امریکہ اور طالبان کے درمیان ’ورچوئل‘ مذاکرات

دوحہ میں طالبان کے دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی تصدیق کی ہے، تاہم انہوں نے زور دیا ہے کہ یہ بات چیت صرف قیدیوں کے تبادلے کے بارے میں تھی۔

گذشتہ ماہ دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدے میں  قیدیوں کی رہائی کا معاملہ طے پایا تھا (فائل تصویر:اے ایف پی)

افغان حکام نے کہا ہے کہ اتوار کو افغان حکومت اور طالبان کے درمیان قیدیوں کی رہائی پر ’ورچوئل‘ بات چیت ہوئی ہے جس کے نتیجے میں اس معاملے پر پیش رفت کی امید پیدا ہو گئی ہے جو تعطل کا شکار ہے اور حال ہی میں شروع ہونے والے امن عمل کے لیے خطرہ بن گیا ہے۔

گذشتہ ماہ 29 فروری کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ اور افغان طالبان کے مابین ایک تاریخی معاہدہ ہوا تھا، جس کے بعد یہ امید کی جارہی ہے کہ اس سے گذشتہ کئی برسوں سے شورش کے شکار ملک افغانستان میں امن کی راہیں کھلیں گی۔

 اس معاہدے میں یہ طے پایا تھا کہ نہ صرف امریکہ مئی 2021 تک اپنی فوجوں کا انخلا کرے گا بلکہ امریکہ اور طالبان، افغان فریقین کے مابین مذاکرات سے پہلے ہزاروں قیدیوں کا بھی تبادلہ کریں گے۔

تاہم قیدیوں کی رہائی کے معاملے پر افغان حکومت اور طالبان اختلاف کا شکار ہیں۔ افغان حکومت قیدیوں کی مرحلہ وار اور مشروط رہائی چاہتی ہے جب کہ طالبان کی خواہش ہے کہ تمام قیدی ایک ہی بار رہا کر دیے جائیں، جیسا کہ گذشتہ ماہ دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدے میں طے پایا تھا۔

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق حکام نے بتایا ہے کہ اب افغان حکومت اور طالبان نے ویڈیو کالنگ ایپ سکائپ پر دو گھنٹے تک مذاکرات کیے ہیں۔ اس بات چیت کا اہتمام امریکہ اور قطر نے کیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ دونوں طرف سے قیدیوں کی رہائی امن عمل کی جانب اہم قدم ہے۔ ہر کوئی سمجھتا ہے کہ کرونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر ضروری ہو گیا ہے کہ قیدیوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فریقین تشدد میں کمی اور افغان فریقین کے درمیان بات چیت سمیت جامع اور مستقل جنگ بندی کا مضبوط عزم ظاہر کر چکے ہیں۔

افغانستان کی قومی سلامتی کونسل کے بیان میں کہا گیا ہے کہ تازہ مذاکرات میں فریقین نے قیدیوں کی رہائی کے لیے ابتدائی تکنیکی طریقہ کار کا تبادلہ کیا ہے۔ تشدد میں کمی، براہ راست بات چیت اور مستقل جنگ بندی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

دوحہ میں طالبان کے دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی تصدیق کی ہے، تاہم انہوں نے زور دیا ہے کہ یہ بات چیت صرف قیدیوں کے تبادلے کے بارے میں تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا