امریکہ ہتھیار خریدنے پر مزید پابندیوں کے خواب دیکھنا بند کرے: ایران

جواد ظریف کی جانب سے یہ بیان ایسی اطلاعات کے بعد سامنے آیا ہے جن کے مطابق امریکہ ایران پر ہتھیار خریدنے کی پابندیوں کی معیاد ختم ہونے کے بعد ان پابندیوں کو مزید بڑھانا چاہتا ہے۔

جواد ظریف کا  کہنا تھا کہ ’خواب دیکھنا بند کر دیں۔ ایرانی قوم اپنی قسمت کا فیصلہ ہمیشہ خود کرتی ہے‘(اے ایف پی)

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران پر عائد ہتھیار خریدنے کی پابندیاں بڑھانے کے ’خواب دیکھنا بند کر دے۔‘

جواد ظریف کی جانب سے یہ بیان ایسی اطلاعات کے بعد سامنے آیا ہے جن کے مطابق امریکہ ایران پر ہتھیار خریدنے کی پابندیوں کی معیاد ختم ہونے کے بعد ان پابندیوں کو مزید بڑھانا چاہتا ہے۔

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو ’قانونی موقف تیار کر رہے ہیں جن میں کہا جائے گا امریکہ ایران کے ساتھ طے کی جانے والے اس جوہری معاہدے کا حصہ ہے جس سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ علیحدگی کا اعلان کر چکے ہیں۔‘

جواد ظریف کے مطابق یہ عمل ’اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل پر ایران پر عائد ہتھیار خریدنے کی پابندیوں میں توسیع اور سخت پابندیاں عائد کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کے منصوبے کا حصہ ہے۔‘

امریکہ اور ایران کے درمیان دہائیوں سے جاری کشیدگی میں اس وقت سے مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جب امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کیے جانے والے جوہری معاہدے سے 2018 میں یک طرفہ طور پر علیحدگی اختیار کرتے ہوئے ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

یہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران پر ’زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے‘ کی مہم کا حصہ تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے پابندیوں میں توسیع کے اس منصوبے پر ردعمل اپنی ایک ٹویٹ میں دیا۔

جواد ظریف نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ دو سال پہلے مائیک پومیو اور ان کے ’باس نے جوہری معاہدے سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا اور وہ خواب دیکھ رہے تھے کہ زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈال کر ایران کو جھکایا جا سکتا ہے۔ اپنے اس مقصد میں ناکامی کے بعد اب وہ دوبارہ اس معاہدے کے فریق بننا چاہتے ہیں۔‘ 

جواد ظریف کا مزید کہنا تھا کہ ’خواب دیکھنا بند کر دیں۔ ایرانی قوم اپنی قسمت کا فیصلہ ہمیشہ خود کرتی ہے۔‘

سال 2015 میں ایران نے امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور چین کے ساتھ ایک جوہری معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ جس کے تحت جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے بدلے ایران پر بین الاقوامی پابندیوں کو نرم کیا جانا تھا۔

امریکہ کی جانب سے معاہدے سے علیحدگی کے بعد ایران نے بھی اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ فعال کر دیا تھا۔ ایران کے مطابق ایسا معاہدے کی شرائط کے تحت کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

واشنگٹن کی جانب سے ایران پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے اور اب امریکہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قرارداد 2231 کے تحت ایران پر اکتوبر میں ہتھیاروں کی خریداری پر عائد ختم ہونے والی پابندیوں میں مزید توسیع کا خواہاں ہے۔

ایران کے ساتھ 2015 میں ہونے والا معاہدہ بھی اسی قرار داد کے تحت کیا گیا تھا۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق امریکہ ایک نئی قرار داد کے ذریعے دیگر ممالک پر ایران کو ہتھیار فروخت کرنے سے روکنے کے لیے پابندی لگانا چاہتا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ ایک منصوبے کی منظوری دے چکے ہیں جس کے تحت امریکہ یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ اب بھی اس جوہری معاہدے کا ایک 'قانونی فریق' ہے۔

جبکہ ایران معاہدے سے علیحدگی کے بعد امریکہ پر اقوام متحدہ کی قرار دار نمبر 2231 کی خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کر چکا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا