وبا کے دور میں حیرت سے گزرتا ہوا رمضان

خدا خبر کہ رمضان میں شیطان کو بند ہوتے کبھی کسی نے دیکھا بھی ہو گا کہ نہیں، ہم نے تو جیتے جی دیکھ لیا ہے۔

(اے ایف پی)

دنیا میں بہت سے بہت یہ ہوتا ہے کہ گنگا الٹی بہنے لگتی ہے۔ ماہرین کے لیے اس میں پریشانی کی کوئی بات اس لیے نہیں ہوتی کہ گنگا کی سمت کم از کم معلوم ہوتی ہے۔ یہاں تو آج تک اُس سمت کا پتہ نہیں چل سکا جس میں ہماری گنگا بہتی ہے۔ سیاسیات، عمرانیات، نفسیات اور یہاں تک کہ الہیات کے ماہرین بھی سر پکڑ لیتے ہیں کہ ایسے میں غزل چھیڑنے کے لیے انترہ کہاں سے اٹھایا جائے اور تان کہاں توڑی جائے۔

اپنے کام کے علاوہ ہمیں دنیا کے ہر کام میں قیامت کی دلچسپی ہے۔ کرکٹ کے کھلاڑیوں نے کھیل پیش کرنا تھا، وہ مبلغ بن گئے۔ صحافیوں نے خبر دینی تھی، وہ سماج سُدھارک ہوگئے۔ قاضیوں نے فیصلے سنانے تھے، وہ تجزیہ کار ہو گئے۔ ٹی وی میزبان نے تجزیے لینے تھے، وہ فیصلے سنا رہے ہیں۔ محکمے کے ترجمانوں نے اطلاع دینی تھی، وہ آئین پر رائے دے رہے ہیں۔ بندوقچی نے حفاظت کرنی تھی، وہ معیشت سُدھارنے نکلا ہوا ہے۔ سیاست دان نے کاروبارِ مملکت چلانا تھا، وہ نیفے میں پستول اڑس کر چائنیز قونصلیٹ پر حملہ آور ہونے والے دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے نکلا ہوا ہے۔

رہے علمائے کرام و شیوخ عظام، تو کُل کائنات کا درد سمیٹ کر خدا نے اُن کے سینے میں سمو دیا ہے۔ چاند دیکھنا ماہرینِ فلکیات کا کام تھا، مگر یہ ذمہ داری انہوں نے اپنے سر لے لی ہے۔ کرونا سے بچاؤ کے لیے تدابیر طبیبِ خاذق نے بتانی تھیں، مگر یہاں بھی واعظِ شہر نسخے بانٹ رہے ہیں۔

دنیا حیران ہے کہ اس بار چاند کے مسئلے پر ہم نے روایتی چاند ماری کیوں نہیں کی۔ اس کی سیدھی اور سادہ سی وجہ تو یہ ہے کہ اِس بار رنگ میں ملانے کو ہمیں زیادہ معیاری بھنگ مل گئی تھی۔ کچھ نادانوں کو جانے کیوں توقع تھی کہ باقی اسلامی دنیا کی طرح ہم بھی طبی ماہرین کی تجاویز پر دِلوں کے پرچم سرنگوں کردیں گے۔ نادانوں نے یہ نہیں سوچا کہ ایسا اگر ممکن ہوتا تو پھر ہم اقبال کے شاہین ہی کیوں کہلاتے، خدا کے بندے کیوں نہ کہلاتے۔ نادان دیکھتے رہ گئے اور ہم نے انتظامیہ کو تگنی کا ناچ نچاکر عبادت خانے کے آٹھوں دروازے کھلوالیے۔

جب یہ طے ہو گیا کہ رمضان میں عبادت گاہیں کھلی رہیں گی تو مولانا نے کہا، میں تو نماز اور تراویح گھر پر ہی ادا کروں گا۔ یہ سب اگر گھر پر ہی کرنا تھا تو پھر رمضان میں عبادت گاہیں کھلوانے کے لیے انتظامیہ کی جان کیوں جلائے رکھی؟ مولانا نے جواب دیا، معاہدے میں طے پایا ہے کہ پچاس سال سے اوپر کے افراد مسجد نہیں آئیں گے۔ اب چونکہ میری عمر زیادہ ہے اور پھر میں امن پسند بھی بہت ہوں، اس لیے میں سارے پردے گرا کر گھر میں ہی صوم وصلوۃ کا اہتمام کرنا چاہوں گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مولانا کا جواب سن کر مجھ جیسے خطاکاروں کو یوں محسوس ہوا جیسے یہ معاہدہ حکومت کے ساتھ نہیں بلکہ براہ راست کرونا کے ساتھ طے پایا ہے اور کرونا نے کسی شق میں یہ یقین دہانی کرادی ہو کہ پچاس سال سے کم عمر کا کوئی شخص مسجد آئے گا تو اول میں اس کے گلے نہیں پڑوں گا۔ گلے پڑ بھی گیا تو منہ اٹھا کے اس کے ساتھ گھر نہیں آؤں گا۔ لیکن اگر وہ شخص خود ہی اصرار کر کے مجھے گھر لے جاتا ہے تو بھی اطمینان رکھیے کہ میں سلام دعا کے لیے آپ کے کمرے میں نہیں آؤں گا، کیونکہ ایک تو آپ کی عمر پچاس سال سے زیادہ ہے اور پھر آپ امن پسند بھی بہت ہیں۔  

دلِ ناتواں نے خوب مقابلہ کرکے عبادت خانے کھلوا تو لیے، مگر جو معاہدہ طے پایا اُس میں ایک چیز بہت خوب ہو گئی۔ لوگ رمضان اور مسجد میں جن ضروری چیزوں پر انسانیت کی رو سے عمل نہیں کرتے تھے، معاہدے کی رو سے اب شاید کر رہے ہوں گے۔ مثلاً، مسجد جائیں تو تین مقامات وہاں ایسے ملتے ہیں جو طبعیت کو مکدر کردیتے ہیں۔ ایک حاجت خانہ، دوسرا وضو خانہ اور تیسری وہ جگہ جہاں چپل اتاری یا رکھی جاتی ہے۔ حاجت خانوں کی اندر کی حالت دیکھ کر تو لگتا ہے جیسے عبادت گزار اپنے کیے دھرے کو ایک بڑی محنت سمجھتے ہیں اور اپنی محنت پر وہ ہر گز پانی پھیرنا نہیں چاہتے۔ وضو خانے اور اس کے اطراف میں پاؤں کے میلے نشان اتنے واضح ہوتے ہیں جیسے عبادت گزاروں نے صراطِ مستقیم پر چلنے کے لیے اپنے نقشِ قدم چھوڑ دیے ہوں۔ گھٹنے سے گھٹنہ ملا کے بیٹھے ہونے کے باجود لوگ اس ہیبت کے ساتھ ناک سوڑتے ہیں کہ چپل چھوڑ کے بھاگ جانے کو جی چاہتا ہے۔

 مسجد میں داخل ہوتے ہی آپ کی پہلی نظر جوتوں پر پڑتی ہے جو کراچی کے ٹریفک جام جیسا منظر پیش کررہے ہوتے ہیں۔ جوتے یا تو مشرق مغرب میں پھیلے ہوئے ملتے ہیں یا پھر ایک دوسرے کی گردن پر سوار ملتے ہیں۔ کوئی چپل اکیلی کہیں نظر آجائے تو وہ الٹی لیٹ کر ستارے گن رہی ہوتی ہے۔ عبادت گزاروں نے مسجد جانے کے لیے گھر میں جوتوں کا الگ سے ایک بے روزگار جوڑا بھی رکھا ہوتا ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ مسجد میں دعا قبول ہونے کا کوئی امکان ہو نہ ہو، جوتے قبول ہونے کا امکان پوری طرح سے روشن رہتا ہے۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ جس حال میں آپ جوتا چھوڑ کے جاتے ہیں واپسی پر وہ اُس حال میں ملتا نہیں ہے۔ یا تو جوتے کا کاجل بری طرح سے پھیل چکا ہوتا ہے یا پھر اس کی ناک مٹی میں مل گئی ہوتی ہے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ نماز پڑھ کے آئے تو چپل غائب ملی۔ سب نمازی چلے گئے تو پیچھے ایک جوڑا چپل رہ گئی۔ آپ نے سوچا، شاید کسی کی نہیں ہے چلو میں پہن جاتا ہوں۔ گھر پہنچتے پہنچتے اندازہ ہوا کہ یہ تو آپ ہی کی چپل ہے۔ اس کا خضاب اور میک اپ اتنی جلدی اتر گیا تھا کہ جھریوں اور سفیدی کی وجہ سے آپ اسے پہچان نہیں پائے تھے۔

علمائے کرام کے ساتھ طے ہوا ہے کہ عبادت گزار گھر سے وضو کر کے آئیں گے اور محدود تعداد کو باجماعت نماز کی اجازت ہو گی۔ معاہدے کی اس شق پر اگر واقعی عمل درآمد ہو رہا ہے تو یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ مساجد میں اب نہ تو حاجت خانوں سے بوئے دوست آ رہی ہو گی، وضو خانوں میں پھیپھڑوں کا زور لگا کے لوگ ناک کھینچ رہے ہوں گے، نیکوکاروں کے قدموں کے مبارک نشان مل رہے ہوں گے اور نہ ہی جوتوں کا کوئی غیر منظم سالانہ اجتماع ہو رہا ہو گا۔ یہ نصف ایمان کے وہ سارے تقاضے ہیں جو مذہبی تعلیمات میں تو بہت پہلے موجود تھے، اب معاہدے کی شقوں میں بھی موجود ہیں۔ یقین سے تو نہیں کہا جاسکتا، امید البتہ کی جا سکتی ہے کہ یہ تقاضے ان دنوں عبادت گزاروں کی زندگیوں میں بھی کہیں نہ کہیں موجود ہوں گے۔

رمضان میں ایک بڑا مسئلہ خوراک کے معاملے میں ہماری بدذوقیوں کا ہے۔ اِس حوالے سے کوئی سائنسی حوالہ دینے کا کوئی فائدہ ہوتا تو کرونا کے معاملے میں اتنی مارا ماری نہ ہوتی۔ مذہب کے ترازو میں بھی اگر رمضان والی خوراکیں تول لی جائیں تو پلڑے ہانپ کے زمین سے لگ جائیں گے۔ ہمیں لگتا ہے سارا دن بھوکا پیاسا رہنے کی وجہ سے معدہ خالی گودام بن جاتا ہے۔ سموسے پکوڑے رول، کیلے سیب امرود، چنا چاٹ کریم چاٹ، دہی بڑے دہی بھلے، کچوریاں، پوریاں، بار بی کیو اور پانچ رنگ کے مشروبات سمیت جو ہاتھ آتا ہے ہم ایک ہی ہلے میں ڈکار جاتے ہیں۔

عام حالات میں جو چیزیں ہم کھانے کے بعد دو چار چمچ کھاتے ہیں وہ افطار میں کھانے سے پہلے رج رجا کے کھا جاتے ہیں۔ جب سانس لینے تک کی گنجائش ختم ہو جاتی ہے تب ہم ڈٹ کے کھانا کھاتے ہیں۔ اس کے بعد پیٹ اوڑھ کے ایسے لیٹتے ہیں کہ اگر کوئی کان بھی لے کر بھاگ جائے تو گردن ہلا کے دیکھ بھی نہیں پائیں گے کہ کون تھا اور کہاں چلا گیا۔ سب سے دلچسپ بات تو یہ ہے کہ بسیار خوراکی اور بے احتیاطی کی اس پوری سکیم کو ہم رحمتِ خداوندی سے تعبیر کرتے ہیں۔  

اب لاک ڈاؤن کی برکت سے ایک طرف تو بازار بند ہیں، دوسری طرف لوگ خود بھی فاصلہ رکھے ہوئے ہیں اور تیسری طرف لوگ بے یقینی کی صورتِ حال کی وجہ سے پائی پائی بھی پھونک پھونک کر خرچ کر رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ایک تو دسترخوان سکڑ گئے اور دوسرا یہ کہ بازار کی اشیا سے ہم گھر کی خوراک تک محدود ہو گئے۔ چاہے ان چاہے کی اس صورتِ حال میں لوگوں کی خوراک تقریباً ویسی ہی ہو گئی ہے جس کا تقاضا مذہبی تعلیمات نے بھی اپنے پیروکاروں سے کیا ہے۔

ایک بڑا المیہ ہماری صفائی ستھرائی کا بھی ہے۔ ہاتھ دھونے کے معاملے میں تو ہم ویسے بھی بادشاہ ہیں ، روزے دار کے منہ سے آنے والی بدبو کو بھی ہم نے گلوریفائی کیا ہوا ہے۔ ہماری ایک عزیزہ کافی زمانے تک اس بات پر پریشان رہیں کہ میرے منہ سے روزے کی حالت میں اذیت ناک بو کیوں نہیں آتی، کہیں میرے روزے خدا کے ہاں مسترد تو نہیں ہو رہے؟ روزے دار کے منہ سے آنے والی بو سے کراہت کا اظہار کر دیا جائے تو معاملہ قریب قریب توہین اور گستاخی والا ہو جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ افطاری اور سحری کے بعد ہم سرجھاڑ دسترخوان سے اٹھتے ہیں اور منہ پھاڑ نماز کے لیے پہنچ جاتے ہیں۔ نماز کے دوران کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوتے ہیں اور کٹھی میٹھی ڈکاروں کا ٹورنامنٹ شروع کر دیتے ہیں۔ ان ڈکاروں اور بھپکوں سے آپ کو چپ چاپ اس لیے گزرنا ہوتا ہے کہ روزے دار کے منہ سے آنے والی بو کو مشک و عنبر سے بھی زیادہ عزیز بتایا گیا ہے۔

اب ایک طرف کرونا کی وجہ سے صفائی ستھرائی کا معاملہ اتنی حساسیت اختیار کر چکا ہے کہ لوگ ہاتھ دھونے پر ہی نہیں، صابن اور سینیٹائزر سے ہاتھ دھونے پر مجبور ہیں۔ ڈکار والا معاملہ بھی اب کچھ قابلِ برداشت اس لیے ہو گیا ہوگا کہ معاہدے میں نمازیوں کے بیچ تین فٹ کا فاصلے رکھنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔ ڈکاریں تو اب بھی دما دم سنائی دیتی ہوں گی مگر دوسروں پر کم از کم چھینٹیں تو نہیں پڑتی ہوں گی۔ 

ایک بڑی مشکل ہماری یہ ہے کہ ہم روزہ رکھنے کے بعد معاملہ اپنے اور خدا کے بیچ رہنے نہیں دیتے۔ ہم بیچ بازار میں اپنے اور دوسرے لوگوں کے بیچ میزان قائم کر دیتے ہیں۔ ہمارے ماتھے پر جلی حروف میں لکھا ہوتا ہے کہ مجھے کام مت بولنا میں روزے سے ہوں۔ دفتر کا ماحول اعلان کر رہا ہوتا ہے کہ تمیز سے بات کرنا جناب کا متھا گھوما ہوا ہے۔ کوئی بیمار ہے، لاغر ہے یا کسی بھی وجہ سے بے روزہ ہے، وہ ہمارے سامنے کھانا پینا نہ کرے کیونکہ ہماری شکم آزاری ہوتی ہے۔

ہونا تو یہ چاہیے کہ ہم روزہ رکھ کر دوسروں کے ساتھ تمیز سے پیش آئیں۔ ہم الٹا دوسروں سے تقاضا کرتے ہیں کہ سنبھل کے بات کرو کیونکہ ہم نے اس وقت دنیا پر ایک احسان کیا ہوا ہے۔ گلی محلوں، چوک چوراہوں اور سڑکوں بازاروں میں سال کے گیارہ مہینے وہ دھینگا مشتی نہیں ہوتی جو اس ایک مہینے میں ہوجاتی ہے۔

 لاک ڈاؤن کی وجہ سے چونکہ بازاروں میں چہل پہل کم ہے تو مارا ماری، جھانکا تانکی، نوک جھونک، روک ٹوک اور مداخلت کی شرح بھی کم سے کم درجے پر آ گئی ہے۔ یہ دیکھ کر دیوانے کو خیال آ رہا ہے کہ لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد بھی لوگ وہی ماحول دوست اور انسان دوست زندگی گزاریں گے جو کرونا کی وجہ سے ان دنوں گزار رہے ہیں۔ مگر دیوانے کو کون بتائے کہ لوگ تو بے تابی سے انتظار کر رہے ہیں کہ لاک ڈاؤن کے تالے جلد کھلیں تاکہ ہم مشرقی تہذیب کے پرانے رنگ پھر سے جما کے دکھائیں۔

خدا خبر کہ رمضان میں شیطان کو بند ہوتے کبھی کسی نے دیکھا بھی ہو گا کہ نہیں، ہم نے تو جیتے جی دیکھ لیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ