صنعت کے اعداد و شمار کے مطابق، دسمبر میں انڈین کارساز کمپنیوں کی ڈیلرز کو فروخت کی گئی گاڑیوں میں 26.8 فیصد اضافہ ہوا، جو 2025 کی سب سے بڑی ماہانہ بڑھوتری ہے۔
ٹیکس میں کمی کے باعث کئی ماڈلز سستے ہوئے جس سے طلب میں اضافہ ہوا۔
سوسائٹی آف انڈین آٹوموبائل مینوفیکچررز (ایس آئی اے ایم) کے مطابق، 2025 کے آخری مہینے میں کارساز کمپنیوں نے 3,99,216 یونٹس فروخت کیے۔ پورے سال کے دوران فروخت میں تقریباً 5 فیصد اضافہ ہوا، جو 2024 کی 4.2 فیصد شرح نمو سے زیادہ ہے۔
ستمبر میں حکومت کی جانب سے ٹیکس میں کمی کے بعد ملک میں کاروں کی فروخت میں تیزی آئی ہے۔ اس اقدام کے تحت 1,500 سی سی سے زیادہ انجن والی سپورٹس یوٹیلیٹی گاڑیوں (ایس یو ویز) پر ٹیکس 50 فیصد سے کم کر کے 40 فیصد کر دیا گیا، جبکہ چھوٹی کاروں پر ٹیکس 28 فیصد سے گھٹا کر 18 فیصد کر دیا گیا۔
اکتوبر تا دسمبر سہ ماہی کے دوران کاروں کی ترسیل میں 21 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 12.8 لاکھ یونٹس کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی، جس کی بڑی وجہ تہواروں کے موسم کی طلب رہی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس صورت حال کے باعث بروکریج اداروں نے مارچ 2026 تک کے سال کے لیے فروخت کی شرح نمو کے اندازے بڑھا دیے ہیں۔ نومورا اور ایلارا کیپیٹل کے مطابق کاروں کی ترسیل میں 8 فیصد اضافہ متوقع ہے۔
تاہم، مالی سال 2026 کے آغاز پر کارساز کمپنیوں نے کہا کہ انہیں صرف 1 سے 2 فیصد اضافے کی توقع ہے، جو گزشتہ سال کی 2 فیصد شرح نمو سے کم ہے۔ اس کی وجہ مانگ میں کمی اور بڑھتا ہوا مقابلہ بتائی گئی ہے۔
کارساز کمپنیوں کا کہنا ہے کہ مالی سال کی آخری سہ ماہی میں نئی لانچ ہونے والی گاڑیوں میں دلچسپی کے باعث ترقی کی رفتار برقرار رہنے کی توقع ہے۔