'کرنل کی بیوی' نے ٹوئٹر ہلا دیا

ٹوئٹر پر 'کرنل کی بیوی' کا ہیش ٹیگ بڑے زور و شور سے ٹرینڈ کر رہا ہے۔ اس کی وجہ وہ ویڈیو ہے جس میں ایک خاتون خود کو کرنل کی بیوی کہتے ہوئے پولیس اہلکاروں سے تلخ کلامی کرتی نظر آ رہی ہیں۔

(ویڈیو سکرین گریب)

 پاکستان میں ٹوئٹر پر 'کرنل کی بیوی' کا ہیش ٹیگ بڑے زور و شور سے ٹرینڈ کر رہا ہے اور اس کی وجہ وہ ویڈیو ہے، جو گذشتہ روز سے وائرل ہے۔

اس ویڈیو میں ایک خاتون خود کو کرنل کی بیوی کہتے ہوئے پولیس اہلکاروں سے تلخ کلامی اور بد تمیزی کرتی نظر آتی ہیں۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ واقعہ 20 مئی کی شام چار بج کر 45 منٹ پر مانسہرہ میں ہزارہ ایکسپریس وے پر پیش آیا، جہاں مذکورہ خاتون شنکیاری جاتے ہوئے مانسہرہ ٹنل سے گزرنا چاہتی تھیں، تاہم روکے جانے پر انہوں نے پولیس اہلکاروں سے بدتمیزی کی اور خود ہی رکاوٹیں ہٹا دیں۔

موٹروے پر تعینات ایک کانسٹیبل کی جانب سے بنائی گئی اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ خاتون گاڑی کے سامنے کھڑے پولیس اہلکار کے لیے کہتی ہیں کہ 'چڑھا دو اس پر گاڑی' اور روکے جانے کی متعدد کوششوں کے باوجود تیزی سے گاڑی لے کر چلی جاتی ہیں۔

یہ قیاس آرائیاں بھی کی جارہی ہیں کہ خاتون نے خود کو جن کرنل صاحب کی اہلیہ قرار دیا، ان کے خلاف ستمبر 2018 میں ایبٹ آباد میں ٹریفک پولیس اہلکاروں کے ساتھ بدسلوکی کا الزام ہے جبکہ ان دونوں واقعات میں ایک ہی گاڑی نظر آرہی ہے، تاہم اس بات کی ابھی تک تصدیق نہیں کی جا سکی۔

ویڈیو وائرل ہوتے ہی سوشل میڈیا پر تبصروں کا طوفان امڈ آیا اور لوگوں نے مذکورہ خاتون کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

سیف اللہ تالپور نامی صارف نے لکھا: 'کچھ لوگوں کے ذہن بچپن میں ہی اپنے والدین کی تربیت کی وجہ سے ایسے ہوجاتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ جو کچھ وہ سوچ یا کر رہے ہیں وہی بالکل درست ہے۔ کرنل کی بیوی کی ہی مثال لے لیں۔'

حسیب نامی ایک صارف نے لکھا کہ 'قانون اور قواعد سب کے لیے برابر ہوں یا پھر کوئی قانون نہ ہو۔ ہم ان خاتون کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دیکھنا چاہتے ہیں۔'

محمد یوسف رئیسانی نے لکھا: 'یہ بہت اچھی بات ہے کہ یہ خاتون خود کرنل نہیں ہیں۔'

خود کو کرنل کی بیوی کہنے پر سوشل میڈیا پر پاکستان فوج پر بھی تنقید کی جا رہی ہے۔ اسی حوالے سے عمیر صفدر نامی صارف نے لکھا کہ 'کچھ لوگ صرف ایک خاتون کی وجہ سے پورے ادارے پر تنقید کر رہے ہیں۔ پاکستان فوج وہ ادارہ ہے، جہاں ملک کے کسی بھی ادارے سے زیادہ ڈسپلن پایا جاتا ہے۔'

کچھ لوگوں نے خاتون کو روکنے والے پولیس اہلکار کو بھی سراہا۔

ایک طرف جہاں ٹوئٹر صارفین مذکورہ خاتون کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، وہیں کچھ لوگوں کی حس مزاح بھی جاگ گئی اور انہوں نے اس سنجیدہ معاملے کو بھی میمز کے ذریعے سے بیان کیا۔

فیضان چوہدری نامی ایک صارف نے ایک میم شیئر کی اور ساتھ میں لکھا: 'کرنل صاحب کے تاثرات یہ جاننے کے بعد کہ ان کی بیوی ٹوئٹر پینل پر ٹاپ کر رہی ہیں۔'

سمیر عباسی نے مشہور ڈامے 'میرے پاس تم ہو' کے دو کرداروں پر مشتمل میم شیئر کر کے لکھا: ' کرنل صاحب اس واقعے کے بعد کہہ رہے ہوں گے، یہ کون ہے، میں اس کو نہیں جانتا، لے جاؤ اسے۔'

 

زیادہ پڑھی جانے والی ٹرینڈنگ