نورین جبار، جنہوں نے تیزاب گردی کو روگ نہیں بنایا

بعض اوقات ہمارے ساتھ ایسے حادثات ہو جاتے ہیں کہ جن کے بعد لگتا ہے شاید زندگی ہی ختم ہو گئی ہے جو لوگ ان حادثات کو روگ نہیں بناتے وہ نورین جبار جیسے مضبوط اعصاب کے مالک ہوتے ہیں۔

نورین پر ان کے سابق شوہر نے تیزاب پھینک دیا جس سے ان کی آنکھ ضائع ہو گئی (عنبرین فاطمہ)

نورین جبار لاہور کی رہائشی ہیں۔ ان کے شوہر نے ان پر ظلم کا پہاڑ توڑا لیکن وہ کیسے اس ظلم کو سہہ گئیں اور اپنے پاؤں پر بھی کھڑی ہو گئیں، ہم نے یہ جاننے کے لیے ان سے خصوصی انٹرویو کیا۔

نورین نے بتایا کہ ’میری پھوپھی اور پھوپھا کا انتقال ہو چکا تھا۔ عظیم اکلوتا تھا اور اپنے چچا کے پاس رہتا تھا۔ میرے گھر والوں نے اس کے ساتھ میری شادی کر دی، میں شادی کر کے چچا کے گھر گئی لیکن ان کے ساتھ عظیم کے اختلافات ہو گئے ہمیں الگ کرائے کے گھر میں رہنا پڑا۔

’میرا شوہر پہلے کام کرتا تھا پھر ایک وقت آیا اس نے کام کرنا چھوڑ دیا اور یہ آس لگا لی کہ میرے سسرال والے میرے اور میرے بچوں کے اخراجات اٹھائیں۔ میرے والدین خرچہ اٹھاتے رہے میں نے بھی سلائی شروع کر دی اور جو سلائی سے پیسے جمع کرتی وہ گھر کا کرایہ دے دیتی۔ میرے والدین کے حالات خراب ہوئے تو انہوں نے میری مدد کرنا چھوڑ دی۔

’اب گھر کے اخراجات سلائی سے پورے نہیں ہو تے تھے عظیم سے جب پیسے مانگتی تو وہ لڑتا جھگڑتا۔ بس انہیں لڑائی جھگڑوں میں اس نے مجھے طلاق دیدی۔ طلاق دینے کے تین ماہ تک وہ غائب رہا، کسی سے کوئی رابطہ نہ کیا۔ ایک صبح میں اپنی دو بچیوں کو سکول چھوڑنے پیدل جا رہی تھی عظیم ایک دم پیچھے سے آیا اور میرے منہ پر تیزاب پھینک دیا اس کے نتیجے میں میری ایک آنکھ ضائع ہو گئی۔

’تیزاب کے چھینٹے میری بچیوں کے بازؤوں پر گرے۔ دسمبر کا مہینہ تھا، بچیوں نے کوٹ پہنے ہوئے تھے لہذا ان کی جِلد جلنے سے بچ گئی، لیکن میرا چہرہ بگڑ گیا۔ مجھے میو ہستپال داخل کروایا گیا۔ میرا علاج شروع ہوا مسرت مصباح کی این جی او ’سمائل اگین‘ والوں نے مجھ سے رابطہ کیا اور مجھ سے ہسپتال ملنے آئے۔ پہلے میں ڈر گئی کہ پتہ نہیں کیوں آئے ہیں لیکن جب مجھ سے علاج کے اخراجات پورے نہیں ہو رہے تھے تو میں نے ان سے کہا کہ میری مدد کیجیے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’اس کے بعد میرے بھائیوں نے پولیس سے رابطہ کیا اور عظیم کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے کوششیں شروع کر دیں۔ عظیم نے پیغام بھجوائے کہ میں معافی مانگنا چاہتا ہوں لیکن میرے بھائیوں نے معافی دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ تم نے ہماری بہن کی زندگی تو برباد کر دی۔ میں تو ہسپتال میں علاج کروا رہی تھی۔ میرے بہنوئی سے عظیم نے رابطہ کیا اور ملنا چاہا۔ میرے بہنوئی نے ابو کو بتا دیا اور ابو پولیس کو لے کر اس جگہ پہنچ گئے جہاں عظیم نے ملنے کے لیے بلایا تھا۔ یوں عظیم کو گرفتار کروایا گیا۔ اس کے بعد کیس چلا اور اس کو 14 برس کی سزا ہو گئی۔ آج وہ سزا کاٹ رہا ہے۔ میری بیٹیوں سے ملنے کے پیغامات بھجواتا ہے لیکن میری بیٹیاں اس سے ملنا نہیں چاہتیں۔

’جس وقت میرے منہ پہ تیزاب پھینکا گیا میری آنکھ ضائع ہو گئی تو مجھے لگا کہ میری تو دنیا ہی ختم ہو گئی ہے لیکن میں نے اپنی بیٹیوں کے لیے خود کو مضبوط بنایا اور مسرت مصباح سے سیلون کا کام سیکھ کر اپنے پاؤں پر کھڑی ہوئی۔ مجھ پہ تیزاب پھینکے ہوئے چھ سال ہوگئے ہیں آج تک علاج ہو رہا ہے۔ دو تین سال تو مجھے صرف بہتر ہونے میں لگے۔

’جب اکیلی تھی وسائل نہیں تھے، مجھے نہیں پتہ تھا کہ کیسے گھر چلاؤں گی، تب روتی دھوتی تھی لیکن بیٹیوں کے لیے خود کو مضبوط بنایا۔ اکیلی عورت جب اپنے گھر کو چلانے کے لیے گھر سے نکلتی ہے تو اس کے بارے میں غلط باتیں کی جاتی ہیں۔ مجھے بھی ایسی بہت ساری چیزوں کا سامنا رہا لیکن میں نے سب کی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی بچیوں کے لیے محنت کے عمل کو جاری رکھا۔‘

نورین نے کہا کہ ’میں نے بہت ساری ایسی لڑکیاں دیکھی ہیں جو ہمت ہار جاتی ہیں اپنے آپ کو دیکھ دیکھ کر روتی رہتی ہیں انہیں چاہیے کہ وہ ہمت باندھیں اگر روئیں گی تو کمزور ہوں گی، اگرکھڑی ہوں گی تو مضبوط ہوں گی۔ جس نے نقصان پہنچایا ہووہ تو یہی چاہتا ہے کہ اگلا ٹوٹ جائے لیکن اس کے ارادوں میں مات دینے کے لیے مضبوط بن کر دکھانا چاہیے۔ تاکہ وہ آپ کو مضبوط دیکھ کر شرمندہ ہو۔‘

یہ تو ایک نورین کی کہانی ہے، لیکن ہمارے میں ایسی بےشمار نورینیں ہیں جو ظلم و ستم کا شکار ہوتی ہیں لیکن ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔

خواتین جو اس ملک کی آبادی کا نصف سے بھی زیادہ ہیں وہ روشن خیالی کا نعرہ لگنے اور قوانین کی موجودگی میں بھی غیر محفوظ ہیں۔ اس کا اندازہ 2018اور 2019 کے ہیومین رائٹس کمیشن آف پاکستان کے ان دو برسوں کے اکٹھے کیے گئے ڈیٹا سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ 2018میں غیر ت کے نام پر ملک بھر میں 254 کیس رپورٹ ہوئے، صوبہ پنجاب میں 153، سندھ میں 71، کے پی کے میں 43، بلوچستان میں 16 کیس رپورٹ ہوئے۔

اس کے مقابلے پر 2019 میں کل 234 کیس رپورٹ ہوئے، صوبہ پنجاب میں145، صوبہ سندھ میں 44، کے پی کے میں 35، جب کہ بلوچستان میں نو کیس رپورٹ ہوئے۔

اگر ہم اعداد و شمار کو دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ2019 میں غیرت کے نام پہ قتل، جنسی ہراسانی گھریلو تشدد، تیزاب پھینکنے، خواتین کو اغوا کرنے اور ان کو جلائے جانے کے کیسزکی شرح 2018 کی نسبت معمولی کم رہی، لیکن شرح کم ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے جرائم کی شرح کم ہوئی ہے۔ جرائم کی شرح سامنے آنے والے اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہوتی ہے کیونکہ بہت سارے کیس رپورٹ نہیں کروائے جاتے اس لیے جرم کی صحیح صورت حال سامنے نہیں آتی۔

کیسزرپورٹ نہ کروانے کی بہت ساری وجوہات ہوتی ہیں جیسے لوگ کیا کہیں گے خاندان باتیں کرے گا، تھانے یا عدالت گئے تو بدنامی ہو گی وغیرہ وغیرہ۔ یہی وجہ ہے کہ جرائم کرنے والوں کے حوصلے بلند ہو جاتے ہیں۔

جہاں تک قوانین کی بات ہے تو ہراسانی ہو یا غیرت کے نام پر قتل و دیگر جرائم کے لیے قوانین موجود ہیں لیکن ان کی موجودگی بھی خواتین کو تحفظ فراہم نہیں کر پاتی اور دوسرا یہ بھی ہے کہ خواتین اپنے خاندان اور معاشرے کے دباؤ کی وجہ سے بھی قوانین سے مدد لینے سے ہچکچاتی ہیں۔ رہی بات فرسودہ رسموں کی تو ان کی جڑیں آج بھی بہت مضبوط ہیں۔

یاد رہے کہ قوانین بننے سے شرح میں شاید کمی آتی ہے لیکن جرم ختم کبھی بھی نہیں ہوتا۔ جرائم کا خاتمہ اور خواتین کو ان کا مقام معاشرے کے مائنڈ سیٹ کی تبدیلی ہی دے سکتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین