شامی اداکارہ کی واپسی جنہیں سینیما پسند ہے

جومانا کے ایک سال سے زائد عرصے تک فنی منظر سے غائب رہنے کے بارے میں بعض لوگوں کا خیال تھا کہ وہ ریٹائر ہوگئی ہیں، لیکن انہوں نے اس گمشدگی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’میں ایک کنبہ تشکیل دینا چاہتی تھی۔‘

شامی اداکارہ جومانا مراد کا کہنا ہے کہ  اپنی عدم موجودگی کے دوران  وہ  کچھ فنی سرگرمیوں میں مصروف رہی (تصویر: جومانا مراد آفیشل فیس بک  اکاؤنٹ)

 

شام کی فنکارہ جومانا مراد نے ایک سال تک منظر سے غائب رہنے کے بعد اپنی فنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دی ہیں۔ وہ مصری سٹار یوسرا کے ہمراہ رمضان میں دکھائے جانے والے ’کپ آف دی ریڈر‘ سیریز میں حصہ لیں گی۔

انڈی عربیہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے اپنی غیر موجودگی کی وجہ، شام - لبنان مشترکہ ڈراموں اور تھری ڈی ٹیکنالوجی کے ساتھ پہلی عرب فلم میں اپنے تجربے کے بارے میں بات کی۔ اس گفتگو میں انہوں نے کچھ مصری پکوانوں سے محبت کی تصدیق بھی کی اور کہا کہ وہ پلاسٹک سرجری کی مخالفت نہیں کرتیں لیکن انہیں اس کی ضرورت نہیں ہے۔

جومانا کے ایک سال سے زائد عرصے تک فنی منظر سے غائب رہنے کے بارے میں بعض لوگوں کا خیال تھا کہ وہ ریٹائر ہوگئی ہیں، لیکن انہوں نے اس گمشدگی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’میں ایک کنبہ تشکیل دینا چاہتی تھی۔ میں نے اپنے بچے (محمد) کو جنم دیا۔ میں اپنی ذاتی زندگی کو وقت دینا چاہتی تھی۔ اس کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ واپسی کا وقت آ گیا ہے۔ میں نے سیریز (دہب آئرہ) میں ایک اچھے کردار کی پیشکش کے بعد دوبارہ کام شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس سیریز کا نام تبدیل کرکے کپ کے قارئین رکھ دیا گیا۔ میں طویل عرصے سے کرشمہ یوسرا کے ساتھ کام کرنے کی خواہش رکھتی ہوں، کیوں کہ میں انہیں اور فنکار عادل کو دو اہم ترین عرب ستارے مانتی ہوں اور ان کے سامنے کسی بھی کردار کو مجسم بنانے کے لیے تیار ہوں۔ ان کے سامنے کھڑا ہونا ایک اعزاز کی بات ہے۔ مجھے کوئی بھی کردار قبول ہے۔‘

واپس کیوں؟

شامی فنکار اور سیریز کے ہدایت کار سامح عبد العزیز کو وہ ’قریبی ہدایت کار‘ کے طور پر بیان کرتی ہیں۔ ان کے مطابق: ’وہ سینیما میں میرے تمام کام کے مالک ہیں اور انہوں نے مجھے ایسے ایسے کرداروں میں پیش کیا جس کا میں تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’میں کئی وجوہات کی بنا پر نئے ڈرامے کے بارے میں پرجوش تھی، بشمول اس کے کہ اس کا سکرپٹ احمد عادل کا لکھا ہوا ہے، یہ ایک بڑی کمپنی (جسٹس گروپ) کی پیشکش ہے اور جو کردار میں کر رہی ہوں وہ میرے لیے نیا ہے۔ یہ ناظرین کو حیران کر دے گا۔‘

تھری ڈی ٹیکنالوجی والی پہلی فلم

تھری ڈی ٹیکنالوجی کے ساتھ اپنے تجربے کے بارے میں جومانا کہتی ہیں: ’آخرکار میں نے ہدایت کار وایل عبد اللہ کے ساتھ تھری ڈی فلم ’13 دن‘ کی، جو عرب دنیا کی سطح پر اس ٹیکنالوجی کے ساتھ پہلی فلم ہے۔ اس میں شریف موئنیر، احمد ظہیر، احمد داؤد اور عروہ جودا اداکاری کر رہے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ کب دکھائی جائے گی، لیکن مجھے لگتا ہے کہ یہ عید الاضحیٰ پر ریلیز ہوگی۔‘

جومانا مراد نے بتایا کہ یہ ڈراؤنی فلم ہے اور ناظرین اسے دیکھ کر تکنیکی مہارت کی وجہ سے حیران ہوں گے۔

شادی کے بعد کے انتخاب

جومانا نے مزید کہا، ’اپنی عدم موجودگی کے دوران میں کچھ فنی سرگرمیوں میں مصروف رہی اور میں نے دیکھا کہ ہدایت کاری کے نئے انداز اور نئے اور مستعد ستاروں کو معتارف کروایا جا رہا ہے۔‘

ہم جاننا چاہتے تھے کہ شادی کے بعد جومانا کے انتخاب میں کیا تبدیلی آئی ہے؟ انہوں نے بتایا: ’جب ہم اپنے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں تو ہم اپنے سارے حساب کا جائزہ لیتے ہیں۔ میں اپنے کرداروں کا بغور جائزہ لیتی ہوں، میرے لیے یہ ضروری ہے کہ میں ایسے کردار نبھاؤں جو اس سے پہلے میں نہ کیے ہوں اور شاید میرے انتخاب میں بڑا عنصر تبدیلی کو حاصل ہے۔‘

جومانا اصلی کرداروں اور حقیقی کاموں کو پیش کرنے کو ترجیح دیتی ہیں۔ شام اور لبنان کے مشترکہ ڈرامے کے بارے میں انہوں نے کہا، ’یہ کوئی حالیہ رجحان نہیں ہے۔ مشترکہ تعاون جاری ہے۔ لبنان کی نمائندگی شام میں کی گئی تھی اور اب شامی باشندے لبنان میں کام کر رہے ہیں۔ مجھے سوشل میڈیا پر اس تنازع سے کوئی سروکار نہیں ہے جس میں وہ ڈرامے کا موازنہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ شام اور لبنانی مستقل تعاون ہے اور اختلافات کے تابع نہیں ہے۔‘

’جہاں تک میرا تعلق ہے، میں نے اس ڈرامے میں کام اسے جج کرنے کے لیے نہیں کیا ہے لیکن میں نے سب سے پہلے ’سوپ اوپرا‘ کا ایک سلسلہ متعارف کرایا جس میں لبنانی، شامی اور خلیجی مردوں نے حصہ لیا تھا۔ میں عام طور پر یہ درجہ بندی پسند نہیں کرتی تھی اور اگر مجھ سے پوچھا گیا کہ میں کہاں کام کرنا پسند کروں گی تو میں مصر کا نام لوں گی۔‘

عظیم تر سینیما

جومانا یہ تسلیم کرتی ہیں کہ وہ ٹی وی ڈرامے سے زیادہ سینیما کو پسند کرتی ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہتی ہیں ’جب کسی ڈرامے میں ایک نیا اور مخصوص کردار ہوتا ہے تو مجھے خوشی محسوس ہوتی ہے، لیکن وائٹ سکرین ہی میری سب سے بڑی محبت ہے۔ سینیما میں مجھے کردار کی مقدار کی پرواہ نہیں، بلکہ میں ایک سین بھی قبول کر سکتی ہوں، بشرطیکہ یہ بااثر ہو اور سامعین میں ایک نقش چھوڑ دیتا ہے۔ ڈرامہ اس سے مختلف ہوتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حالیہ دنوں میں مصری سینیما میں واضح تیزی دیکھنے میں آئی ہے اور کچھ فلموں کی آمدن سو ملین پاؤنڈ (تقریباً 6.4 ملین امریکی ڈالرز) سے تجاوز کرگئی ہے۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے شامی اداکارہ نے کہا کہ ’واقعی یہ ایک قابل ذکر تیزی ہے اور مجھے امید ہے کہ خواتین کے سینیما پر زیادہ توجہ دی جائے گی اور اداکاروں کی تعداد بڑھائی جائے گی۔ مصنفین صرف مردوں کے لیے ہیں، اور پروڈیوسر خواتین کی بات کرنے سے خوف زدہ ہیں۔‘

’لوگ میرے دل کے قریب ہیں‘

عرب دنیا میں وسیع شہرت رکھنے والی جومانا نے پرانے اور نئے شامی سینیما کے بارے میں کہا: ’آپ کو شام کا پرانا سینیما پسند نہیں ہے اور میں اس میں اپنے آپ کو نہیں پاتی ہوں۔‘

وہ کیسے کردار کرنا چاہیں گی؟ اس بارے میں انہوں نے کہا: ’میں حقیقی شخصیات اور حقیقی کاموں کی طرف راغب ہوں اور میں نے مقبول رنگ پیش کیا ہے۔ یہ ایک انتہائی دلکش کردار اور میرے دل کے قریب تھا کیونکہ اس میں ایک بہت بڑا چیلنج شامل ہے اور میں دیکھ رہی ہوں کہ میرے فنی تجربے میں سب سے اہم کام ایک فلم (کیبرے) اور (خوشی) ہیں۔ میں اس ہدایت کار کی بےباکی کا شکریہ ادا کرتی ہوں جنہوں نے مجھے منتخب کیا، حالانکہ میری خصوصیات شاید مقبول رنگ سے مطابقت نہیں رکھتی ہیں، لیکن ایک اچھا اداکار کچھ بھی پیش کرسکتا ہے۔‘

شادیہ کی سوانح

ہر فنکار کسی مشہور شخص کی سوانح حیات پیش کرنے کا خواب دیکھتا ہے اور یہی بات جومانا پر بھی لاگو ہوتی ہے جن کا کہنا ہے کہ ’بہت سے کردار ہیں جنہیں میں سکرین پر دکھانا پسند کروں گی جیسے کہ آرٹسٹ شادیہ کیونکہ وہ ڈرامے اور انسانیت سے مالا مال ہیں۔‘

کیا جدید ٹیکنالوجی نے ٹیلی ویژن اور سینیما گھروں کا تختہ کر دیا ہے؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’درحقیقت، عوام آن لائن پلیٹ فارمز اور ان کی پیش کردہ سیریز اور فلموں پر نظر رکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، لیکن ابھی کوئی بھی اس معاملے کی قسمت کے بارے میں واضح طور پر فیصلہ نہیں کرسکتا ہے۔‘

جہاں تک سوشل میڈیا کے ساتھ تعلق کی بات ہے، تو انہوں نے یہ کہتے ہوئے اس کا خلاصہ کیا: ’میں سوشل میڈیا سائٹس، خاص طور پر (انسٹاگرام) پر سرگرم ہوں۔ میں بھی تمام تبصروں اور تنقید کو دیکھتی ہوں اور اگر کسی تبصرہ کرنے والے کو نظرانداز کرنا ہو تو میں اسے فالورز کی فہرست میں بند کر دیتی ہوں۔‘

شامی مصور بالفنان السوري قصي خولي کے ساتھ جومانا کا تعلق مضبوط معلوم ہوتا ہے، خاص طور پر جب وہ انسٹاگرام پر اپنے گھر پر اور ان کے کنبہ کے افراد کے ساتھ ان کی تصاویر شائع کرتے ہیں اور ان کے کھانا پکانے کی تعریف کرتے ہیں اور ان کا نام ’ام محمد‘ رکھتے ہیں۔

ان کی ذاتی زندگی اور اپنے بچے کا نام ’محمد‘ رکھنے کے بارے میں انہوں نے کہا: ’میں نے یہ نام اس لیے منتخب کیا تھا کہ میرے والد سعودی عرب میں حج ادا کرہے تھے اور میرے بیٹے کی پیدائش سے قبل، انہوں نے مجھے وہاں سے فون کیا اور کہا کہ خدا آپ کو محمد عطا کرے اور اسی وجہ سے میں نے اس کا نام محمد رکھا۔‘

مصری کھانا اور خوبصورتی کا راز

جومانا نے مصری کھانے کے بارے میں اپنے شوق کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے مصری کھانا خاص طور پر الملوخيہ والكشري اور المحشي پسند ہیں۔ میں ان تمام چیزوں کو پکا سکتی ہوں۔‘ انہوں نے کہا کہ شام میں وہ کھانے سے پرہیز کرتی ہیں۔

آخر میں انہوں نے پلاسٹک سرجری کے بارے میں بات کی: ’میں اسے مسترد نہیں کرتی کیونکہ تمام خواتین، یہاں تک کہ غیر پیشہ ور لوگ بھی یہ کرتے ہیں، جو شرم کا باعث نہیں ہے اور اگر ضروری ہوا تو میرا ایک آسان آپریشن بھی ہوا ہے، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ مجھے اب اس کی مزید ضرورت ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی فن