تہران میں عمارتوں سے خطرناک چھلانگیں لگانے والا نوجوان گرفتار

گرفتاری سے چھ دن قبل علی رضا جاپلقی نے تہران کی ایک عمارت سے چھلانگ لگانے کی اپنی ایک ویڈیو انسٹاگرام پر پوسٹ کی تھی، جس میں وہ ایک لڑکی کو بوسہ بھی دے رہے تھے۔

سوشل میڈیا پر ان کی ویڈیوز عام طور پر بہت زیادہ دیکھی جاتی ہیں ۔(علی رضا انسٹاگرام اکاؤنٹ)

ایرانی پارکور ورکر علی رضا جاپلقی کو گذشتہ روز تہران میں گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتاری سے چھ دن قبل انہوں نے تہران کی ایک عمارت سے چھلانگ لگا کر دوسری عمارت پہ جانے کی اپنی ایک ویڈیو انسٹاگرام پر پوسٹ کی تھی، جہاں وہ ایک لڑکی کو بوسہ بھی دے رہے تھے۔

میڈیا اطلاعات کے مطابق انہیں ایک لڑکی کا بوسہ لینے کی تصویر جاری کرنے کی وجہ سے گرفتار کیا گیا ہے۔ نیو یارک ٹائمز کی صحافی فرناز فصیحی نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ایرانی سکیورٹی اہلکاروں کو تصویر میں دیکھی جانے والی خاتون کی بھی تلاش ہے۔

ایرانی حکام نے ابھی ان کی گرفتاری پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

علی رضا نے گرفتاری سے ایک روز قبل اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر لکھا کہ ان کے والد ’ تہران میں 28 سال تک انسداد منشیات کے افسر کے طور پر فرائض سرانجام دینے کے بعد  1980 میں پراسرار طور پر لاپتہ ہوگئے تھے، جس کے بعد ان کا کیس کچھ سال پہلے بغیر کسی نتیجے پر پہنچنے کے بند کر دیا گیا تھا۔‘ علی رضا کا کہنا تھا کہ وہ ’مکمل بے یقینی کی حالت سے گزر رہے ہیں۔‘

سوشل میڈیا پر ان کی ویڈیوز عام طور پر بہت زیادہ دیکھی جاتی ہیں۔ انہوں نے اس خطرناک شوق اور کھیل کے بارے میں کہا کہ ’یقینا میں گرنے سے ڈرتا ہوں لیکن بات یہ ہے کہ اگر میں خوفزدہ نہ ہوتا تو اب تک مر گیا ہوتا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ہر چھلانگ سے قبل وہ گھنٹوں محفوظ جگہوں پر مشق کرتے ہیں کیونکہ اس میں ناکامی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ’میں اسے بہت سنجیدگی سے لیتا ہوں اور اپنے دوستوں کے ساتھ بہت زیادہ مشق کرتا ہوں اور ہر پہلو کو دیکھتا ہوں۔ یہ صرف چپکنا اور کرنا نہیں ہے ورنہ یہ زیادہ پیشہ ورانہ نہیں ہوگا۔‘

چھلانگ لگانے کے اس کھیل کو پارکور کہتے ہیں جو شہروں میں کھیلا جاتا ہے لیکن کچھ لوگ اسے جنگل اور پارکوں میں بھی کرتے ہیں۔ پارکور کا مطلب یہ ہے کہ رکاوٹوں کو تیزی سے اور آسان طریقے سے عبور کرنا۔

گرفتاری سے قبل علی رضا نے اپنے انسٹاگرام پیج پر ایک ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے سرکاری سمن کے بارے میں کہا: ’مجھے سمجھ نہیں آ رہی ہے کہ وہ مجھے کس چیز سے ڈرا رہے ہیں۔ یہ لوگ مجھے یہ باتیں کہاں بتا رہے ہیں؟ وہ مجھے ڈرا رہے ہیں۔ میں ڈر سے گزر چکا ہوں۔ اب وہ خود ہی آنے والے ہیں۔ آئیے دیکھیں کیا ہوتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس پوسٹ کے 13 گھنٹوں بعد علی رضا کے بھائی نے ایک انسٹاگرام پوسٹ میں کہا: ’میں علی رضا کا بھائی ہوں۔ وہ لوگ گھر آئے اور اسے لے گئے۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں کیا کروں؟ مجھے نہیں معلوم کہ یہ کب تک ایسے ہی رہنا ہے۔ مجھے علم نہیں کہ وہ کیا ڈھونڈ رہے ہیں؟ مجھے امید ہے کہ میں جلد سمجھ سکوں گا۔‘

ایک اور پوسٹ میں انہوں نے مزید کہا: ’یہ ہماری زندگی میں ایک خوفناک نوعیت کا واقعہ ہے۔ میں نے ایسا پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ انسٹاگرام پر بہت سارے لوگ ہیں جو اس سے بھی زیادہ بدتر کام کر رہے ہیں لیکن ان سپورٹس کلپس میں بہت سی کہانیاں بھی ہیں۔ مجھے بالکل بھی سمجھ نہیں آ رہی کہ ایسا ہمارے ساتھ کیوں ہوا ہے؟‘

انسٹاگرام پر ایک لاکھ سے زائد فالورز رکھنے والے علی رضا کی گرفتاری کے بعد سوشل میڈیا پر مخلوط ردعمل سامنے آیا ہے۔ کچھ صارفین نے ان کے والد کے ساتھ ساتھ تہران میں ایک عمارت کے اوپر لڑکی کو بوسہ دینے کے بارے میں بھی لکھا ہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ ان میں سے کس کو گرفتار کیا گیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی نئی نسل