اب تو گاؤں سے جگنو بھی روٹھ گئے ہیں

ٹیکنالوجی نے ڈیرے کیا ڈالے کہ گاؤں اب وہ گاؤں نہ رہے۔ اب یہاں بھی شور نے بسیرا کر لیا ہے، بچے گلیوں میں نہیں کھیلتے، اب کوئی کسی کا انتظار بھی نہیں کرتا۔

وسطی پنجاب کے گاؤں بستی امیر والا میں ایک خاتون ہینڈ پمپ سے پانی بھر رہی ہیں(اے ایف پی)

میں کبھی کبھار سوچتا ہوں تو یقین نہیں آتا کہ کیا یہ وہی گاؤں ہے جہاں ہم نے آنکھ کھولی تھی، جہاں ہم گلیوں میں گھوما پھرا کرتے تھے، جہاں پیار و محبت اور امن کی فضا قائم تھی۔ گلیاں اور چوبارے کچے سہی مگر رشتے پکے ہوا کرتے تھے۔

محلے میں کون سا گھر میں ہو گا جس کے کمروں میں ہم آنکھ مچولی کرتے ہوئے نہ چھپے ہوں۔ اپنے گھر کے علاوہ دوسرے گھروں میں بھی ہمیں کوئی روک ٹوک نہیں ہوتی تھی۔ 

لڑکیوں کے ساتھ ہی سکول پڑھنے جایا کرتے تھے۔ دینی سبق بھی مولوی کی بجائے ایک خاتون سے پڑھا۔ ٹیوشن بھی پڑھنے گئے تو لڑکیاں ساتھ ہوا کرتی تھیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چیندرو بھی کھیلا، پیٹو گرم بھی کھیلے، فٹ بال اور کرکٹ سے بھی شناسائی رہی، چور اور سپاہی کا کھیل بھی کھیلا۔ پتنگوں کے لیے گلیوں گلیوں میں دوڑیں بھی لگائیں، مار بھی پڑی مگر باز نہیں آئے۔ گھر میں روزانہ شکایتیں آتیں مگر کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا کہ بچے ہیں کھیل میں لڑتے ہیں پھر ٹھیک ہو جائیں گے۔

اور ایسا ہی ہوتا تھا۔ بڑوں کی لڑائی میں چھوٹے کبھی نہیں آتے تھے، نہ ہی چھوٹوں نے کبھی بڑوں کے سامنے کوئی بات کی۔ نہ ہی انھیں کوئی شوق ہوتا تھا کہ وہ بڑوں کے سامنے آواز اونچی کریں۔ 

اُن کے فیصلے مانے جاتے تھے جو کہ پتھر پر لکیر ہوا کرتے۔ میوزک بھی ایسا ہوتا تھا کہ کانوں کو تکلیف نہیں ہوتی تھی۔ ایک سکون سا ملتا تھا۔ فلمیں بھی ایسی کہ سب کے ساتھ دیکھی جا سکتی تھی۔

اُس وقت بھی نوجوانوں میں محبتیں ہوا کرتی تھیں، وہ عشق کیا کرتے تھے لیکن مجال ہے کہ کسی کو پتہ بھی چلتا۔ عاشق اور معشوق دونوں سے چھپا کرتے تھے۔ اگر عاشقی کزنز میں ہوتی تھی تو وہ ایک عید سے دوسری عید تک ایک دوسرے سے صرف مصافحہ کرنے کے لیے انتظار کرتے تھے اور وہ دن بھی کبھی کبھار کزنز کی نذر ہو جاتا تھا جب وہ شیطانی چال چلا کرتے تھے کہ کسی طرح دونوں محبت والے نہ ملیں۔
خاندان میں یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ لڑکا کہہ دے مجھے فلاں لڑکی پسند ہے، لڑکی کا کہنا تو بہت دور کی بات ہوا کرتی تھی۔ صاف گوئی سب جگہ موجود تھی۔ کسی کو کوئی بات پسند نہ ہوتی وہ منہ پر کہا کرتے تھے۔ پیٹھ پیچھے وار کم ہی کیے جاتے تھے۔ دلوں میں بات نہیں رکھی جاتی تھی، رات کو سب مل بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے اور کھانے کا بھی ایک وقت ہوا کرتا تھا۔

جب تک سب نہیں بیٹھتے تھے کھانا بھی نہیں کھایا جاتا تھا۔ رات کو کسی نہ کسی رشتہ دار کے گھر چائے اور قہوؤں کے دور چلا کرتے تھے۔ جہاں اکثر رشتے بھی طے ہو جایا کرتے۔ سردیوں کے موسم میں کچن میں انگیٹھی جلائی جاتی تھی جس سے سب آگ تھاپا کرتے تھے۔ حلوے بنائے جاتے تھے۔ حجروں میں رونق ہوا کرتی تھی۔ وہاں تاش کے پتے اور کیرم بورڈ سمیت لوڈو اور دوسرے ان ڈور گیمز کھیلے جاتے۔

اپنوں میں شادی ہوتی تو ماتھوں پر بل نہیں ہوا کرتے تھے۔ ہفتوں بلکہ مہینوں شادیانے بجتے تھے اور شادی کے بعد بھی یہی رونق رہتی تھی۔ رسموں میں ایک اپنائیت کا احساس ہوا کرتا تھا۔
جب فوتگی ہوا کرتی تو پورے گاؤں میں سوگ ہوتا۔ میت کے گھر میں سوگ نہیں مرتا تھا کیونکہ گاؤں والے اُسے زندہ رکھتے تھے۔ غم کے ساتھ ساتھ خوشی بھی زیادہ دیر تک رہتی۔ بلکہ یوں کہنا بے جا نہیں ہو گا کہ خوشی کے مواققے ڈھونڈے جایا کرتے تھے۔
یہ کہانی صرف میرے گاؤں کی نہیں، بلکہ ہر اُس گاؤں کی ہے جہاں ٹیکنالوجی نے ڈیرے نہیں ڈالے تھے یہ دو تین دہائی پہلے کا گاؤں تھا۔ یہ دور اور یہ سب کچھ اتنی جلدی ختم ہوا کہ کسی کو احساس بھی نہیں ہوا۔ یہ سب چیزیں رفتہ رفتہ ہم سے روٹھ گئیں۔

شادیوں میں مہمانوں کو بوجھ سمجھا جانے لگا ہے۔ میت کے گھر یہ سمجھ کر جایا جاتا ہے کہ اگر ہم نہیں گئے تو کل یہ ہمارے ہاں بھی نہیں آئیں گے۔ یا یہ ہماری میت اور شادی میں بھی نہیں آئے تھے تو ہم کیوں اُن کے ہاں جائیں۔ یعنی آنا جانا بھی وٹے سٹے کی طرح ہو گیا ہے۔ 

نہ اب حجروں میں نوجوانوں کی رونقیں ہوتی ہیں، نہ راتوں کو سناٹوں کے سائے ہوتے ہیں۔ گاؤں میں سکون ہوا کرتا تھا۔ اب یہاں بھی شور نے بسیرا کر لیا ہے۔ راتوں کو اب جگنو بھی نہیں نکلتے۔
اب شادیاں مختصر ہو گئی ہیں۔ صبح شروع ہوتی ہے تو رات کو ختم ہو جاتی ہیں بلکہ اب شادیاں بھی گھروں پر نہیں شادی ہالوں میں منائی جاتی ہیں۔
میت کے گھر میں دوسرے دن ہی میوزک بجنے لگتا ہے۔ اب جس کو بھوک لگتی ہے، کھانا کھایا جاتا ہے۔ ناشتہ اکیلے، لنچ جو دس بجے کیا جاتا تھا، اب دو سے تین بجے ہو گیا ہے۔ شام کا کھانا جو اکٹھے کھایا جاتا تھا وہ خواب بن گیا ہے۔

اب کوئی کسی کا انتظار نہیں کرتا۔ بچے اپنے گھر میں بھی نہیں کھیل سکتے، محلے کے گھروں میں تو دور کی بات ہے۔ اُس وقت کا باپ اپنے بیٹے یا بیٹی کو گود میں بھی نہیں اٹھا سکتا تھا، پیار کرنا تو دور کی بات، یعنی اپنے بچوں سے بھی پیار اپنے کمرے میں کیا جاتا تھا۔

شادی شدہ مرد اپنے کمرے میں بھی تب جاتا تھا جب سب گھر والے سوجاتے، مگر اب شام ڈھلے ہی سب اپنے کمروں میں دبک جاتے ہیں۔ ڈرامے بھی اکیلے ہی دیکھے جاتے ہیں۔ اب فیصلے بڑے نہیں کرتے، نہ ہی بچے بڑوں سے مشورہ کرتے ہیں۔ نہ بڑوں کے فیصلوں کو مقدم رکھا جاتا ہے، سب ایک دوسرے سے دور ہو گئے ہیں۔
گاؤں کی گلیوں کے ساتھ شاپنگ پلازے بن گئے ہیں۔ ضرورت کی ہر چیز ملنے لگی ہے۔ سب سہولتیں میسر ہو گئی ہیں ایک دوست کے بقول جب سے گھروں سے کچن ختم ہوئے ہیں جہاں سب مل جل کر بیٹھا کرتے تھے تب سے یہ دوریاں پیدا ہو گئی ہیں۔
اب گاؤں اور گاؤں کے سب لوگ بدل گئے ہیں، کیونکہ اب لوگ پانچ چھ کنال کے گھروں میں رہتے ہیں اور ان کے دل انچوں سے بھی چھوٹے ہو گئے ہیں۔ پہلے دو تین مرلوں میں مقیم لوگوں کے دل کنالوں پر محیط ہوتے تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ