نواز شریف کی بیماری سے متعلق رپورٹ جمع

ٹوئٹر پر جاری شدہ بیان میں ڈاکٹر عدنان کا کہنا ہے کہ ’طبی رپورٹس میں نواز شریف کے ہائپر ٹینشن، ذیابیطس اور گردے کے مسائل سے متعلق رپورٹس پہلے ہی جمع کرائی جا چکی ہیں۔

ڈاکٹر عدنان کے بیان میں کہا گیا کہ رپورٹس کے مطابق نواز شریف کے دل کو فرسٹ ڈگری بلاکیڈ کا سامنا ہے اس کے علاوہ دل کے بائیں حصے میں بھی رکاوٹ موجود ہے۔ (سکرین گریب)

سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے حکومت پنجاب کی جانب سے نواز شریف کی تازہ میڈیکل رپورٹس تین دن کے اندر جمع کرانے کے مطالبے پر سابق وزیر اعظم کی میڈیکل رپورٹس جمع کروا دی ہیں۔

گزشتہ روز محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے سابق وزیراعظم نوازشریف کو ایک خط لکھا گیا تھا جس میں ان سے تین روز کے اندر میڈیکل رپورٹس محکمہ داخلہ میں جمع کرانے کا کہا گیا تھا۔

سابق وزیراعظم کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے اپنی ٹوئٹس میں بتایا ہے کہ پنجاب حکومت کے مطالبے پر نواز شریف کی تفصیلی رپورٹس جمع کرادی گئی ہیں۔ 

 اپنی ٹویٹ میں ڈاکٹر عدنان نے شریف میڈیکل سٹی کے لیٹر ہیڈ پر جاری شدہ ایک بیان میں سابق وزیر اعظم کی صحت سے متعلق معلومات کو حکومت پنجاب کے خط کا جواب قرار دیا ہے۔

بیان میں ڈاکٹر عدنان کا کہنا ہے کہ ’طبی رپورٹس میں نواز شریف کے ہائپر ٹینشن، ذیابیطس اور گردے کے مسائل سے متعلق رپورٹس پہلے ہی جمع کرائی جا چکی ہیں۔‘

 بیان میں ان کا مزید کہنا تھا کہ ’گیز اینڈ تھامس ہسپتال میں نواز شریف کے پلیٹ لیٹس کو مناسب سطح تک لانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ ان کے پلیٹ لیٹس میں اضافے کے حوالے سے ہمیں مشکلات کا سامنا ہے۔ ڈاکٹر اس حوالے سے محتاط ہیں کہ کہیں ان کی پلیٹ لیٹس کاؤنٹ میں کمی نہ واقع ہو جائے۔‘

اس کے علاوہ رائل برامپٹن ہسپتال میں بھی میاں محمد نواز شریف کا تفصیلی معائنہ کیا گیا جہاں کی رپورٹس بھی پہلے جمع کروائی جا چکی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈاکٹر عدنان کے بیان میں کہا گیا کہ رپورٹس کے مطابق نواز شریف کے دل کو فرسٹ ڈگری بلاکیڈ کا سامنا ہے اس کے علاوہ دل کے بائیں حصے میں بھی رکاوٹ موجود ہے۔ دل کے دائیں حصے پر موجود دباؤ میں کسی حد تک کمی واقع ہو چکی ہے۔ لیکن دل کی بیرونی سطح میں موجود دباؤ میں 49 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

شریانوں کے بیماری سے متعلق ابھی رپورٹس مرتب نہیں ہو سکیں اور یہ شریانوں کی صورت حال مستحکم ہونے کے بعد ہی مرتب ہو سکیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے بھی رپورٹس جمع کروانے کے باوجود میں ایک بار پھر واضح الفاظ میں اس خط کے ذریعے ان کی طبی صورت حال سے آپ کو آگاہ کر رہا ہوں تاکہ نواز شریف کی صحت کے حوالے سے موجود غلط فہمیوں کو دور کیا جا سکے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان