پاکستان کے بڑے قرنطینہ مرکز کے انتظامات میں کیسے مکمل ہوئے؟

سکھر کے میئر بیرسٹر ارسلان شیخ کے مطابق ایران سے آنے والے ہزاروں زائرین کو آئیسولیشن میں رکھنے کے لیے قرنطینہ مرکز  بنانا ایک بڑا چیلنج تھا۔

پاکستان میں کرونا (کورونا) وائرس کا پہلا کیس رپورٹ ہونے کے بعد سندھ حکومت کی جانب سے سکھر میں پاکستان کا سب سے بڑا قرنطینہ مرکز قائم کرنے کے لیے شہری انتظامیہ کو دیا جانے والا ٹاسک ایک بہت بڑا چیلنج تھا، تاہم سکھر کے میئر بیرسٹر ارسلان شیخ کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ انتظامات نو دن میں مکمل کیے۔

انڈپینڈنٹ اردو کو دیے گئے انٹرویو میں بیرسٹر ارسلان شیخ نے بتایا کہ اس قرنطینہ مرکز کے لیے کئی عرصے سے بند پڑے لیبر سکوائر کے دو ہزار فلیٹس کا انتخاب کیا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’پہلے وہاں صفائی کروانے کے لیے جھاڑیوں کو صاف کیا گیا۔ بعد میں ان فلیٹوں کے کمروں کو رہائش کے قابل بنایا گیا جہاں ایران سے آنے والے 1100 سے زائد مہمانوں کو قرنطینہ میں رکھنا تھا۔ اس قرنطینہ مرکز کو صرف نو دن میں قائم کرنا تھا جو ایک مشکل کام تھا۔‘ 

انہوں نے مزید بتایا: ’وہاں آنے والے مہمانوں کے کھانے پینے، نکاسی آب اور پانی کا بندوبست کرنے کے ساتھ ساتھ مرکز میں کینٹین بنائی گئی جبکہ ایک شکایتی مرکز قائم کرکے ایپلیکیشن بھی بنائی گئی تاکہ وہاں رہنے والے اپنا کمرہ نمبر لکھ کر شکایت درج کروا سکیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ایران سے آنے والے زائرین اپنا قرنطینہ مکمل کرکے اپنے گھروں کو جاچکے ہیں اور اب سکھر قرنطینہ مرکز میں آس پاس اضلاع کے لوگوں کو رکھا جارہا ہے۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان