ہیلمٹ کا یہ اشتہار ’صنفی تعصب‘ پر مبنی؟

’ٹیکس دہندگان کے پیسوں کو نیم برہنہ خواتین اور مردوں کی تصاویر لگانے پر خرچ نہیں کرنا چاہیے۔‘

وزارت ٹرانسپورٹ کا اشتہار: تصویر:  بی ایم وی آئی/ ڈی وی آر

جرمنی کے ایک سرکاری اشتہار میں زیر جامہ پہنے ماڈلز کو سائیکل کے لیے سیفٹی ہیلمٹس کے ساتھ دکھایا گیا ہے جسے ’شرمناک، بے وقوفانہ اور صنفی تعصب‘ پر مبنی کہہ کر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

وزارت ٹرانسپورٹ کی جانب سے اس نئی مہم کا مقصد سائیکل چلانے والوں میں ہیلمٹ پہننے کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنا ہے، اس مہم کے لیے ’لُکس لائیک ش**، بٹ سیوز مائے لائف‘ کے نعرے کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

تاہم ورکنگ گروپ آف سوشل ڈیموکریٹک وویمن (اے ایس ایف) کی سربراہ نے اس پوسٹر مہم کو ختم کرنے کی درخواست کی ہے۔

اے ایس ایف کی سربراہ ماریہ نوئکل نے بلڈ ایم سوناتاگ اخبار کو بتایا: ’ٹرنسپورٹ کے وزیر کے لیے اپنی پالیسیاں بیچنے کے لیے برہنہ جسم کا استعمال شرمناک، بے وقوفانہ اور صنفی تعصب پر مبنی (سیکسسٹ) ہے۔‘

اس مہم کے پوسٹرز جرمنی کے مختلف شہروں میں آئندہ ہفتے سے نظر آنا شروع ہو جائیں گے۔

وزارت ٹرانسپورٹ (بی ایم وی آئی) اور جرمنی کی روڈ سیفٹی ایسوسی ایشن (ڈی وی آر) دونوں ہی کا کہنا ہے کہ یہ اشتہار نوجوان افراد میں سیفٹی کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

ادارے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’کامیاب روڈ سیفٹی مہم لوگوں کو ہلا دینے والی اور واضح ہونی چاہیے۔‘

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے خواتین کے پارلیمانی گروپ کی نائب سربراہ کاٹجا مسٹ نے پسور نیو پریس نامی اخبار کو بتایا: ’ٹیکس دہندگان کے پیسوں کو نیم برہنہ خواتین اور مردوں کی تصاویر لگانے پر خرچ نہیں کرنا چاہیے۔‘

ڈی وی آر کے چیف ایگزیکٹو کرسچیئن کیلنر کا کہنا ہے کہ ’نوجوان افراد تک پہنچنا بہت ضروری ہے کیونکہ اس عمر کے افراد میں ہیلمٹ پہننے کی شرح انتہائی کم ہے۔ ہم اس میں کامیاب ہوئے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہیلمٹ حادثات کو روک نہیں سکتے، لیکن اس کی وجہ سے جان لیوا چوٹوں سے بچا جا سکتا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا