’یا اللہ مجھے طارق جمیل سے ملادے‘

شہنشاہ شاہ جہاں نے سترہوں صدی میں جب موتی مسجد کو تعمیر کروایا ہوگا تو ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا کہ ان کے بعد سفید سنگ مرمر سے بنی اس خوبصورت مسجد کے درودیوار پر جابجا ہاتھ سے لکھی ہوئی تحریریں نظر آئیں گی۔

شاہی قلعے سے ملحقہ اپنی عظمت رفتہ کا پتہ دیتی اس مسجد کے تین گنبد ہیں اور یہ پانچ محرابوں پر مشتمل ہے۔(تصاویر: جویریہ حنا)

بچوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہیں جس کام سے منع کیا جائے، وہ اسی میں ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پاکستانی قوم بھی اپنی فطرت میں شاید ایک ’بچہ‘ ہی ہے، جسے اگر کہیں پر کچرہ پھینکنے سے روکا جائے، تو اسی جگہ پر کچرے کا انبار نظر آئے گا۔ کہیں پان، گٹکا تھوکنے سے روکا جائے تو وہیں دیوار پر آپ کو سرخ سرخ نقش و نگار نظر آئیں گے اور جہاں درج ہو کہ ’یہاں لکھنا منع ہے،‘ وہیں پر آپ کو دنیا جہاں کی داستانیں لکھی ہوئی نظر آئیں گی۔

حد تو یہ ہے کہ ہم نے عبادت کے لیے قائم کی گئیں مساجد بھی نہیں چھوڑیں۔ لاہور میں واقع قدیم موتی مسجد کی دیواریں بھی پاکستانی قوم کے ’جذبات‘ اور ’خواہشات‘ کی ترجمانی کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شہنشاہ شاہ جہاں نے سترہویں صدی میں جب موتی مسجد کو تعمیر کروایا ہوگا تو ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا کہ ان کے بعد سفید سنگ مرمر سے بنی اس خوبصورت مسجد کے درودیوار پر جابجا ہاتھ سے لکھی ہوئی تحریریں نظر آئیں گی، جو کسی بھی طرح خوبصورتی کا تاثر نہیں دیتیں۔

شاہی قلعے سے ملحقہ اپنی عظمت رفتہ کا پتہ دیتی اس مسجد کے تین گنبد ہیں اور یہ پانچ محرابوں پر مشتمل ہے۔

کہتے ہیں کہ مغلوں کے زوال کے وقت جب سکھوں نے لاہور پر قبضہ کیا تو انہوں نے اس مسجد کو مندر میں تبدیل کرکے اس کا نام ’موتی مندر‘ رکھ دیا۔ رنجیت سنگھ کے حکم پر لوٹ مار اور سالانہ واجبات کی وصولی سے حاصل کی جانے والی رقوم یہاں رکھی جاتی تھیں۔ بعدازاں انگریز دور میں یہ مسجد مسلمانوں کے حوالے کر دی گئی۔

لیکن اس کے بعد سے اب جو اس کا حال ہے، وہ بتانے نہیں بلکہ دیکھنے کے لائق ہے۔ مسجد کی دیواروں پر تحریر کچھ عبارتیں آپ بھی دیکھیے:

کسی نے اچھے یا ’من پسند‘ رشتے کی چاہ میں اپنے نام لکھ رکھے ہیں۔


تو کسی کو اولاد کی خواہش ہے۔

کوئی معروف عالم دین اور مبلغ مولانا طارق جمیل سے ملاقات کا خواہش مند ہے۔

کسی کو امتحان میں اچھے نمبر چاہییں تو کسی نے اپنی پریشانیوں کے خاتمے کے لیے مسجد کی دیوار پر پیغام لکھ چھوڑا۔

آخر میں مسجد کے خواتین والے حصے میں ایک دیوار پر رکھی تختی ملاحظہ کیجیے، جہاں واضح طور پر لکھا ہے کہ ’مسجد کی دیواروں پر لکھنا سخت گناہ ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی تصویر کہانی