لاہور: دریا سے اچانک نمودار ہونے والے مزار پر دھمالیں اور نذرانے

1988 میں دریا برد ہونے والا پیر بوٹے شاہ کا مزار 32 سال بعد کھدائی کے دوران دوبارہ نمودار ہو گیا، جس کے بعد رونق لگ گئی ہے۔

صوبہ پنجاب کے دارلحکومت لاہور سے گزرنے والے دریائے راوی کے کنارے پیر بوٹے شاہ کا مزار 1988میں دریا برد ہوگیا تھا۔ تاہم گذشتہ کئی سالوں سے درائے راوی میں پانی متواتر کم ہونے کے بعد جب شادی وال گاؤں کے قریب دریا کے خشک ہونے والے مقام سےمٹی اٹھانے والوں نے کھدائی کی تو نیچے سے مزار دوبارہ نکل آیا۔

علاقے کے رہائشی محمد شفیق کے مطابق دریا سے نمودار ہونے والے مزار پر پیر بوٹے شاہ کے نام کی تختی بھی موجود تھی اور پختہ بنائی گئی قبر بھی ٹھیک حالت میں پائی گئی۔

شہریوں نے مکمل کھدائی کے بعد مزار پر پھول اور چادر چڑھائیں۔ واقعے کا سن کر آس پاس کے علاقوں سے لوگ کشتیوں کے ذریعے وہاں پہنچنا شروع ہوگئے اور مزار پر نذر و نیاز اور منتوں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔

قریبی گاؤں نواں پنڈ سے مزار پر آنے والی خاتون کنیز بی بی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ کھدائی کے دوران مزار دریافت ہونے کے بعد وہ وہاں پہنچیں تو دیکھا کہ مزار کا گنبد بدستور موجود تھا جو آدھا ٹوٹ کر نیچے گرا ہوا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’اس کے نیچے پختہ قبر تھی جس پر پیر بوٹے شاہ کے نام کی تختی لگی تھی اور قبر کے پاس جائے نماز اور تسبیاں بھی ملی ہیں، مزار کے قریب سے ایک سانپ بھی نکلا جسے لوگوں نے مار دیا۔‘

کنیز بی بی کے مطابق جب 32 سال پہلے سیلاب میں مزار مٹی کے نیچے دبنے کے علاوہ ایک ملحقہ چھوٹا سا گاؤں بھی تباہ ہو گیا تھا۔ ’اب دریا میں پانی کم ہونے سے یہ مل گیا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ یہاں جب سے مزار نمایاں ہوا ہے مرد، خواتین اور بچوں کا رش لگا ہوا ہے اور ڈھول کی تھاپ پر دھمال جاری ہے۔ ’چندہ جمع کرنے اور نیاز کی تقسیم کا سلسلہ بھی جاری ہے، یہاں آس پاس کے رہائشیوں نے عرس شروع کر دیا ہے کیونکہ ابھی تک صاحب مزار کی آل اولاد کے بارے میں کسی کو معلومات نہیں، لہٰذا بعض افراد نے خود ہی انتظام سنبھال رکھا ہے۔‘

محکمہ اوقاف کے ترجمان آصف اعجاز نے بتایا کہ انہیں بھی اس معاملے کی اطلاع ملی ہے لیکن یہ مزار محکمہ اوقاف کے زیر کنٹرول نہیں کیونکہ قبرستانوں میں اس طرح کے مزاروں کو محکمہ اوقاف اپنے زیر انتظام نہیں لیتا۔

انہوں نے واضح کیا کہ 1979میں بننے والے قانون کے مطابق مزار کے گدی نشین کو محکمہ اوقاف کے زیر انتظام آنے کے لیے درخواست دینا پڑتی ہے اور پھر محکمے کی جانب سے اس کی تاریخ اور مقام پر عقیدت مندوں کے لحاظ سے جائزہ لینا ہوتا ہے۔

’اگر کسی مزار پر سالانہ عرس باقاعدگی سے ہوتا ہو اور وہاں سکیورٹی یا سہولیات کی فراہمی لازم سمجھی جائیں، تبھی کسی مزار کو رجسٹر کر کے اس کا انتظامی معاملہ طے کیا جاتا ہے جس میں گدی نشین گھرانہ بھی انتظامی امور میں تعاون کا پابند ہوتا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ اس طرح کے کئی مزار قبرستانوں یا آبادیوں میں موجود ہیں، جن کے انتظامات اور دیکھ بھال کی ذمہ داری معتقد یا صاحب مزار کی آل اولاد ہی کرتی ہے اور باقاعدہ عرس بھی ہوتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان