پطرس کی بائیسکل اور ایک نامعلوم ملک

اگرآپ نے پطرس بخاری کا مضمون ’مرحوم کی یاد میں‘ پڑھا ہے تو اتفاق کریں گے کہ کرونا وائرس جیسی وبا نئی نہیں۔

(پکسابے)

اگرآپ نے پطرس بخاری کا مضمون ’مرحوم کی یاد میں‘ پڑھا ہے تو اتفاق کریں گے کہ کرونا وائرس جیسی وبا نئی نہیں۔

اگر ہم دنیا میں تباہی پھیلانے والی وبائیں 14 ویں صدی میں مغربی یورپ کی بلیک ڈیتھ، 1350 میں یورپ کے طاعون، 16ویں صدی میں امریکی نوآبادیات کی چیچک، 1801میں ہیٹی کے زرد بخار،1641 میں شمالی چین کے طاعون کی تفصیل بیان کریں گے تو بات لمبی ہو جائے گی۔ سو آج ہم فقط دنیا کے ایک ملک پر ’کرونا‘ جیسے وائرس کےاثرات کے علاوہ ایسی ہی جان لیوا وبا کے ایک اورشکار،یعنی اس بائیسکل کا ذکر بھی کریں گے، جو لگ بھگ ایک صدی قبل پطرس بخاری کو ان کے دوست مرزاصاحب نے مبلغ 40 روپے میں بیچی تھی۔ سمجھدار لوگ اپنی بائیسکلیں اس سے دورہی رکھتے تھے کہ کہیں ان کے سواری بھی وائرس کا شکار نہ ہو جائے۔

مختصرکرتے ہیں کہ اُس منحوس صبح بخاری صاحب نے اپنے برآمدے میں مرزا کی بھجوائی گئی بائیسکل نما چیزکی پہلی بارزیارت کی توحیران رہ گئے۔ ان کے ملازم نے بائیسکل کا تعارف کرایا تب بھی انہیں یقین نہیں آیا کہ یہ وہی چیز ہے جس کا عاجزانہ انداز میں سوداکرتے وقت مرزانے نقشہ کھینچا تھا۔ پھر جب پطرس بخاری نے مایوسی سے قبل از مسیح کی اس کرونا زدہ عجیب وغریب کھٹارا مشین کا چاروں طرف گھوم پھر کر بغورجائزہ لیا توانہیں یقین آ ہی گیا کہ یہ بائسیکل ہی ہے (یا کسی زمانے میں رہ چکی ہے)۔

قدرت کا کرشمہ دیکھیے کہ اس دور میں جو’وائرس‘ پطرس بخاری کی سائیکل میں پائے جاتے تھے، آج ایک نامعلوم ملک کی مشینری میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ اگراس سرزمین کا گھوم پھر کر تفصیلی جائزہ لیا جائے تو آخر یقین آ ہی جاتا ہے کہ یہ کوئی ملک ہی ہے (یا کسی زمانے میں ملک رہ چکا ہے)۔

بخاری صاحب نے گندگی سے اٹی، میلی کچیلی اور چھکڑا نما بائیسکل صاف نہ کرنے پر ملازم کو ڈانٹا۔ حالانکہ وہ اسے دو تین دفعہ صاف کر چکا تھا مگر کچھ مشینوں اور ممالک میں اتنا گند ڈالا جاتا ہے کہ ان کو صاف کرنا جوئے شیرلانے کے متراف ہوتا ہے۔ بخاری صاحب نے نوکر کو حکم دیا کہ کی اس کے سوراخوں میں تیل ڈالو، مگر مرزا اوران کے صاحبزادے نے بائیسکل پر اتنے ظلم ڈھائے تھے کہ میل اور زنگ کی کثرت سے وہ سوراخ بیچ ہی میں کہیں دب چکے تھے۔

مرزا نے کہا کہ تم بائیسکل کے اوپر ہی تیل ڈال دو، یہ بھی مفید ہوتا ہے۔ ادھراُس نامعلوم مملکت پر بھی ہر حکمران نے اتنے ستم ڈھائے کہ گاڑیوں میں تیل ڈلوانا مشکل ہو گیا اور خدا نہ کرے، دکانیں بند ہونے کی یہی صورت حال برقرار رہی تو کئی لوگ بے روزگاری، بھوک وننگ اوربچوں کی ضرورتیں پوری نہ کر سکنے پر، خصوصاً مزدور پیشہ اپنے اوپر تیل ڈال لیں گے کہ مفید ہوتا ہے اور سارے آلام سے نجات مل جاتی ہے۔ ویسے بھی اُس ملک میں یہ چلن عام رہا ہے۔

پطرس بخاری سوچتے رہے کہ جب آفتاب کی روشنی بائیسکل کے چمکیلے حصوں پر پڑے گی تو وہ جگمگا اٹھے گی اور ایک راج ہنس زمین کے ساتھ ساتھ اُڑتا نظر آئے گا۔ ادھراُس انجانی مملکت کے شہری بھی خیالی پلاؤ پکاتے رہے ہیں کہ جب انہیں جینوئن قیادت میسر آئے گی، نیز بجلی اور گیس کے علاوہ ضروریات زندگی میسر آئیں گی تو زندگی جگ مگ کرنے لگے گی۔ جبکہ ایک راج ہنس تو ان کے سروں پرمسلسل اڑ ہی رہا ہے۔ عجیب مماثلت ہے کہ پطرس بخاری کی بائیسکل کو چلتا دیکھ کر لگتا ہے اُس ملک کی مشینری چل رہی ہو کہ ’میں لحاف ہوں کسی اور کا مجھے اوڑھتا کوئی اور ہے۔‘

پطرس بخاری لکھتے ہیں: ’آخر بائیسکل پر سوارہوا، پہلا پاؤں ہی چلایا تو معلوم ہوا جیسے کوئی مردہ اپنی ہڈ یاں چٹخا چٹخا کر اپنی مرضی کے خلاف زندہ ہو رہا ہو، گھر سے نکلتے ہی تھوڑی سی اترائی تھی، اس پر بائیسکل خود بخود چلنے لگی، لیکن اس رفتارسے جیسے تارکُول زمین پر بہتا ہے۔‘

اسی تارکول کی رفتار سے چلنے والے ملک مذکور کے بارے میں شاعرنے کہا ہے:

کوئی بے فیض سفر پاؤں سے لپٹا ہے کہ ہم
چلتے رہتے بھی ہیں اور نقل مکانی بھی نہیں

 خطرے کی صلیب سے جھولتی اپنی سواری کے بارے میں بخاری مرحوم فرماتے ہیں: ’سائیکل کی آوازوں کے مختلف گروہ تھے۔ چِیں، چَاں، چُوں قسم کی آوازیں گدی کے نیچے اور پچھلے پہیے سے نکلتی تھیں۔ کھٹ، کھرڑ کے قبیل کی آوازیں مڈ گارڈوں سے آتی تھیں۔ چَر، چِرخ، چَر، چَرخ قسم کے سُر زنجیراور پیڈل سے نکلتے تھے، جب پیڈل پر زور پڑتا تو زنجیر (چین) میں ایک انگڑائی سی پیدا ہوتی، جس سے وہ تن جاتی اور چڑ چڑ بولنے لگتی، پھر ڈھیلی پڑ جاتی۔

جیسے مملکت متذکرہ میں ہر نئی حکومت ابتدا میں ملکی مسائل کے سامنے تن جاتی ہے، پھر ڈھیلی پڑ جاتی ہے۔

اسی طرح اہل سیاست اقتدار میں آنے سے پہلے مہنگائی کے خلاف چڑ چڑ کرتے رہتے ہیں مگر حکومت میں آ کر ڈھیلے پڑ جاتے ہیں۔ بائیسکل کا پچھلا پہیہ گھومنے کے علاوہ جھومتا بھی تھا۔ چنانچہ سڑک پر جو نشان پڑتا، اسے دیکھ کر لگتا کہ جیسے کوئی مخمور سانپ لہرا کر گزر گیا ہو۔

جیسے اُس ملک کی حکومتیں مخمورسانپ کی طرح نشان چھوڑ جاتی ہیں۔

مصنف مزید لکھتے ہیں: ’اگلے پہیے کے ٹائر میں ایک بڑا سا پیوند بھی لگاہواتھا، جس سے ہر چکر میں پہیہ اوپرکو اٹھتا اورمیرا سر یوں جھٹکی کھاتا، جیسے کوئی متواتر میری ٹھوڑی کے نیچے مُکے مار رہا ہو (جیسے نامعلوم ملک کے آمر آئین میں پیوند لگاتے ہیں، جن کی بنا پر ملک متواتر جھٹکیاں کھاتا رہتاہے)۔

بخاری صاحب لکھتے ہیں کہ جب اترائی پر سائیکل تیز ہوئی تو فضا میں بھونچال سا آ گیا (جیسے جمہوریت بحال ہونے پر اُس ملک میں ہوتا ہے)۔ چُوں چُوں پھٹ کی آوازیں اب چچُوں چچُوں پھٹ کی صورت اختیارکر گئیں (جیسے اس ملک کے ٹاک شوز میں ہوتا ہے) رقم طرازہیں کہ اِدھراُدھرکے لوگ چونکے۔ مائوں نے ڈر کے بچے سینے سے لگالیے( جیسے کسی ملک میں پولیس کودیکھ کرمائیں کرتی ہیں)۔

فرماتے ہیں کہ اس قدر تیزرفتاری سائیکل کی طبع نازک پر گراں گزری، چنانچہ اس میں یک لخت دوتبدیلیاں واقع ہو گئیں۔ ایک تو ہینڈل ایک طرف کو مڑ گیا، جس کانتیجہ یہ نکلا کہ میں جا تو سامنے کو رہا تھا مگر میراجسم دائیں طرف مڑا ہواتھا (کسی ملک کا سفر بھی یوں ہی کٹ رہا ہے)۔ اس کے علاوہ گدی دفعتاً چھ انچ نیچے بیٹھ گئی۔ چنانچہ میری کمر دہری ہو گئی (جیسے مہنگائی اور کرونا سے کاروباربند ہونے سےنامعلوم ملک کے لوگوں کی کمر دہری ہو چکی ہے)۔

کہتے ہیں کہ میں ہینڈل سیدھا کرتا تو گدی بیٹھ جاتی اور گدی اونچی کرتا تو ہینڈل پھر مُڑ جاتا۔ پھر دونوں نیچے ہو گئے (جیسے اُس دیس کی معیشت اورمعیارزندگی دونوں بیٹھ گئے ہیں)۔ فرماتے ہیں کہ ایسے میں ایک لڑکے نے مجھے دیکھ کر کہا، ’دیکھو یہ آدمی کیا کر رہا ہے؟ گویا اس بد تمیز کے نزدیک میں کو ئی کرتب دکھا رہا تھا (جیسے اُس ملک کے سیاسی اور مذہبی رہنماؤں کو دیکھ دنیا کہتی ہے کہ دیکھو، یہ لوگ کیا کر رہے ہیں!)

مصنف نے سائیکل ایک مستری کو دکھائی تو اس نے کہا، ’بھئی صدیاں ہی گزر گئیں، اس سائیکل کی خطا معاف ہونے میں نہیں آتی۔‘ ادھر جانے اس نامعلوم اُس ملک کے لوگوں کی بھی کیا خطا ہے کہ معاف ہونے میں نہیں آتی۔

پطرس دوبارہ بائیسکل پر سوارہو کر چلے ہی تھے کہ اس زور سے زمین پر گرے کہ بائیسکل ٹوٹ کر دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ مرزا نے دونوں حصے دائیں اور بائیں ہاتھوں میں اٹھائےاور انہیں پُل پر پہنچ کر دریا برد کر دیا مگر انہیں اس کا کوئی پچھتاوا نہیں ہوا۔

سنتے ہیں کہ وہ نامعلوم ملک بھی دولخت ہو گیا تھا مگرپچھتاوا انہیں بھی کوئی نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ مطابق تاریخ کچھ چیزوں میں کرونا جیسے وائرس دائمی ہوتے ہیں، کیونکہ ان کا علاج کرنے والے غیرسنجیدہ، پلاننگ سے نابلد، نااہل اور اناڑی ہوتے ہیں۔ وہ زیادہ سے زیادہ غریبوں کی عزت نفس مجروح کرتے ہوئے میڈیا میں راشن یا رقوم تقسیم کرنے کی اپنی تصویریں دکھا سکتے بیں یا وزارتوں میں نمائشی تبدیلیاں کر سکتے ہیں اور بس۔ ان کی سوچ کی پرواز یہیں تک ہی محدود ہوتی ہے۔                         

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ