ڈیوٹی لگنے کے باوجود فلائٹ میں سوار نہ ہو سکنے والی ائیر ہوسٹس کیسے بچیں؟

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے مدیحہ ارم نے کہا کہ پی آئی اے آفس کی جانب سے لاہور سے کراچی جانے والی بد قسمت فلائٹ میں ان کی ڈیوٹی لگی تھی اور انہوں نے جانے کی رضامندی بھی ظاہر کر دی تھی۔

(ائیر ہوسٹس مدیحہ ارم)

لاہور سے کراچی جانے والےپی آئی اے طیارے کے ڈیوٹی روسٹر میں ایئر ہوسٹس مدیحہ ارم کا نام شامل ہونے کے باوجودغیر متوقع طور پر وہ جہاز میں سوار ہونے سے رہ گئیں۔

ان کا کہناہے کہ نوکری کے دوران پہلی بار ایسا ہوتے دیکھا کہ کنفرمیشن کے بعد بھی وہ طیارے میں ڈیوٹی پر نہ جاسکیں۔ انہوں نے اسے اپنی خوش قسمتی قراردیا۔

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے مدیحہ ارم نے کہا کہ پی آئی اے آفس کی جانب سے لاہور سے کراچی جانے والی بد قسمت فلائٹ میں ان کی ڈیوٹی لگی تھی اور انہوں نے جانے کی رضامندی بھی ظاہر کر دی تھی۔

وہ تیار ہوکر مقررہ وقت صبح دس بجے گھر بیٹھی تھیں لیکن معمول کے مطابق گاڑی انہیں پک کرنے نہ آئی تو انہوں نے متعلقہ شعبہ موٹر ٹرانسپورٹ کو گاڑی بھجوانے سے متعلق پوچھا۔

 انہیں جواب ملا کہ ایم ٹی کو موصول لسٹ میں ان کا نام روسٹر میں شامل ہے لیکن نام کے آگے سوالیہ نشان لگا ہے۔ جب کہ ان کی جگہ ارم خان نامی ایئر ہوسٹس کو پک کرانے کے لیے گاڑی روانہ کر دی گئی ہے اس لیے انہیں لینے گاڑی نہیں آئے گی۔

انہوں نے کہاکہ وہ پریشان تھیں کہ پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا کہ نام روسٹر میں شامل ہو اور آفس کی گاڑی لینے نہ آئی ہو، جب کہ اس کی کوئی خاص وجہ بھی نہ تھی۔ انہوں نے ڈیوٹی نہ کرنے کی بھی کوئی درخواست نہیں کی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مدیحہ نے صدمے سے بھری آواز میں کہا کہ وہ شاید معجزاتی طور پر بچ گئی ہیں اور جب سے انہیں حادثے کا پتہ چلا ہے ان کا بلڈ پریشر لو ہے۔ وہ صدمے سے نکل نہیں پارہیں۔

ایک طرف بچ جانے کی حیرانی دوسری جانب حادثے میں زندگی کھودینے والے مسافروں اور عملے کے ساتھیوں کا افسوس بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ میری زندگی میں ہمیشہ ایک حیران کن اور ڈراؤنے خوف کے طور پر یاد رہے گا۔ شاید اب مجھے فلائٹ میں ڈیوٹی پر جانے سے بھی خوف آئے گا اور یہ واقعہ ذہن پر پتہ نہیں کتنے عرصے نقش رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ حادثے کے بعد میرا نام روسٹر میں دیکھ کر لوگوں کے فون آئے اور گھر والے بھی پریشان ہوئے لیکن جب ان کو پتہ چلا کہ میں طیارے میں نہیں تھی تو سب کو بہت تسلی اور حیرانی ہوئی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان