ایک بار جو وکیل بن گیا ۔ ۔ ۔

آج ہم آپ کو بارسلونا کے چند وکیلوں سے ملواتے ہیں جو ایک لحاظ سے صرف نام کے وکیل ہیں۔

راجہ نامدار اقبال خان (عرفان مجید)

یہ گذشتہ سے پیوستہ بارسلونا ڈائری کے صفحات ہیں۔

آپ نے یہ تو سُن رکھا ہو گا کہ ایک بار جو وکیل بن گیا وہ کسی اور کام کا نہیں رہتا مگر جن وکلا کا یہ قصہ ہے وہ علمی طور پر وکیل ہیں لیکن عملی طور پر کامیاب بینکر، سماجی رہنما اور تاجر ہیں۔

رِیپوئی کاتالونیہ کا اپنی خوبصورتی میں یکتا گاؤں ہے۔ یہاں رِیبیس دے فریسیر کی وادی ہے جہاں کا پانی ہسپانیہ بھر میں مشہور ہے۔ رِیپوئی کی دوسری اور ساڑھے 12 کلومیٹر لمبی وادی نُوریا ہے جس کی چوٹی پر تین اطراف برفانی ٹیلے اور پہاڑ ہیں اور گود میں مشہور نُوریا ہوٹل ہے جو کبھی کلیسا تھا۔ یہاں کاتالونیہ کے بلند ترین ٹریکس میں سے ایک ٹریک ہے۔ 1931 سے بذریعہ زنجیر کھینچی جانی والی ریل کی پٹری کے ساتھ ساتھ چلتا یہ ٹریک سطح زمین سے وادی کی چوٹی تک 60 ڈگری پر بلند ہوتا 45 منٹ میں دائیں بائیں، آبشاروں، پہاڑوں، سنگلاخ چٹانوں کے جلو میں سیاحوں کو لیے چوٹی پر پہنچتا ہے۔ اوپر ٹیلی فیرک اور برف پر سکیٹنگ کے راستے بنے ہیں۔ کاتالونیہ جو آئے اور نُوریا کی سیر کیے بغیر واپس چلا جائے، بہتر ہے وہ کوئی اور منزل تلاش کرے۔

پہلے بارسلونا میں آباد ہوئے پھر راجہ محمد اقبال خان (مرحوم) آف منجوال، آزاد کشمیر، ماہر اقبالیات، اور تعلیم کے ایسے دلدادہ کہ اپنے خاندان کو لے کر بارسلونا سے قریباً سو کلومیٹر دور کاتالونیہ کے صوبہ خیرونا کے اس گاؤں ریپوئی میں مقیم ہو رہے تاکہ اُن کے بچے ہسپانوی ثقافت میں رہ کر معاشرتی اقدار سیکھیں۔ اُن کے منجھلے بیٹے راجہ نامدار اقبال خان نے جامعہ خیرونا سے وکالت میں سند حاصل کی۔ پھر اُن کی زندگی میں موڑ آیا اور  بینکنگ جرائم، منی لانڈرنگ میں دو تین ماسٹرز کیے اور کاتالونیہ کے صوبائی بینک لاکایشا کے ساتھ منسلک ہو گئے۔

وہ پاکستانی کشمیری کمیونٹی کے جانے پہچانے سماجی رہنما ہیں۔ بین الاقوامی کشمیر امن فورم ہسپانیہ کے باب کے صدر ہیں۔ یہ فورم مشہور کشمیری رہنما اور سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی زیر سرپرستی یورپ اور امریکہ میں فعال ہے۔ بین الاقوامی سطح پر مسئلہ جموں و کشمیر کو اُجاگر کرنے میں راجہ نامدار اقبال خان سرگرم رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ کاتالان مقامی آزادی پسند سیاسی جماعت ای آر سی کے ممبر بھی ہیں۔ تمام مصروفیات کے جُھرمٹ میں ’نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں‘ والی زندگی بسر کر رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

میاں ضیا احمد، 1996 میں صوبہ اندلس کے ایک قصبہ لیناریس میں مقیم ہوئے (اگر کسی پرانے پاکستانی سے پُوچھا جائے تو وہ قصبے کا نام لینارے بتائے گا)۔ قانونی اور مالی استحکام نصیب ہوا تو بیوی بچوں کو بھی بلا لیا۔ اُن کے بیٹے بیرسٹر فہیم ضیا کو لے لیجیے۔ اُنھوں نے جامعہ کومپُیلٹینس میڈرڈ سے وکالت کی سند حاصل کی۔ پھر ماسٹرز جامعہ بارسلونا سے اور ایل ایل ایم کرنے کنگز کالج لندن تک جا پہنچے۔ وہاں وہ عالمی فنانس کے نظام پر تحقیق کرتے رہے ہیں۔

بارسلونا واپس آ کر بطور پیشہ کُچھ عرصہ وکالت کی مگر دل نہ لگ سکا۔ انھوں نے فیصل آباد تا بارسلونا کپڑے کی تجارت میں امان پائی۔ یہ معمہ اپنی جگہ کہ انسان نے جب پہلا کھانا کھایا تو وہ ملبوس تھا یا نہیں۔ انسان کی لباس سے متعلق حِس یہی بتاتی ہے کہ انسان نے کپڑا زیب تن کر کے ہی کھانا کھایا ہو گا۔  قانون کے اعلیٰ ترین مدارج طے کرنے کے بعد نجانے اُن کے من میں کیا سمایا کہ وہ درآمدات اور برآمدات کے ساتھ مُنسلک ہو گئے یعنی ایک وکیل تمام تا اعلیٰ اعزازات کے ساتھ باقاعدہ کپڑے کی صنعت سے لُطف لے رہا ہے۔

پھر ہر وقت مسکراتے رہنے والے وکیل صاحب ہیں جن کا نام ہے چوہدری توقیر طاہر وڑائچ۔  اُن کے والد چوہدری محمد طاہر وڑائچ کے تین بیٹوں میں یہ وکیل صاحب سب سے چھوٹے ہیں اور ہسپانیہ میں سماجیات میں صفِ اوّل کے کھلاڑی ہیں۔ پاک فیڈریشن ہسپانیہ کے جوانان کے روحِ رواں ہیں۔

آپ نے چوہدری ہونے کی وجہ سے بارسلونا مرکز میں مہنگا سا دفتر شفتر بنا تو رکھا ہے مگر اُن کی سماجی مصروفیات دیکھ کر بندہ وثوق سے کہہ سکتا ہے کہ وکالت والی ’ہن اوہ گل نہیں رہی‘۔ توقیر نے جامعہ آٹو نومس بارسلونا سے قانون کی سند حاصل کی۔ زمانہ طالب علمی سے مسلمان طلبہ کی تنظیم کے جنرل سیکرٹری رہے۔ بین المذاہب ہم آہنگی اُن کا موضوع ہے اور جا بجا مختلف قومیتوں اور مذاہب کے درمیان مکالمہ کو فروغ دیتے پائے جاتے ہیں۔

اصل یہ ہے کہ جن پاکستانی والدین نے محنت کے ساتھ اپنے بچوں کی ہسپانوی ثقافتی انداز میں پرورش کی وہ سُرخرو ہیں اور مطمئن بھی کہ پاکستان ان اہلِ علم کی نسبت سے ہسپانیہ اور بالخصوص بارسلونا میں آباد ہے۔ یہ دعویٰ بھی کھوکھلا ہی نکلا کہ پاکستانی یہاں صرف پیسہ بنانے آئے تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی