'جب میں ایک دھوکے باز شخص کے ساتھ آئیسولیشن میں رہی'

کرینہ مزور چار ماہ سے اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ ڈیٹنگ کر رہی تھیں جب انہیں پتہ چلا کہ ان کا بوائے فرینڈ اندر سے وہ نہیں جیسے باہر سے نظر آتا ہے۔

(پکسابے)

یہ وہی ہفتہ تھا جب میں اپنے چیٹ گروپ پر ٹیکسٹ میسج کر رہی تھی تاکہ پوچھ سکوں کہ 'مجھے کب بتانا چاہیے کہ مجھے اُس سے محبت ہو گئی ہے؟'

جس ہفتے برطانوی حکومت نے لاک ڈاؤن میں توسیع کا اعلان کیا اورہم نے مل کر باربی کیو خریدنے پربات کی کیونکہ موسم خراب ہو رہا تھا۔ اُسی ہفتے ڈیٹنگ ایپ 'ہنج'کے اکاؤنٹ میں لاگ اِن ہونے کے لیے میں نے اُن کا دوسرا ٹیلی فون نمبراستعمال کیا۔ یہ نمبر مجھے اُن کے آئی پیڈ سے ملا تھا۔

غلط شخص کی محبت میں گرفتار ہونے کے عمل میں ایسے وقت اچھے رویے پر اصرار کی مثالیں موجود ہیں، جب آنکھوں پر لگا گلابی رنگ کا چشمہ آنکھوں سے ہٹ گیا اور خطرے کی علامت سرخ رنگ کی روشنی جلنے بجھنے لگی۔

ان لمحات کی انتہا کو پہننے پر میری رہنمائی ایک راز کے طرف ہوئی اور نتیجے کے طور پر مجھے بوائے فرینڈ کے آن لائن ڈیٹنگ پروفائل کا پتہ چل گیا۔

بات صرف اتنی تھی کہ یہ اُن کا ڈیٹنگ پروفائل نہیں تھا بلکہ اس کی بجائے تقریباً 30 سالہ کامیاب کاروباری شخص کا پروفائل تھا جس کا نام ایلکس تھا۔ عام طور پر میں ایسے پروفائل کو ایک طرف کر دیتی۔

میں نے سوچا کوئی غلطی ہو سکتی ہے۔ شاید وہ ٹیلی فون نمبر جو لاگ اِن اکاؤنٹ کے لیے تھا، حقیقت میں میرے بوائے فرینڈ کا نہ ہو۔ سینٹ تروپے کے علاقے میں'ایلکس'کی شیمپین پیتے ہوئے اور خواتین کے سینکڑوں پیغامات۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ شخص، جن کے بارے میں میرا خیال تھا میں انہیں جانتی ہوں اتنے اچھے طریقے سے خود کو کسی دوسرے شخص کے طور پر کیسے ظاہر کر سکتے ہیں؟

جب میں نے اکاؤنٹ کے ساتھ منسلک ای میل ایڈریس دیکھا تو میں نے اسے چیک کرنے اور اپنے بوائے فرینڈ نیٹ فلِکس کے پاس ورڈ سے اکاؤنٹ میں لاگ اِن ہونے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے ایک بار مجھے بتایا تھا کہ وہ تمام اکاؤنٹس کے لیے یہی پاس ورڈ استعمال کرتے ہیں۔

 اپنے دماغ میں صورت حال کی کڑیاں ملانے کی کوشش کرتے ہوئے میں نےکانپتی ہوئی انگلیوں کے ساتھ اُن کا پیچیدہ پاس ورڈ ٹائپ کیا۔ میری دعا تھی کہ یہ کام نہ کرے۔ اس نے کام کیا۔ میں نے سوشل میڈیا پروفائلز کو کئی اقسام کے پلیٹ فارمز کے ساتھ منسلک پایا۔ ان سب کے ساتھ تصاویر اور کسی دوسرے شخص کی زندگی کی مبہم تفصیلات موجود تھیں۔

مجھے پتہ چلا کہ میں اُن سے ملنے سے پہلے ہی اُن کے ساتھ ڈیٹنگ شروع کر چکی تھی۔ انہوں نے مجھے دوسرے افراد کا رُوپ دھار کررومانس کے لیے شیشے میں اتارا تھا۔

میں نے نئے عشرے کے آغاز پر سام (فرضی نام) کے ساتھ ڈیٹنگ شروع کر دی۔ یہ بےفکری کا وقت تھا جب ہم کچھا کھچ بھرے شراب خانوں میں اجنبی لوگوں کے ساتھ کندھا رگڑتے۔ درازقد، خوبصورتی اور اپنی جانب مائل کرنے کی صلاحیت کے  ساتھ، اُن کے جوش کے ساتھ آسانی سے دستیابی نے میرے خدشات دور کر دیے۔

 چند ہفتے میں بات معمول کی ملاقاتوں سے آگے بڑھی اور ہم بہت تیزی کے ساتھ ایک دوسرے کے قریب آ گئے۔غیریقینی تعلقات کا تجربہ رکھنے کی بدولت میں اس قابل تھی کہ جب میرے دوست یہ کہتے تھے کہ بالآخر مجھے جذباتی  کمزوری میں سکون ملے گا تو میں اس کا مطلب سمجھتی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مارچ کے شروع میں جب سام کو اُن کے ساتھ فلیٹ میں مقیم اُس ساتھی کا فون آیا جو ملک سے باہر اٹلی میں تھے۔ فلیٹ کے ساتھی نے انہیں ایک صورت حال کے بارے میں بتایا جو ہم سب کے لیے نئی تھی لیکن جلد ہی اس نے ہماری حقیقت بن جانا تھا۔

چند روز میں ہم کووِڈ 19 سے بچنے کے انتظامات اور اس پر بات کر رہے تھے کہ اپنے فلیٹس کے درمیان وقت کو کس طرح تقسیم کریں گے۔ جب مستقبل اور حال بےیقینی کا شکار ہوئے تو مجھے ایسے شخص میں سکون ملا جن کے بارے میں مجھے یقین تھا۔

ہم نے قرنطینہ (آئسولیشن) میں معمول کی زندگی گزارنی شروع کر دی۔ ہم الگ الگ کمروں میں کام کرتے اور مل کر کھانا بناتے، فلمیں دیکھتے اور پارک میں دوڑنے کے لیے جاتے۔ وہ سختی کے ساتھ قواعد پر عمل کرتے۔ میں زبردستی کی قربت پر خود کو قصوروار سمجھتی تھی۔

تاہم اکٹھے رہنے کی وجہ سے اُن کی خوبصورتی کے ساتھ تخلیق کی گئی شخصیت سامنے آنا شروع ہو گئی۔ ایک دن انہیں اُن کی پاسپورٹ پر لگی تصویر پر انہیں تنگ کرتے ہوئے مجھے پتہ چلا کہ انہوں نے اپنی عمر کے بارے میں جھوٹ بولا ہے۔

انہوں نے اپنی عمر 30 کی بجائے 28 سال بتائی تھی۔ وہ اپنے فون کو راز میں رکھتے تھے۔ وہ بہت زیادہ گھبرا جانے والے تھے۔ انہوں نے خود کو غیرمحفوظ کرنے کے خیال کا الزام سابقہ گرل فرینڈز پر لگایا۔

 انہوں نے مناسب جملے کہے جن کی وجہ سے انہیں تنگ کرنے کے لیے میرے اندر سوالات پیدا ہوئے۔ لیکن کچھ ایسا نہیں ہوا تھا کہ میں یہ جاننے کے لیے تیار ہوتی کہ میرے بوائے فرینڈ کے کئی لڑکیوں کے ساتھ تعلقات ہیں۔

جب میں اُن کے سامنے آئی تو بہانے انہوں نے بنائے مجھے وہ سن کر حیرت ہوئی۔ یہ بہانے جنسی تعلقات کی مریضانہ عادت سے لے کر اُن کے سوچنے کے عمل تک تھے جس نے اُن کے اندر اچھے بُرے کی تمیز ختم کر دی تھی۔

اُن کی جانب سے خود کو بےگناہ ثابت کرنے کی کوشش کے دوران انہوں نے التجا کی میں اُن کی سماجی زندگی تباہ نہ کروں۔ میں نے ایسا نہ کرنے کا وعدہ کیا لیکن یہ اُس سے پہلے تھا جب مجھے پتہ چلا کہ انہوں نے اپنا مخصوص لبادہ اوڑھ کر مجھے پھانسنے کی خاطر میرے بارے میں جاننے کے  لیے میرے ڈیجیٹل مینجمنٹ سسٹم میں داخل ہونے کے لیے اپنے جعلی انسٹاگرام اکاؤنٹس میں سے ایک کواستعمال کیا تھا۔

اس کے بعد جو کچھ ہوا اس سے ایک بار پھر بے یقینی پیدا ہو گئی جو اس سے پہلے مجھے صرف وبا کے معاملے میں تھی۔ مجھے پتہ چلا  کہ سام نے ڈیٹنگ کے لیے کئی جعلی پروفائل بنا رکھے ہیں۔

میں نے اُن تمام پروفائلز تک رسائی حاصل کر لی اور اُس کا شکار ہونے والی سینکڑوں متاثرہ خواتین کو پیغام بھیج دیا اور اصلی سام کے بارے بتا دیا۔

جب میں نے سوچا توکچھ اور مجھے حیران نہیں کر سکتا کہ جب مجھے پتہ چلا کہ سام نے ان جعلی اکاؤنٹس سے کسی دوسرے شخص کے عضو خاص کی تصاویر کسی کو بھیجی تھیں۔

ایک خاتون نے مجھے بتایا وہ اور سام کتنے اچھے دوست ہوئے تھے۔ بعد میں انہیں پتہ چلا کہ سام انہیں'ایلکس' کے ساتھ آن لائن تعلقات قائم کرنے کے لیے تقریباً دو سال تک جعلی اکاؤنٹ سے میسج بھیجتے رہے۔

 ایک اور خاتون نے مجھے بتایا کہ وہ تقریباً دو ماہ تک سام کے ساتھ ڈیٹ پر جاتی رہیں اور انہوں نے اپنی ایک سابقہ دوستی میں بولے گئے جھوٹ سے اپنی اذیت کے بارے میں انہیں بتایا۔

دونوں خواتین نے اپنے آپ کو خطرے کی جھنڈی اور گڑبڑ کے قدرتی احساس کو نظر انداز کرنے کا الزام دیا۔ ایک نے تو یہاں تک کہہ دیا انہیں سام پر رحم آتا ہے۔

دھوکہ دہی کا شکار افراد کے طورپر ہم نے اُن مردوں کی حقیقی شناخت کی تلاش کے لیے کام کیا ہے جسے سام نے چوری کر لیا تھا۔

 ہم نے انہیں بتایا کہ میرے سابقہ بوائے فرینڈ نے کئی سال تک اُن کی شناخت اختیار کیے رکھی تھی۔ تھوڑے سے لوگوں نے توجہ دی۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی کی شناخت اختیار کر لینا اتنا اہمیت کا حامل نہیں جتنا ایک ایسی دنیا میں کسی دھوکے کا شکار ہو جانا ہے جہاں کسی حد تک ہم نے کسی دوسرے کا رُوپ دھار رکھا ہے۔

گرد بیٹھ جانے کے بعد مجھے پتہ چلا کہ ہمارے تعلقات میں دکھ اٹھانے کا وقت سب سے مشکل وقت تھا۔ ایک وقت تھا جب یہ یاد کرنا تکلیف دہ تھا یہ جھوٹ اور ایک دوسرے سے جڑے لمحات تھے جنہیں حقیقت یا افسانے کے طورپر الگ الگ نہیں کر سکتی۔

سب سے پہلے جب آپ کی کسی کے ساتھ جان پہچان ہوتی ہے تو یہ عام بات ہے کہ خامیوں کو ایک کوٹ کے پیچھے چھپا لیا جائے۔ جب کپڑوں کے ڈھیر کوالماری میں نئی جگہ مل جاتی ہے تو آپ کے کمرے کا فرش نمایاں ہو سکتا ہے۔

اچانک آپ مستقل دیر کرنے کی بجائے ہمیشہ کے لیے وقت کے پابند ہو جاتے ہیں۔چمک دمک کبھی قائم نہیں رہتی۔ ہم سب کھل کر سامنے آ جاتے ہیں اور ہمارے وجود کے بدصورت حصہ دکھائی دینے لگتے ہیں وہ حصے جو ہمیں انسان بناتے ہیں۔

 یہ کتنا طنزیہ ہے کہ کیسے ابتدا میں نے ہمارے درمیان تعلق کو دیکھا۔ اُن کی خامیاں قبول کرنے کا عزم کیا۔ میں اپنے اُن حصوں کو سامنے لانے میں کسی پرجوش تھی جن میں مساوی طور پر خامیاں تھیں۔

اگلے روز ایک اچھے دوست نےمجھ سے پوچھا کیا میں سام کی کمی محسوس کرتی ہوں تو میرے ہونٹوں سے سوچے بغیر پھسلا کہ'نہیں'۔ آپ کسی ایسے شخص کی کمی کیسے محسوس کر سکتے ہیں جس کا کبھی حقیقت میں کوئی وجود تھا بھی؟ 

*سٹوری میں نام تبدیل کر دیے گئے ہیں

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی