معلوم نہیں کہ کوئی ڈاکٹر کرونا وائرس سے متاثر ہوا: محکمہ صحت پنجاب

ینگ ڈاکٹرز کے مطابق لاہور کے ہسپتالوں میں طبی عملے میں وائرس کی منتقلی کے تین کیس سامنے آئے ہیں۔ تاہم ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ پنجاب کہتے ہیں کہ ینگ ڈاکٹرز خواہ مخواہ شور کر رہے ہیں۔

صوبہ پنجاب میں کرونا (کورونا) وائرس کے متاثرین کی دیکھ بھال کرنے والے ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے میں مبینہ طور پر اس وائرس کی منتقلی کا انکشاف ہوا ہے۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب کے صدر ڈاکٹر سلمان حسیب نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں دعویٰ کیا کہ ہسپتالوں میں وافر مقدار میں حفاظتی کٹس موجود نہ ہونے کی وجہ سے طبی عملے میں وائرس منتقل ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔

ڈاکٹر سلمان نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ وائرس سے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے ایک ڈاکٹر جبکہ سروسز ہسپتال اور جناح ہسپتال لاہور کی ایک، ایک نرس میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ طبی عملے کو ناکافی حفاظتی کٹس دی گئیں کیونکہ ایک کٹ ایک دن استعمال ہوتی ہے، جس کے بعد اسے تلف کرنا پڑتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے الزام لگایا کیا کہ ہسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز میں کام کرنے والے ڈاکٹروں کوکٹس نہیں دی گئیں۔

انہوں نے طبی عملے میں وائرس کی 'منتقلی' کی ذمہ داری صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد پرعائد کرتے ہوئے کہا : 'ان (یاسمین راشد) کی مجرمانہ غفلت کے باعث ہمیں کسی قسم کا حفاظتی لباس مہیا نہیں کیا گیا۔'

اس حوالے سے جب وزیر صحت یاسمین راشد سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے ٹیلی فون کال کا جواب نہیں دیا۔

تاہم ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ پنجاب ڈاکٹر ہارون جہانگیر نے بتایا کہ انہیں اس بارے میں کوئی معلومات نہیں کہ کوئی ڈاکٹر یا نرس کرونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔

'دوسرا یہ کہ حفاظتی کٹس ایمرجنسی میں کام کرنے والے عام ڈاکٹروں کے لیے نہیں بلکہ صرف کرونا کاؤنٹرز پر کام کرنے والے طبی عملے کے لیے ہیں۔ ینگ ڈاکٹرز خواہ مخواہ چیخ و پکار کر رہے ہیں۔'

ڈی جی ہیلتھ نے بتایا کہ ایک کٹ 10 ہزار روپے کی ہے جو ایک مرتبہ پہنی جا سکتی ہے۔ 'وہ اب چاہے ایک منٹ پہنیں یا آٹھ گھنٹے کے بعد اتار کے پھینکیں گے تو یہ ضائع ہو جائے گی۔'

ڈاکٹر ہارون کہتے ہیں کہ وہ ایمرجنسی وارڈ کے اندر ہر ڈاکٹر یا نرس کو حفاظتی کٹس نہیں پہنا سکتے۔ 'امریکہ یا یورپ کہیں پر بھی ایسا نہیں ہوتا۔ ایمرجنسی وارڈز میں عام پیپرسرجیکل ماسک کا استعمال کافی ہے جب تک کرونا وائرس کا کوئی مشتبہ مریض نہیں آجاتا۔'

زیادہ پڑھی جانے والی صحت