کیا فکسرز کو دوبارہ کھیلنے کا موقع ملنا چاہیے؟

شائقین کرکٹ کے خیال میں دوسرے سزا یافتہ کھلاڑیوں کی طرح شرجیل خان بھی حق رکھتے ہیں کہ وہ ملک کی نمائندگی کرسکیں۔ اگر عامر کو اجازت مل سکتی ہے تو بورڈ کو شرجیل کے معاملے میں دوہری پالیسی نہیں رکھنی چاہیے۔

شرجیل خان واحد کھلاڑی ہیں جو فکسنگ کے الزام میں سزا کاٹ کر واپس کرکٹ میں آئے اور حالیہ پی ایس ایل میں ری ہیبی لیٹیشن کے بعد کراچی کنگز کی طرف  سے دوبارہ کھیلے۔(تصویر: اے ایف پی)

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق اوپنر شرجیل خان کی ٹیم میں شمولیت کی چہ میگوئیوں پر سابق ٹیسٹ کرکٹرز نے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

کرکٹ سے پیسہ کمانا کوئی برا نہیں اور ساری توجہ کھیل پر ہونے کے باعث ایک اچھے کھلاڑی کو زندگی میں کیریئر بنانے کے لیے کم وقت ملتا ہے اس لیے کرکٹ ہی واحد روزگار رہ جاتا ہے اور وہ زندگی گزارنے کے لیے کرکٹ کی طرف دیکھتا ہے۔

شروع میں کرکٹ محض ایک کھیل تھا، جس میں کچھ سپانسرز ہوتے تھے جو اپنے بجٹ کے حساب سے پیسہ خرچ کرتے تھے جس سے کھلاڑیوں کی ضرورتیں اور بورڈ کے خرچے پورے ہوتے تھے۔

لیکن جیسے جیسے کرکٹ مقبول ہوتی گئی، اس میں سرمایہ داروں کی دلچسپی  بڑھتی گئی، جو بنیادی طور پر تو مصنوعات کی تشہیر کے لیے کھلاڑیوں پر سرمایہ کاری کرتے ہیں لیکن اصل ہدف فکسنگ کا مکروہ گیم ہوتا ہے۔

فکسنگ کی وبا نے ہر سطح کی کرکٹ کو جکڑ رکھا ہے۔ انٹرنیشنل کرکٹ سے لے کر علاقائی سطح کی کرکٹ تک اس کے جراثیم نظر آتے ہیں۔

عالمی کرکٹ کے کینوس پر اس کی ابتدا 70 کی دہائی میں شروع ہوچکی تھی۔ بھارتی بکیز کے نام سب سے پہلے اس بیماری کے پھیلاؤ میں سامنے آئے، جنہوں نے پاکستانی اور بھارتی کھلاڑیوں کو خریدنا شروع کیا۔

ایک غیر روایتی ملک عرب امارات میں کرکٹ کی ابتدا اسی سلسلے کی کڑی تھی کیونکہ ایسے ملک میں جہاں مقامی لوگ کرکٹ جانتے بھی نہ ہوں وہاں اچانک بین الاقوامی مقابلوں کا اجرا کسی خاص مقصد کا نتیجہ ہی تھا۔

ایک سابق پاکستانی کپتان کو شارجہ میں کرکٹ مقابلوں کا انجینیئر کہا جاتا ہے جو دو بڑے حریف ملکوں کو ایسے میدان میں لے آئے، جہاں کھیل سے زیادہ آف دی فیلڈ سرگرمیاں تھیں۔

سٹہ بازی نے اس دور میں جو عروج پایا وہ آج تک رک نہیں سکا ہے۔ اب تو سٹہ بازی کے لیے ٹی ٹوئنٹی لیگز شروع کردی گئی ہیں جن میں سرمایہ داروں نے بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ یہ لیگز بظاہر تو کرکٹ کی عالمی تنظیم آئی سی سی کے زیر نگرانی ہوتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ آئی سی سی صرف تماشائی ہے اور سارے اختیارات اور نگرانی کا عمل متعلقہ کرکٹ بورڈ کے پاس ہی ہوتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان کرکٹ بھی فکسنگ کے مکروہ عمل سے محفوظ نہیں ہے۔ شارجہ کے میدانوں سے جو عمل دخل شروع ہوا اس نے اپنا رنگ ڈھنگ تو بدلا ہے لیکن ختم نہیں ہوسکا ہے۔

1992کے ورلڈکپ میں کپتان عمران خان اس فکسنگ سے اتنا پریشان تھے کہ انہوں نے ٹیم میں ہی شرطیں لگوانا شروع کردی تھیں تاکہ کھلاڑی اپنی شرط کے لیے دیانتداری سے کھیلیں۔

وقت کے ساتھ فکسنگ کے سائے بڑھتے ہی رہے اور 90 کی دہائی میں اس گندے گیم میں سلیم ملک، اعجاز احمد، عطاالرحمن، وسیم اکرم، وقار یونس، مشتاق احمد، دانش کینیریا اور نہ جانے کتنے کھلاڑیوں کے نام آتے رہے لیکن جس ڈھٹائی اور دیدہ دلیری کے ساتھ فکسنگ میں سلمان بٹ، محمد عامر اور محمد آصف نے خود کو ملوث کیا اس نے کرکٹ کو بہت بدنام کیا۔

ان تینوں کو سزا ملنے کے بعد فکسنگ کا سلسلہ رک جانا چاہیے تھا لیکن شرجیل خان، شاہ زیب حسن، ناصر جمشید  اور خالد مقبول نے سبق نہ سیکھا اور پیسے کی چمک دمک میں بھول گئے کہ ایک چھوٹے فائدے سے وہ پورا کیریئر ختم کر رہے ہیں۔

ان کھلاڑیوں میں شرجیل خان واحد کھلاڑی ہیں جو فکسنگ کے الزام میں سزا کاٹ کر واپس کرکٹ میں آئے اور حالیہ پی ایس ایل میں ری ہیبی لیٹیشن کے بعد کراچی کنگز کی طرف  سے دوبارہ کھیلے۔

شرجیل کی کرکٹ میدان میں واپسی پر سابق کھلاڑیوں نے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ فکسرز کے سب سے بڑے مخالف ممتاز کمنٹریٹر رمیز راجہ تو شرجیل سمیت کسی بھی کھلاڑی کو دوبارہ موقع دینے کے سخت خلاف ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر فکسنگ کے ابتدائی مجرموں پر تاحیات پابندی لگادی جاتی تو بات اتنی آگے نہ بڑھتی۔

شرجیل خان کی قومی ٹیم میں دوبارہ شمولیت کے سوال پر حال ہی میں پروفیسر کے نام سے مشہور محمد حفیظ نے اپنی ایک ٹویٹ میں سوال کیا تھا کہ کیا ہم کسی با صلاحیت کی وجہ سے اپنی عزت  اور اصولوں پر سمجھوتہ کرلیں؟ حفیظ کا اشارہ شرجیل کے داغ دار ماضی کی طرف تھا۔ وہ اس سے قبل محمد عامر کے ساتھ کھیلنے سےبھی انکار کرچکے تھے۔

محمد حفیظ کے اس بیان کا اصول پسند کرکٹرز اور غیر ملکی مبصرین نے تو خیرمقدم کیا لیکن اپنے ہی بورڈ نے لتاڑ دیا کہ حفیظ اپنے بارے میں فکر کرو، شرجیل کو چھوڑ دو۔ شرجیل کی قومی ٹیم میں واپسی ان کا مسئلہ نہیں ہے۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر راشد لطیف سمجھتے ہیں کہ شرجیل خان کو قومی ٹیم میں جگہ نہیں ملنی چاہیے لیکن چونکہ وہ پروفیشنل کرکٹر ہیں اور ان کا یہی روزگار ہے اس لیے ڈومیسٹک کرکٹ کی اجازت رہنی چاہیے۔

راشد لطیف جنہیں 'اینگری مین' کہا جاتا ہے، پاکستان ٹیم میں سپاٹ فکسنگ کا راز سب سے پہلے ان ہی نے فاش کیا تھا جس پر انہیں اور باسط علی کو ٹیم سے باہر بھی ہونا پڑا تھا۔

راشد لطیف کے خیال میں بورڈ کو نوجوان کرکٹرز کی درست انداز میں رہنمائی کرنی چاہیے کیونکہ کھلاڑی اپنی مقبولیت کے باعث سینکڑوں لوگوں سے ملتے ہیں اور وہ فیصلہ نہیں کرپاتے کہ کون ان کا دوست ہے اور کون فکسنگ میں الجھا سکتا ہے۔ وہ غلط لوگوں پر بھروسہ کرتے ہیں اور پہلے لالچ اور پھر بلیک میلنگ کے باعث فکسنگ کی دلدل میں پھنستے چلے جاتے ہیں۔

عمر اکمل کا کیس اس کی مثال ہے جو اپنی لاپروائی اور لاعلمی سے کئی دفعہ دھوکا کھا چکے ہیں اور اب پھر بورڈ کے ریڈار پر ہیں۔

راشد لطیف کے برعکس دوسرے ناقدین کی نظر میں شرجیل خان ایک بار پھر گرین شرٹ کے حقدار ہیں کیونکہ انہوں نے سزا کاٹ لی ہے اور آئی سی سی اور پی سی بی کے بنائے ہوئے اصولوں کے تحت ایک مجرم اگر سزا پوری کرچکا ہو تو وہ دوبارہ کھیل سکتا ہے۔

شرجیل دوبارہ کھیل سکیں گے یا نہیں، یہ کہنا تو ابھی قبل از وقت ہے لیکن شائقین کرکٹ کے خیال میں دوسرے سزا یافتہ کھلاڑیوں کی طرح شرجیل خان بھی حق رکھتے ہیں کہ وہ ملک کی نمائندگی کرسکیں جس طرح محمد عامر کھیل رہے ہیں۔ اگر عامر کو اجازت مل سکتی ہے تو بورڈ کو شرجیل کے معاملے میں دوہری پالیسی نہیں رکھنی چاہیے۔ 

پاکستان کرکٹ بورڈ نے اب تک شرجیل خان کے مسئلے پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ شاید بورڈ منتظر ہے کہ جب ٹیم کو ضرورت پڑے تو شرجیل کو طلب کر لیا جائے کیونکہ فی الوقت ان کی ٹیم میں جگہ بنتی نظر نہیں آرہی ہے۔ اس لیے بورڈ کے لیے تو ہنوز دلی دور است والا معاملہ ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ