بہاولپور: 'ہندو برادری کے گھرسیاسی دباؤ پر گرائے گئے'

ایچ آر سی پی کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کی رپورٹ کے مطابق چک 52 ڈی بی میں ہندو برادری کے 25گھر مسمار اور 10 کو جزوی نقصان پہنچانے کی ذمہ دار مقامی انتظامیہ ہے۔

( اے ایف پی فائل فوٹو)

پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) نے کہا ہے کہ  گذشتہ مہینے بہاولپور کی تحصیل یزمان میں ایک ہندو بستی میں  گھروں کو  غیر قانونی طور پر سیاسی دباؤ کے نتیجے میں مسمار کیا گیا۔

جمعے کو جاری ہونے والی ایچ آر سی پی کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کی رپورٹ کے مطابق چک 52 ڈی بی میں ہندو برادری کے 25گھر مسمار اور 10 کو جزوی نقصان پہنچانے کی ذمہ دار مقامی انتظامیہ ہے۔

اسسٹنٹ کمشنر یزمان  محمد شاہدنے واقعے کے فوراً بعد انڈپینڈنٹ اردو  سے بات چیت میں دعویٰ کیا تھا  کہ  مذکورہ بستی کے ہندوؤں نے سرکاری زمین پر قبضہ کر کے گھر تعمیرکیےلہٰذا آپریشن کر کے سرکاری اراضی واگزار کرائی گئی  ہے، جو انتظامیہ کا فرض ہے۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی تھی کہ اس معاملے میں کوئی سیاسی مداخلت نہیں ہوئی۔تاہم کمیشن کے رپورٹ مقامی انتظامیہ کو قصور وار ٹھراتی ہے۔

کیا ہندوؤں کے گھر سیاسی مداخلت سے مسمار ہوئے؟

رپورٹ  کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر محمد شاہد نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایک مقامی رجسٹرار محمد بوٹا کی  درج کرائی گئی شکایت پر کارروائی کی، جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ ہندو برادری نے 'ریاست کی زیر ملکیت زمین غیر قانونی طور پر' فروخت کرنے کی کوشش کی۔

رپورٹ کے مطابق ایچ آر سی پی کے پاس یہ یقین کرنے کی ٹھوس وجوہات موجود ہیں کہ محمد بوٹا نے 'سیاسی  اثر و رسوخ ' اور 'دھمکیوں' کے ذریعے ہندو برادری کو وہ زمین فروخت کرنے پر مجبور کیا، جو انہیں 2018 میں بورڈ آف ریونیو نے گھروں کی تعمیر کے لیے قانونی طور پر الاٹ کی تھی۔ ہندو برادری کے پاس اس الاٹمنٹ کا دستاویزی ثبوت (جو ایچ آر سی پی کے پاس بھی دستیاب ہے) موجود ہے۔

ہندوبرادری نے الزام عائد کیا ہے کہ بوٹا کا مقصد اپنی زیر ملکیت اراضی میں اضافہ کرنا ہے۔ ہندو برادری کے مطابق بوٹا نے انہیں مبینہ طور پر دھمکیاں دیں جس  کے بعد انہوں نے ایک  سینیئر سول جج کو درخواست دی کہ وہ کسی بھی کارروائی کو روکنے کا حکم جاری کریں۔

اس پر عدالت نے حکم امتناع جاری کر دیا لیکن اس کے باوجود  20 مئی، 2020 کو ان کے 25 گھروں کو مسمار کردیا گیا  جبکہ 10 کو جزوی نقصان پہنچا ،جس کے باعث کئی لوگ اپنے گھروں سے محروم ہو گئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایچ آر سی پی کو انٹرویو دینے والی ایک متاثرہ خاتون کا دعویٰ ہے کہ انہیں بالوں سے گھسیٹ کر گھر سے باہرنکال دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق 'ایچ آر سی پی کو اس بات پر سخت تشویش ہے کہ ہندو برادری  کو، جو ایک مذہبی اقلیت ہونے کی بنا پر پہلے ہی غیر محفوظ ہے،  مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا تاکہ مقامی قبضہ مافیا کو فائدہ پہنچایا جاسکے،جبکہ حقیقت یہ ہے  بوٹا نے ہندو برادری کو غلط طور پر'ہندوقبضہ گیر' قرار دیا۔'

ایچ آر سی پی نے وفاقی وزیر برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس طارق بشیر چیمہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان مجرموں کے خلاف کارروائی کریں جن کا دعویٰ ہے کہ انہیں مذکورہ وزیر کی حمایت حاصل ہے۔ 'اس کے علاوہ پنجاب حکومت کو اس مسماری سے متاثر ہونے والے تمام خاندانوں کو معاوضہ ادا کرنا چاہیے۔'

واقعہ کیوں اور کیسےپیش آیا؟
اسسٹنٹ کمشنر یزمان محمد شاہد کے مطابق' چک نمبر 52 ڈی بی میں15 ایکڑ سے زائد سرکاری زمین پر ہندوبرادری پہلے سے ہی قابض ہے اور گھر تعمیر کر رکھے ہیں۔'

انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ عدالت میں ہے، جب فیصلہ ہوگا تو اس کے مطابق کارروائی کریں گے۔' جہاں تک تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران گھرمسمارکرنےکی بات ہے تو انہیں اطلاع ملی تھی کہ ہندوبرادری نے15 ایکڑ کے علاوہ تین ایکڑ پر تعمیرات شروع کر دی ہیں جس پر متعلقہ ٹیم نے وہاں جا کر آپریشن کیا لیکن اس میں کوئی آباد گھر مسمار نہیں کیا گیا بلکہ نئے تعمیر شدہ احاطے مسمار کرکے زمین واگزار کرائی گئی، پرانی آبادیوں میں گھر مسمار کرنے سے گریز کیاجاتاہے۔'

ان کے خیال میں سرکاری زمینوں پر قبضہ کرانے کے لیے وہاں ایک قبضہ گروپ موجود ہے جو لوگوں سے پیسے لے کر پہلے زمین پر قبضہ کراتاہے اور جب آپریشن کیاجائے تو عدالتوں میں بے بسی ظاہر کر کے سٹے آرڈر لینے کی کوشش کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تاثر بھی غلط ہے کہ اس  واقعے میں کسی سیاسی شخصیت کا ہاتھ ہے۔ واضح رہے کہ بستی کے مکینوں نے قبضہ گروپ کی جانب سے انہیں تنگ کر کے زمین خالی کرنے کی دھمکیاں دیے جانے کا دعویٰ کرتے ہوئےاس  قبضہ گروپ کی پشت پناہی کا الزام وفاقی وزیر ہاوسنگ طارق بشیر چیمہ پر لگایا تھا۔ اس معاملے پر ردعمل کے لیے طارق بشیر چیمہ سے متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ان سے بات نہ ہو سکی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان