قطر: کرونا وائرس سے مزدور کیمپوں میں ہونے والی سنگین خلاف ورزیاں

ایک پاکستانی کے مطابق: 'ہم گذشتہ دس دن سے لاک ڈاؤن میں رہ رہے ہیں۔۔۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ روز مرہ کی اشیا ہیں۔ حکومت ہمیں کھانا پہنچا رہی ہے لیکن بہت کم اور کئی دنوں بعد۔'

قطر میں اس وقت 20 لاکھ تارکین وطن مزدور موجود ہیں جن کی اکثریت کا تعلق جنوبی ایشیا اور مشرقی افریقہ سے ہے (تصویر: اے ایف پی)

سری لنکا کے علاقے بٹیکاولا سے تعلق رکھنے والے انٹونی جتنا عرصہ قطر میں رہے، دہری زندگی جیتے رہے۔ دن کے وقت وہ قطر کے چمکتے دمکتے قطر فاؤنڈیشن اور قطر نیشنل کنونشن سینٹر کے دفاتر میں صفائی کا کام کرتے تھے اور رات کے وقت ایک خستہ حال عمارت کے ٹوٹے پھوٹے کمرے میں زندگی گزارتے تھے۔

یہ عمارت ایک صنعتی علاقے میں واقع تھی جہاں مزدوروں کی بڑی تعداد، سٹورز، ویئر ہاؤسز، گاڑیوں کی ریپیئرنگ کی دکانیں اور کارخانے موجود تھے۔ اس علاقے کا مقامی نام سنایہ تھا۔

انٹونی کا یہ عذر قبول کیا جا سکتا ہے، جس کے مطابق وہ سوچتے تھے کہ یہ ان کی قسمت ہے جو ان کوچند ماہ قبل قطر سے سری لنکا واپس لے آئی ہے۔

ان کے کئی سابقہ ساتھی اور دوست خود کو ایک قید خانے میں بند محسوس کرتے ہیں، جو کہ قطری حکام کی جانب سے کرونا (کورونا) وائرس کے پھیلنے کے بعد اس صنعتی علاقے کو مکمل طور پر سیل کرنے سے وجود میں آیا ہے۔ دوحہ کے شہری اس صورت حال کو صرف ایک ہی طرح سے بیان کر سکتے ہیں اور وہ ہے 'انسانی طور پر تخلیق کردہ المیہ۔'

قطر 11 مارچ سے ہی نقصان کو قابو کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جب وزارت صحت کی جانب سے 238 نئے کیسز کی تصدیق کے بعد صنعتی علاقے میں سخت لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا تھا۔ یہ کیسز ایک رہائشی علاقے کی ایک ہی عمارت میں بتائے گئے تھے۔

بیرون ملک سے آنے والے مزدوروں کی سخت سکروٹنی کی جا رہی ہے۔ قطر کے وزیر اعظم شیخ خالد بن خلیفہ بن عبدالعزیز کے نام 31 مارچ کو لکھے گئے کھلے خط میں 16 غیر سرکاری تنظیموں اور ٹریڈ یونینز نے افرادی قوت کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور مائیگرینٹس رائٹس کی تنظیموں پر مبنی اتحاد نے دوحہ پر ایسے اقدامات لینے پر زور دیا ہے جو'عوامی صحت کو محفوظ بنانے کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کا تحفظ بھی یقینی بنائیں اور جن کی بنیاد تعصب پر نہ ہو۔'

خط میں کہا گیا ہے کہ 'قطری حکام اس بات کو یقینی بنائیں کہ باقی تمام اقدامات کے ساتھ ساتھ تارکین وطن مزدوروں، غیر قانونی طور پر مقیم افراد اور قرنطینہ میں موجود افراد کو طبی سہولیات اور ٹیسٹنگ تک رسائی دی جائے۔'

فروری تک پوری دنیا نے صرف اتنا ہی سنا تھا جتنا قطری حکام نے بتایا تھا کہ یہ صرف 'ایک رہائشی عمارت' تک محدود وائرس ہے۔ جو ایک ایسے علاقے میں واقع ہے جہاں قطر میں مقیم کم آمدنی والے افراد کی بڑی تعداد آباد ہے۔

اب ممکنہ طور پر ہزاروں مزدور کرونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں اور قطر حکومت کی جانب سے اس علاقے میں سخت لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے۔ ایسے حالات میں عوامی صحت کا بحران قطر کی ساکھ کو مزید خراب کر رہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ عرب دنیا کے ضمیر پر بھی ایک دھبہ ہے۔

ایک سفارتی ذرائع کا کہنا ہے 'جمعے تک صورت حال قابو میں تھی لیکن مکمل طور پر نہیں۔ مزدوروں کی نقل و حرکت پر کڑی پابندیاں ہیں۔'

20 مارچ کو برطانوی اخبار دی گارڈین میں رپورٹ کیا گیا کہ 'کسی کو اس صنعتی علاقے میں داخلے یا باہر جانے کی اجازت نہیں ہے۔ قرنطینہ کیمپس کے اندر مزدور ماحول کو بہت پُر خوف اور غیر یقینی بتا رہے ہیں۔'

ذرائع کے مطابق: 'صنعتی علاقے میں کئی مزدوروں کو تاحکم ثانی بغیر تنخواہ کے رکھا جا رہا ہے اور انہیں صرف خوراک اور رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔'

بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے ایک مزدور نے دی گارڈین کو بتایا کہ 'صورت حال دن بدن خراب ہوتی جا رہی ہے۔ کیمپ 1 سے کیمپ 32 تک لاک ڈاؤن نافذ ہے۔ میرے دوست جو وہاں رہتے ہیں وہ بہت خوفزدہ ہیں۔'

ایک پاکستانی رہائشی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا: 'ہم گذشتہ دس دن سے لاک ڈاؤن میں رہ رہے ہیں اور ہم نہیں جانتے یہ کب ختم ہو گا۔' ان افراد کو قرنطینہ میں دوسرا ہفتہ شروع ہو چکا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا: 'ہمارا سب سے بڑا مسئلہ روز مرہ کی اشیا ہیں۔ حکومت ہمیں کھانا پہنچا رہی ہے لیکن بہت کم اور کئی دنوں بعد۔'

قطر میں اس وقت 20 لاکھ تارکین وطن مزدور موجود ہیں جن کی اکثریت کا تعلق جنوبی ایشیا اور مشرقی افریقہ سے ہے۔ یہ ملک کی کام کرنے والی آبادی کا 95 فیصد حصہ ہیں۔ حالیہ سالوں میں فیفا ورکٹ کپ 2022 کی تیاریوں کے سلسلے میں بھی ان مزدوروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے قطر میں مزدوری کے قوانین پر کئی بار تنقید کی ہے۔

یہ واضح ہے کے قطر کے حکمرانوں کے پاس سفارتی منصوبوں، بڑے اداروں کی تقریبات اور مشرق وسطی میں موجود شدت پسندوں کے لیے پیسے کی کوئی کمی نہیں ہے، لیکن حالیہ سالوں میں کئی بڑی سڑکوں کی تعمیر کے باوجود ان پر کام کرنے والے مزدوروں کی حالت میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آئی۔ گلیوں میں موجود گڑھے دیکھ کر ایسے گمان ہوتا ہے کہ یہ فی کس سب سے زیادہ آمدنی والے امیر ملک کی گلیاں نہیں بلکہ کوئی اور ہی علاقہ ہے۔

انہی گلیوں میں موجود پرانے گھروں کے ایک ایک کمرے میں دس دس افراد رہنے پر مجبور ہیں اور جہاں باورچی خانے اور بیت الخلا کی سہولیات ناکافی ہیں۔ ایسے حالات میں سماجی دوری اور تنہا رہنے جیسے اہم اصولوں پر عمل کرنا ناممکن ہے۔

گلیوں میں روشنی کا مناسب انتظام نہ ہونے اور صنعتی علاقوں میں مکمل اندھیروں سے یہ علاقے رات میں نازک دل والوں کے لیے ممنوعہ ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر چند کلو میٹر دور دوحہ کے امیر باسیوں کے لیے یہ علاقے مکمل طور پر اجنبی ہیں۔

کرونا وائرس کے پھیلاؤ سے پہلے بھی یہ علاقہ مزدوروں کے لیے دن میں 45 درجہ حرارت میں دس گھنٹے کام کرنے کے وجہ سے بہت خطرناک سمجھا جاتا تھا۔ بھارت حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق 2012 سے 2018 کے دوران قطرمیں کام کرنے والے 1678 بھارتی مزدور ہلاک ہوئے جبکہ سال 2012 سے 2017 کے دوران قطر میں کام کرنے والے 1025 نیپالی سانس کی بیماریوں، دل کی تکالیف اور کئی دیگر بیماریوں کی وجہ سے ہلاک ہوئے تھے۔

زیادہ تر کیسز میں ان مزدوروں کی ہلاکت کے بعد لاشوں کا پوسٹ مارٹم نہیں کیا گیا بلکہ انہیں فطری موت قرار دے دیا گیا تھا۔

موجودہ بحران کے پیش نظر قطر میں کام کرنے والے مزدوروں کے حالات زیادہ خراب ہو سکتے ہیں۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے مطابق موجودہ بحران سے دنیا میں ڈھائی کروڑ لوگ بے روزگار ہوسکتے ہیں۔

انٹونی کے لیے سری لنکا واپس جا کے نوکری تلاش کرنا ایک مشکل فیصلہ ثابت ہوا ہے لیکن انہیں اس پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا