موجودہ حالات میں راستے کیا ہیں؟

اٹھارویں ترمیم ایک اہم کوشش تھی کے موجودہ آئین کو قابل عمل بنایا جائے مگر وہ بھی کوئی بہتری پیدا نہیں کر سکی اس لیے ایک اور ایسی کوشش بھی کارآمد نہ ہو گی۔

(اے ایف پی)

جب سے ہم نے نئی عوامی جمہوریہ کی تحریک شروع کی تو کئی اور تجاویز بھی پیش کی گئیں۔ چیف جسٹس صاحب نے تجویز کیا کے تمام اداروں کے درمیان مذاکرات ہونے چاہیے۔ میاں شہباز شریف نے پہلے تجویز دی کہ معیشت کا چارٹر ہونا چاہیے اور اس کے بعد پینترا بدلا اور قومی حکومت کی تشکیل کی بات شروع کر دی جس پر وہ اب تک قائم ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے نئے الیکشن کا مطالبہ کیا اور اب تک اس پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ بظاہر ان کے ساتھ اس بات کا وعدہ کیا گیا ہے کے جلد ایسا ہوگا۔ میں نے ان میں سے کسی ایک بھی تجویز کی حمایت نہیں کی جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ موجودہ جمہوریہ کی ساخت بدلے بغیر ہمارے مسائل حل نہیں ہو پائیں گے۔ اس لیے کسی ایسی تجویز کی حمایت کرنے کا کیا فائدہ جس سے مسائل کی جڑ نہ اکھاڑی جا سکے۔

اس حکومت کے شروع کے مہینوں میں ہی حکومت چلانے کی صلاحیت کے بارے میں سوال اٹھائے جانے لگے۔ عمران خان خود کرپشن نہ کرتے ہوں اس لیے کہ انہیں پیسہ کی چاہ نہیں ہے لیکن وہ اپنے اردگرد موجود کرپٹ لوگوں کو مبینہ طور پر مکمل تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ بی آر ٹی منصوبہ اس کی ایک مثال ہے۔ ان کے دور کی کرپشن لوگوں کو شاید بعد میں پتہ چلے گی۔ پچھلے سال مارچ میں میں نے یہ تجویز دے تھی کے عمران خان خود ہی پیچھے ہٹ جائیں اور اپنی ہی پارٹی کے کسی اور شخص کو وزیر اعظم نامزد کر دیں تا کہ کم از کم حکومت کا کام تو چلنا شروع ہو۔

اگر آپ یاد کریں آزادی مارچ کے دنوں میں ایک دفعہ پھر یہی تجویز دہرائی مگر اب میں سمجھتا ہوں ان ہاؤس تبدیلی سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ خرابی اتنی زیادہ ہو چکی ہے کہ اب واحد حل شاید یہی ہے کے نئی جمہوریہ کی تعمیر کے لیے مذاکرات کی ٹیبل لگے جس میں ہمارے ساتھ تمام پارٹیوں کے نمائندے موجود ہوں۔ لیکن وہ نمائندے جو پارٹی حکمرانوں کے ملازم نہ ہوں کیونکہ ایسے لوگوں سے ہم مذاکرات کرنے کو بالکل تیار نہیں ہیں۔ اس لیے کہ وہ صرف چند لوگوں کے مفادات کو تحفظ دیں گے اور سارا عمل ناکام ہو جائے گا۔

جب نئی جمہوریہ کے مذاکرات ہوں تو پہلا سوال جس پر بات ہو وہ ایک عبوری حکومت کی تشکیل ہو جو اس دوران اپنا کام کر سکے۔ پارلیمان بھی اپنا کام کرتی رہے اور اس عبوری حکومت پر نظر رکھے۔ 

اب تک تین اہم سیاسی جماعتوں کے انتہائی سینیئر سیاستدانوں نے مجھ سے رابطہ کر کے نئی جمہوریہ کی تعمیر کے مذاکرات کی حمایت کا عندیہ دیا ہے۔ میں نے ان سے درخواست کی ہے کے اپنی پارٹیوں کے دوسرے سینیئر لوگوں سے بھی مشاورت کریں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سپریم کورٹ کے ایک وکیل اور بار ایسوسی ایشن کے پرانے سربراہ نے ایک پیغام میں یہ بات اٹھائی کے نئے جمہوریہ کی تعمیر کرنے کی بجائے موجودہ آئین کو بہتر کیا جائے۔ میں نے ان کی خدمت میں عرض کیا کہ جمہوریہ صرف آئین کا نام نہیں ہے بلکہ اس کے تحت قائم ادارے بھی اس کے اندر آتے ہیں۔

اٹھارویں ترمیم ایک اہم کوشش تھی کے موجودہ آئین کو قابل عمل بنایا جائے مگر وہ بھی کوئی بہتری پیدا نہیں کر سکی اس لیے ایک اور ایسی کوشش بھی کارآمد نہ ہو گی۔ موجودہ آئین اور اس کے تحت قائم جمہوریہ میں کچھ ایسی بنیادی خامیاں ہیں جو درست نہیں ہو سکتی ہمیں اب اس بات کو سمجھ لینا چاہیے۔

اگر سوڈان، الجیریا، روس، فرانس اور جرمنی نئی جمہوریہ بنا سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں جبکہ ان کے حالات ہم سے کئی گنا زیادہ خراب تھے۔ 

میں آپ سب سے یہ درخواست کرتا ہوں کے آگے آئیں تاکہ امن اور سلامتی کے ساتھ ہم اس ملک کو ٹھیک کر سکیں۔ اگر ہم اس میں ناکام رہے تو پھر اگلا مرحلہ خونی انقلاب کا ہوگا جس کے ذمہ دار ہم سب ہوں گے۔

-----

نوٹ: ادارہ اس قسم کی تحاریر بحث مباحثے کو آگے بڑھانے اور مختلف تجاویز پر بحث کے لیے شائع کرتا ہے۔  

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ