رشی کپور: راج کپور کے ترکش کا آخری تیر

رشی کپور کبھی بھی نمبر ون ہیرو نہیں رہے، نہ سہی، لیکن وہ ان گنت فلم بینوں کو تفریح ضرور فراہم کر گئے۔

فلم بوبی کی کامیابی نے راج کپور کا سارا خسارہ پورا کر دیا (آر کے فلمز)

بالی وڈ شو مین راج کپور کا فلم نگری میں 22 سالہ تجربہ، 56 لاکھ روپے کی بھاری رقم اور چھ سال کی محنت ’میرا نام جوکر‘ کی شکل میں باکس آفس پر بری طرح پٹ گئی۔

اگلے سال 1971 میں پہلے سے شروع کی گئی ایک اور فیملی فلم ’کل، آج اور کل‘ میں پرتھوی راج، رندھیر کپور، ببیتا اور خود راج کپور شامل تھے۔ یہ فلم بھی باکس آفس پر کوئی چمتکار دکھانے میں ناکام رہی۔

بظاہر ایسا لگتا تھا کہ کپور خاندان کا سورج گہنانے لگا ہے۔ ’میرا نام جوکر‘ راج کپور کا خواب تھا جو کابوس نکلا۔ اس کے ملبے سے اگر کچھ اچھا برآمد ہوا تو راج کے بیٹے رشی کپور کی عمدہ اداکاری تھی۔ راج کے بچپن کا کردار ادا کرتے ہوئے رشی فلم میں اپنی استانی سے شدید محبت کرتا ہے۔

راج کپور فوراً کسی رومانوی فلم میں قسمت آزمائی کرنا چاہتے تھے تاکہ قرض کی رقم ادا کی جا سکے۔ راجیش کھنّہ کا ستارہ بلندیوں پہ تھا۔ لیکن راج کپور کے پاس تو اتنا سرمایہ ہی نہ تھا کہ اس وقت کے سپرسٹار راجیش کھنّہ کو کاسٹ کریں۔ راج کے پاس بازی کھیلنے کو ایک ہی پتہ بچا تھا، ان کا اپنا بیٹا رشی!

رشی کپور کے ساتھ مرکزی کردار میں دوسرا چہرہ بھی بالکل نیا تھا۔ ایک 16 سالہ لڑکی ڈمپل کپاڈیہ۔ راج کپور نے میڈیا کے ذریعے 'چنٹو' اور ڈمپل کے پس پردہ رومانس کو خوب ہوا دی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ’بوبی‘ نہ صرف اپنے سال کی کامیاب ترین فلم ثابت ہوئی بلکہ پوری دہائی میں صرف 'شعلے' باکس آفس پہ اس سے زیادہ کما سکی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈمپل کو بہترین اداکارہ کا فلم فیئر ایوارڈ ملا۔ رشی نے 30 ہزار روپے میں فلم فیئر خریدا اور امیتابھ بچن کو ’زنجیر‘ کے لیے اس ایوارڈ سے محروم کر دیا گیا۔

لکشمی کانت پیارے لال نے پہلی بار 'بوبی' میں راج کپور کے ساتھ کام کیا۔ فلم کے گیت خوب چلے۔ ’ہم تم کمرے میں بند ہوں،‘ ’میں شاعر تو نہیں‘ اور ’جھوٹ بولے کوا کاٹے‘ آج بھی مقبول گیت ہیں۔

اس کے بعد رشی کپور کو دوسرے سٹوڈیوز کی طرف سے آفرز آنے لگیں۔ البتہ بوبی جیسی ہٹ فلم کے بعد اگلے سال آنے والی ’زہریلا انسان‘ پٹ گئی۔ اس سے اگلے سال ریلیز ہونے والی دو فلمیں ’زندہ دل‘ اور ’راجہ‘ بھی باکس آفس پر کوئی زیادہ جادو نہ دکھا سکیں۔

رشی کامیابی کا ایک قدم اٹھانے کے بعد ناکامی کی تین سیڑھیں گر چکے تھے۔ دراصل ینگ اینگری مین امیتابھ بچن کی آمد سے فلم بینی کا رجحان ہی بدل گیا تھا۔ ایکشن فلموں کا نمک رومانس کی مٹھاس پہ بھاری تھا۔ رشی کپور ہی کیا راجیش کھنّہ جیسا سپر سٹار امیتابھ کے گھونسے کی تاب نہ لا سکا۔

ایکشن کے ساتھ ساتھ دوسرا سکہ جو رائج تھا وہ تھا ملٹی سٹارر فلمز۔ 70 اور 80 کی دہائی میں سوائے راجیش کھنّہ کوئی بھی اداکار سولو ہیرو کی شکل میں زیادہ اونچا نہ اڑ سکا۔ 1974 سے 1997 کے درمیان رشی کپور کی بطور سولو ہیرو 40 فلمیں ناکام جب کہ محض 11 کامیاب رہیں۔ ’بوبی،‘ ’لیلی مجنوں،‘ ’رفوچکر،‘ ’سرگم،‘ ’قرض،‘ ’پریم روگ،‘ ’نگینہ،‘ ’ہنی مون،‘ ’بنجارا‘ اور ’حنا۔‘

1974 میں ’زہریلا انسان‘ سے فلم اور 1980 سے جیون ساتھی بننے والی نیتو سنگھ بھی رشی کے ساتھ کوئی چنگاریاں نہ پیدا کر سکیں۔ دونوں کی کامیاب فلمیں وہی ہیں جو ملٹی سٹارر ہیں جیسے ’کھیل کھیل میں،‘ ’کبھی کبھی،‘ ’امر، اکبر، انتھونی،‘ ’پتی، پتنی اور وہ،‘ ’دنیا میری جیب میں۔‘

1976 سے 2000 تک رشی کپور نے 41 ملٹی سٹارر فلمز کیں جن میں سے 24 کامیاب اور 17 ناکام ہوئیں۔ پرتھوی، راج، شمی، ششی سے چلتا کپور خاندان فلم سے وابستہ تعلق رشی نے طویل عرصہ نبھایا۔ رشی کپور ایک پرکشش رومانوی ہیرو کے طور پہ ان گنت دلوں میں بستے رہے لیکن وہ کبھی بھی نمبر ون کی دوڑ میں شامل نہ ہو سکے۔

راجیش کھنّہ نے رومانس اور اس سے جڑی مسحور کن فضا کو یکسر بدل دیا۔ اس سے پہلے دیو آنند اور راج کپور نے اپنے انداز سے رومانس کی بنیاد رکھی۔ 'چنٹو' کچھ ایسا منفرد انداز، کوئی تازہ کاری اور نئی جہت تو متعارف نہ کروا سکے لیکن شائقین کو تفریح ضرور فراہم کی۔

رشی کپور نے اپنی آپ بیتی ’کھلم کھلا‘ میں امیتابھ بچن پر کھل کر تنقید کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ امیتابھ کی اکثر فلمیں ملٹی سٹارر ہیں لیکن انہوں نے کبھی اپنے ساتھی اداکاروں کے کام کو نہیں سراہا۔ امیتابھ سے متعلق ایسی ہی شکایات شترو گھن سنہا اور ونود کھنّہ بھی کر چکے ہیں۔

آخر میں رشی کپور پر فلمائے گئے 10 یادگار گیتوں کا ذکر ہو جائے:

  1. میں شاعر تو نہیں
  2. تیرے میرے ہونٹوں پر میٹھے میٹھے گیت متوا
  3. ڈفلی والے ڈفلی بجا
  4. پردہ ہے پردہ
  5. دردِ دل، دردِ جگر
  6. ہو گا تم سے پیارا کون؟
  7. اس ریشمی پازیب کی جھنکار کے صدقے
  8. چل میرے بھائی
  9. میرے قسمت میں تو نہیں شاید
  10. ہم تو چلے پردیس

زیادہ پڑھی جانے والی فلم