاہ نہیں کیا تھا جس سے ان کی خودارادیت چیلنج ہوئی ہے اور امریکہ مخالف جذبات بڑھے ہیں۔

328 اراکین پر مشتمل عراقی پارلیمان نے اتوار کو سنی اور کرد اراکین کی غیرموجودگی میں 170 حمایت میں اور صفر مخالفت کے ووٹ سے ’ملک سے غیرملکی افواج کو نکالنے اور عراقی فضائی حدود، سرزمین اور پانیوں کے استعمال کو روکنے کا مطالبہ کیا‘ ہے۔ وزیر اعظم عادل عبدالمہدی کی توثیق کے بغیر اس پر عمل درآمد نہیں ہوسکتا ہے۔ اگرچہ اس قرار داد کی تحریر انہوں نے ہی کی تھی لیکن وہ نومبر میں استعفے کے بعد سے نگران وزیر اعظم کی حیثیت سے حکومت چلا رہے ہیں۔  

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکہ کے عراق میں پانچ ہزار دو سو فوجی داعش کے خلاف سرگرم بین الاقوامی اتحاد کی قیادت اور عراقی فوجیوں کی تربیت کر رہے ہیں۔ ایران کی جانب سے انتقام کے اعلان کے بعد امریکہ نے عراق میں اپنی سفارتی و عسکری سرگرمیاں روک دی ہیں۔

برطانیہ سے پڑھے ہوئے برہام صالح کا کہنا ہے کہ مشرق وسطی کو آخری چیز جو چاہیے وہ ہے جنگ، خصوصا جب داعش کے خلاف جنگ حتمی طور پر ابھی ختم ہونا باقی ہے۔ ’جنگ شروع کرنا انتہائی آسان ہے لیکن یہ خطہ ایک اور تنازع برادشت نہیں کر سکتا ہے۔ بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔‘

عراق مشرق وسطی کے تنازعات سے پچھلے 40 سال سے گزرتا آ رہا ہے۔ غیرملکی پراکسیاں چلتی رہی ہیں۔ معیشت کا برا حال ہے ایسے میں حکومت کے بیرونی سرمایہ کاری کے خواب خواب ہی رہنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عراق کو اس کے فوجیوں کو نکالنے کے جواب میں بطور سزا معاشی پابندیوں کی دھمکی دی ہے۔ ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اس ملک پر ’ایسی پابندیاں عائد کرے گا جو اس نے کبھی نہ دیکھی ہوں گی‘۔

تاہم جرمنی جیسے اتحادی سمجھتے ہیں کہ امریکی دھمکی ’زیادہ مددگار‘ ثابت نہیں ہو گی۔ جرمن وزیر خارجہ ہائکو ماس نے کہا کہ ان کے خیال میں بغداد کو دھمکیوں سے نہیں وجوہات سمجھانے سے قائل کیا جاسکتا ہے۔

عراق میں داعش کمزور ہوئی ہے ختم نہیں، ان کی باقیات جن میں جنگی قیدی اور ان کے اہل خانہ شامل ہیں سے نمٹنا ابھی باقی ہے۔ مشرق وسطی میں کئی عسکریت پسند تنظیمیں موجود ہیں۔ عراقی ابھی استحکام سے بہت دور ہے اور نئی جنگ اسے مزید پیچھے دھکیل سکتی ہے۔

عراق میں مزید امریکی فوجیں

جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت سے پہلے بغداد میں امریکی سفارت خانے پر عراقی مظاہرین کے حملے کے بعد امریکی وزارت دفاع (پینٹاگون) نے 750 اضافی فوجی فوری طور پر عراق روانہ کر دیی تھیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے ایک بیان میں اس پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے پینٹاگون کو فوری طور پر 82 ویں ایئر بورن ڈویژن کی امیجیٹ رسپانس فورس کی انفینٹری بٹالین کی تعیناتی کا اختیار دیا تھا۔

گزشتہ روز عراقی پارلیمان نے حکومت سے سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ملک میں موجود ہزاروں امریکی فوجیوں کو نکالنے کے لیے اقدامات کرے۔  پارلیمنٹ کے سپیکر محمد ہلبسی نے اعلان کیا تھا کہ پارلیمنٹ نے حکومت کی جانب سے داعش کے خلاف لڑائی میں عالمی اتحاد کی مدد کی درخواست واپس لینے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا