ان باکس میں بے ہودہ تصاویر ملنے کی رپورٹ کیوں نہیں کی جاتی؟

سائبر فلیشنگ کا پہلا واقعہ 2015 میں رپورٹ کیا گیا تھا لیکن تب سے ان واقعات میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

سائبر فلیشنگ ایسی صورت حال کو کہا جاتا ہے جب کسی انسان کو کوئی ان چاہا بیہودہ مواد (تصاویر یا ویڈیو) موصول ہو جو کسی اجنبی کی جانب سے بھیجا گیا۔ (ٹوئٹر)

نئی تحقیق کے مطابق پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے والی خواتین سائبر فلیشنگ کے واقعات میں بے تحاشہ اضافے کے باوجود ان کو رپورٹ نہیں کر رہیں۔

سائبر فلیشنگ ایسی صورت حال کو کہا جاتا ہے جب کسی انسان کو کوئی ان چاہا بیہودہ مواد (تصاویر یا ویڈیو) موصول ہو جو کسی اجنبی کی جانب سے بھیجا گیا۔ یہ عمومی طور پر کم فاصلے پر بھیجی جانے والی ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے بھیجا جاتا ہے جس میں ایئر ڈراپ اور بلیوتوٹھ شامل ہیں۔

سائبر فلیشنگ کا پہلا واقعہ 2015 میں رپورٹ کیا گیا تھا لیکن تب سے ان واقعات میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پی اے نے فریڈم آف انفارمیشن کے تحت حاصل کردہ ڈیٹا سے پتہ چلایا ہے کہ برٹش ٹرانسپورٹ پولیس کو صرف 2019 میں انگلینڈ، سکاٹ لینڈ اور ویلز میں اس حوالے سے 66 رپورٹس موصول ہوئی ہیں۔

جب کہ 2018 میں اس بارے میں 34 اور 2016 میں صرف تین رپورٹس موصول ہوئی تھیں۔

حاصل ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق ان متاثرہ افراد میں سے 88 فیصد خواتین تھیں جب کہ ان کی 57 فیصد تعداد 30 سال سے کم عمر افراد کی تھی۔

رپورٹس میں اضافے کے باوجود اب تک صرف ایک گرفتاری ہوئی ہے۔ ان واقعات کو ذرائع مواصلات کے بدنیتی پر مبنی استعمال ایکٹ کے تحت درج کیا گیا ہے۔

ڈرہم یونیورسٹی کی پروفیسر کلیر میک گلین جو کہ جنسی مواد پر مبنی تصاویر کے غلط استعمال پر تحقیق کرتی ہیں، نے انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ ’یہ اعدادوشمار تو صرف آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔

’بہت ساری خواتین ان واقعات کو رپورٹ نہیں کرتیں کیوں کہ وہ جانتی ہیں کہ اس بارے میں کچھ خاص نہیں کیا جا سکے گا اور وہ اسے جلد بھلانا چاہتی ہیں۔ ٹیکنالوجی نے خواتین کی ہراسانی کو بہت آسان کرنا دیا ہے لیکن اب مردوں کی جانب سے ہراساں کرنے کی وجوہات بھی بدل رہی ہیں۔ سائبر فلیشنگ صرف عجیب و غریب اور جنونی انسانوں کے معاملہ نہیں ہے۔ یہ ہر ایک کے بارے میں ہے جن میں وہ عام افراد بھی شامل ہیں جو خواتین کو ہراساں کرتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا مزید کہنا ہے کہ ’یہ طاقت کے بارے میں ہے اور ہمیں صنفی فرق اور عدم مساوات کے مسائل پر توجہ دینی ہو گی تب ہی ہم سائبر فلیشنگ کے رجحان میں کمی دیکھ سکیں گے۔‘

لا کمشن اس وقت جنسی تصاویر کے غلط استعمال پر موجود قوانین پر نظر ثانی کر رہا ہے جن میں سائبر فلیشنگ بھی شامل ہے۔ اس بارے میں بھی غور کیا جا رہا ہے کہ کیا جنسی جرائم کے کسی نئے قانون کی ضرورت ہے۔ لیکن اس رپورٹ کا سال 2012 تک سامنے آنے کا امکان نہیں ہے۔

ڈی ٹیکٹیو انسپکٹر ایشلے کوپر کہتی ہیں ’ جنسی ہراسانی کی دوسری اقسام کے مقابلے میں سائبر فلیشنگ کم ہی رپورٹ کی جاتی ہے۔ کیوں کہ متاثرین ان واقعات کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیتے یا وہ یہ نہیں جانتے کہ اس بارے میں کہاں سے مدد لی جا سکتی ہے۔‘

سائبر فلیشنگ کی متاثرہ صوفی میہان جن کا تعلق یارک سے ہے، نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ ’سائبر فلیشنگ کو رپورٹ کرنے والی خواتین کی تعداد کم ہی رہتی ہے کیونکہ خواتین سے یہ امید کی جاتی ہے کہ وہ سائبر فیلشنگ کو ایک عام چیز یا ہراسانی کی ایک قسم ہی سمجھیں جس کا ہمیں بہرحال سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی طرح گلیوں میں ہونے والی ہراسانی یا غیر مطلوبہ جنسی مواد کو سوشل میڈیا یا ڈیٹنگ ایپ پر موصول کرنے کے بعد یہی امید کی جاتی ہے۔

’اس کے نتیجے میں خواتین کا اس کو رپورٹ کرنے کی ’جلدی‘ نہ کرنا یا اسے ایک ’چھوٹا‘ سا واقعہ سمجھنا قابل فہم ہے۔ کیوں کہ ہم اس قسم کی ہراسانی کی عادی ہو جاتی ہیں جس کا ہمیں، ہماری دوستوں کے ساتھ یا ہمارے ارد گرد موجود خواتین کو سامنا کرنا پڑتا ہے اور اسے کوئی غیر معمولی بات نہیں سمجھا جاتا۔‘

ایک اور متاثر ڈان فنچ کا کہنا ہے کہ ’لوگ اسے ابھی تک ایسی بات کے طور پر دیکھتے ہیں جس پر ہنسی آتی ہے، جو ایک قسم کا شغل ہے لیکن ایسا نہیں ہے۔ ہمیں اس رویے کو بدلنا ہو گا۔ اگر ہم ایک ایسا ماحول بنا دیں جس میں سب سمجھیں کہ یہ ناقابل قبول ہے تو ہم دیکھیں گے کہ ایسے واقعات کے رپورٹ ہونے میں اضافہ ہو جائے گا۔‘

پولیس کو زیادہ تر واقعات میں ملوث افراد کی شناخت معلوم کرنے میں مسائل کا سامنا ہے کیونکہ اکثر اوقات یہ مواد ڈیوائسز کے درمیان انجان رابطے سے بھیجا جاتا ہے۔

سائبر فلیشنگ کے متاثرین بتا چکے ہیں کہ یہ کتنا خوفناک اور ڈرانے والا تجربہ ہوتا ہے جب وہ پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کر رہے ہوتے ہیں۔

فریڈم آف انفارمیشن کے ڈیٹا کے مطابق صرف 2019 میں ان واقعات کے 44 فیصد متاثرین لندن کی انڈگراؤنڈ ٹرین میں سفر کر رہے تھے جبکہ 40 فیصد ریل سٹیشنز پر موجود تھے۔

ریبیکہ ہچنز جو کہ خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کی مہم چلا رہی ہیں ان کا کہنا ہے کہ ان واقعات کے رپورٹ کرنے میں اضافہ یہ ثابت کرتا ہے کہ خواتین اب پہلے سے زیادہ پراعتماد ہیں کہ اگر وہ سامنے آئیں گی تو انہیں سنجیدگی سے لیا جائے گا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’لیکن اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ یہ رویہ بڑھتا جا رہا ہے۔ لیکن ہم یہ جانتے ہیں کہ اس سے متاثرہ خواتین کی تعداد یقینی طور پر رپورٹ کیے جانے والے واقعات سے بہت زیادہ ہو گی اور وہ ان کی آزانہ اور محفوظ زندگی گزارنے کی صلاحیت کو متاثر کر رہی ہے۔‘

ڈی ٹیکٹیو انسپکٹر کوپر نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے ایئر ڈراپ کی سیٹنگز کو صرف اپنی کونٹیکٹ لسٹ میں موجود افراد سے مواد موصول کرنے تک محدود رکھیں۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین