قیدیوں کا تبادلہ: 'افغان حکومت غیر سنجیدہ ، مزید بات نہیں کریں گے'

طالبان کے مطابق افغان حکومت قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے 'غیر سنجیدگی' کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

(اے ایف پی)

افغان طالبان نے افغانستان میں موجود اپنے تین رکنی وفد کو افغان حکومت کے نمائندوں کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے مزید 'میٹنگ' کرنے سے روک دیا ہے۔

طالبان کے مطابق افغان حکومت قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے 'غیر سنجیدگی' کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

دوحہ میں افغان طالبان کے سیاسی ترجمان سہیل شاہین نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ طالبان نے ایک تکنیکی تین رکنی وفد کابل بھیجا تھا تاکہ وہاں پر طالبان کے قیدیوں کی پہچان اور ان کی تصدیق کریں۔

انھوں نے بتایا 'یہ تین رکنی وفد ہمارے رجسٹریشن شعبے کے ممبران ہیں اور وہ ان قیدیوں کی پہچان کے لیے اب بھی کابل موجود ہیں لیکن افغان حکومت سنجیدہ نہیں ہے اس لیے ہم نے اپنے وفد کو بتایا ہے کہ وہ مزید میٹنگ سے بائیکاٹ کریں۔'

سہیل شاہین نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ امریکہ کے ساتھ امن معاہدے کے تحت افغان حکومت نے ہمارے پانچ ہزار قیدیوں کو رہا کرانا تھا اور ہمارا وفد اسی مقصد کے لیے کابل میں موجود تھا کہ وہ تصدیق کر سکیں کہ طالبان قیدیوں اور دیگر جرائم پیشہ قیدیوں کو الگ کیا جا سکے۔

'معاہدے کے تحت قیدیوں کی رہائی 31 مارچ کو ہونی تھی اور یہ وفد بھیجنے سے پہلے ہمارے ساتھ وعدہ بھی کیا گیا تھا جس کے بعد انٹرا افغان بات چیت شروع ہونی تھی۔'

انھوں نے بتایا کہ افغان حکومت مختلف بہانےبنا کر  تاخیر سے کام لے رہی ہے اور بات کو آگے نہیں بڑھا رہی ہے۔

افغان حکومت کے اس دعوے کہ طالبان اپنے 15 کمانڈرز کو رہا کرنا چاہتے ہیں، کے حوالے سے سہیل شاہین نے بتایا کہ یہ 15 قیدی کوئی کمانڈرز نہیں ہیں بلکہ یہ ان 5000 افراد کی لسٹ میں موجود ہیں جو ہم نے افغان حکومت کو دی ہے۔

'یہ 15 افراد ہم پہلے اس لیے رہا کرنا چاہتے تھے تاکہ کابل بھیجے گئے ہمارے وفد کے ساتھ قیدیوں کی نشاندہی اور تصدیق کے عمل میں ان کی مدد کر سکیں۔افغان حکومت کا یہ دعوی بے بنیاد ہے کہ یہ کمانڈرز ہیں اور پھر سے حملے کریں گے۔'

اس حوالے سے افغان طالبان نے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ طالبان افغان حکومت کے  سو قیدیوں کو رہا کرنے پر تیار ہیں لیکن افغان حکومت طالبان کے پانچ ہزار قیدیوں کی رہائی میں 'رخنہ' ڈالنے کی کوشش نہ کرے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پریس ریلیز میں لکھا گیا ہے کہ تبادلے کے بعد دوسرا مرحلہ بین الافغان مذاکرات کا ہے جس میں ملک کے طویل عرصے سے جاری بحران کے حل کے لیے اہم اور مضبوط فیصلے ہوں گے۔ 

پریس ریلیز کے مطابق 'یہ امر لازمی ہے کہ دوحہ معاہدے کے مطابق اقدامات کیے جائیں۔ پہلا قدم وہ وفد ہے، جسے حال ہی میں حکومت نے کابل میں مقرر کیا ہے۔ ایسا لگتا ہے اس وفد کی تشکیل سنجیدہ طور پر نہیں کی گئی ہے، بلکہ وہ عارضی سیاست اور سطحی مفادات کی خاطر کیا گیا کوئی اقدام محسوس ہوتا ہے۔ دوحہ معاہدے کے مطابق بین الافغان مذاکرات میں کابل حکومت سمیت تمام افراد، حکومت یا بالاتر فریق کی حیثیت کی بجائے اپنی موثر نمائندگی کی حیثیت سے شریک ہوں گے۔ کسی بھی فریق کو امن عمل اپنے کنٹرول میں لینے کی اجازت نہیں ہے۔'

افغان مذاکراتی ٹیم پر تنقید کے حوالے سے افغاستان کے صدر اشرف غنی کے مشیر برائے پبلک اینڈ سٹریٹجک افئیرز وحید عمر نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'طالبان کا افغان مذاکراتی ٹیم پر تنقید ایسی ہی ہے جیسےفٹبال میچ ہو رہا ہوں اور ایک ٹیم دوسری کو بتائے کہ وہ ان کی پسند کے مطابق ٹیم بنا کر کھیلے۔ ہم نے اپنی ٹیم بنائی ہے اور آپ اپنی بنائیں تاکہ بات آگے بڑھ سکے۔'

وحید عمر نے طالبان کے کابل میں موجود وفد کے حوالے سے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ 'طالبان دس دنوں میں قیدیوں کی مشروط رہائی چاہتے ہیں جو ممکن نہیں ہے۔'

انھوں نے بتایا کہ یہ ایک لمبا عمل ہے اور اس میں طالبان کی جانب سے جلدی کی ضرورت نہیں ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا