وادی نیلم: پھول والوں کو دس سالہ محنت ضائع ہونے کا خطرہ

وادی کے کسان اس وقت تذبذب کا شکار ہیں کہ کیسے اپنی تباہ ہوتی فصل کو بچائیں۔ یہ پھول شادی بیاہ یا پھر تقریبات کے لیے منگوائے جاتے تھے لیکن کرونا وبا کی وجہ سے تقریبات اور شادیاں نہ ہونے کی وجہ سے پھولوں کی فصل تباہی کے دہانے پر ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام  کشمیر کے  پہاڑی ضلع نیلم میں زمین داروں کے پاس کاشت کاری کے لیے بہت کم رقبہ میسر ہوتا ہے، جس پر یہ کاشت کار  عموماًمکئی کی فصل لگاتےہیں لیکن اس  سے انہیں خاطر خواہ آمدن نہیں ہوتی۔

کسانوں کی آمدن کو بہتر بنانے  اور انہیں اعلیٰ نسل کے پھل دار پودے اور پھولوں کی پیداوار کی طرف راغب کرنے کے لیے وادی نیلم میں کسان فورم کے نام سے ایک پلیٹ فارم بنایا گیا ہے۔

کسان فورم کے جنرل سیکریٹری حنیف ڈار کا کہنا ہے کہ وادی نیلم میں لوگ اب مختلف فصلیں لگانے میں دلچسپی دکھا رہے ہیں اور بہت سارے کسانوں نے تو باقاعدہ پھولوں کی فصل لگانا شروع بھی کر دی ہے لیکن کرونا وبا نے ان کے چھوٹے کاروبار کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ علاقے میں گل لالہ کی پوری فصل تباہ ہو گئی ہے کیونکہ لاک ڈاؤن میں نرمی تو آ گئی لیکن ٹرانسپورٹ بند ہونے کی وجہ سے پھول مارکیٹ میں نہیں لے جائے جا سکتے۔

'گل نرگس کی فصل بھی مارکیٹ میں جانے کے لیے تیار ہے لیکن ٹرانسپورٹ ہے اور نہ انہیں خریدنے کے لیے گاہک۔'

وادی کے کسان اس وقت تذبذب کا شکار ہیں کہ کیسے اپنی تباہ ہوتی فصل کو بچائیں۔ یہ پھول شادی بیاہ یا پھر تقریبات کے لیے منگوائے جاتے تھے لیکن کرونا وبا کی وجہ سے تقریبات اور شادیاں نہ ہونے کی وجہ سے پھولوں کی فصل تباہی کے دہانے پر ہے۔

کسان فورم کے صدر جاوید اسد اللہ کا کہنا ہے کہ چھوٹے زمین دار اتنا بڑا نقصان برادشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں، اگر حکومت نے ان کی مدد نہ کی تو کہیں وہ یہ کام  چھوڑ ہی نہ دیں۔

زمین داروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کے نقصان کا ازالہ کرے اور اگر یہ ممکن نہیں تو صرف فصلوں کے  بیج مہیا کر دے تاکہ وہ پیداوار جاری رکھ سکیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا