اردو شاعری کو انوکھے اور دلفریب لہجے سے آشنا کرنے والے ممتاز شاعر گلزار کا کہنا ہے کہ ایک شعر ایسا ہے جسے سن کر ان کا جی چاہا کہ وہ اپنا سارا دیوان واپس لے لیں۔
حال ہی میں یوٹیوب پر ایک انٹرویو کے دوران میزبان نے گلزار صاحب سے ایک دلچسپ سوال کیا۔ سوال کا پس منظر یہ تھا کہ مرزا غالب نے مومن خان مومن کے ایک شعر (تم مرے پاس ہوتے ہو گویا / جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا) کے بدلے اپنا پورا دیوان مومن کے نام کر دینے کی پیشکش کی تھی۔
میزبان نے پوچھا: ’کیا آپ نے بھی کبھی ایسا کلام یا شعر سنا، جسے سن کر آپ کا بھی جی چاہا ہو کہ آپ اپنا سارا دیوان اس شاعر کے نام کر دیں؟‘
جواب میں گلزار صاحب نے اثبات میں سر ہلایا اور کہا کہ ’ہاں ایک شعر ایسا ہے جسے سن کر وہ بہت متاثر ہوئے۔ لیکن غالب کی طرح بدلے میں اپنا سارا کلام اس شاعر کے نام کر دینے کی بجائے ان کا جی چاہا کہ اس شعر کے بعد وہ اپنا سارا دیوان واپس لے لیں۔‘
یہ بات حیران کن تھی کہ آخر وہ کیسا کلام تھا، جس کے سامنے گلزار کو بھی اپنا دیوان ماند پڑتا محسوس ہوا۔ پھر انہوں نے وہ شعر سنایا:
ایک امید کے سوا اور کچھ نہیں یہاں
اس گھر میں روشنی کا یہی انتظام ہے
شعر سناتے وقت گلزار نے انکشاف کیا کہ یہ ایک پاکستانی شاعر کا کلام ہے جو اب اس دنیا میں نہیں۔ یہ کہتے ہوئے وہ آبدیدہ ہو گئے اور ان کی آواز رندھ گئی۔ تاہم انٹرویو کے دوران انہوں نے اس شاعر کا نام نہیں لیا۔
گلزار کی زبانی شعر سن کر ادبی ذوق کو تسکین تو ملی لیکن شاعر کے پاکستانی ہونے کا سن کر یہ تجسس جاگا کہ آخر یہ شعر کس ہم وطن کی تخلیق ہے۔
کھوج اور انکشاف
اس تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر جب راقم نے یہ روداد سوشل میڈیا پر شیئر کی اور علم و ادب کے شائقین سے سوال کیا تو ممتاز محقق عقیل عباس جعفری مدد کو آئے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ شعر پاکستانی شاعر نور الصمد فہیم ارسلان کا ہے، جو معروف پلے بیک سنگر احمد رشدی کے بڑے بھائی تھے۔
گلزار نے غالباً حافظے کی کمزوری کے باعث شعر پڑھتے وقت پہلے مصرعے میں کچھ ردوبدل کر دیا تھا، جس کی تصحیح عقیل عباس جعفری اور ممتاز مصنف سید کاشف رضا نے کی۔ اصل شعر کچھ یوں ہے:
امید کی کرن کے سوا اور کچھ نہیں
اس گھر میں روشنی کا یہی انتظام ہے
خوش قسمتی سے اس گفتگو میں نورالصمد ارسلان کی صاحبزادی عروج بنت ارسلان، جو خود بھی ایک لکھاری ہیں، شامل ہو گئیں۔ انہوں نے ایک تصویر شیئر کی جس میں یہ شعر شاعر کی اپنی ہینڈ رائٹنگ میں موجود تھا۔ مزید تحقیق سے معلوم ہوا کہ گلزار اس حالیہ انٹرویو سے بہت پہلے بھی کئی محفلوں میں یہ شعر سنا چکے ہیں اور وہاں انہوں نے مصرع بالکل درست پڑھا تھا۔
نور الصمد فہیم ارسلان کون تھے؟
حیرت کی بات یہ ہے کہ گلزار جیسے لیجنڈ کو متاثر کر دینے والے شاعر کے بارے میں خود ان کے اپنے وطن میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
نور الصمد فہیم ارسلان 21 جولائی 1926 کو بنارس میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد پروفیسر حافظ مولوی منظور محمد نے حیدر آباد دکن کے فرمانروا میر عثمان علی کی دعوت پر عثمانیہ یونیورسٹی میں درس و تدریس کے فرائض انجام دیے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے والد کے شاگردوں میں مولانا مودودی بھی شامل تھے۔
نورالصمد ارسلان نوجوانی میں فٹ بال کے بہترین کھلاڑی تھے اور انہوں نے قیام پاکستان سے قبل حیدرآباد دکن میں ’پاکستان فٹ بال کلب‘ کی بنیاد رکھی تھی۔ بعد ازاں انہوں نے برٹش نیوی میں ملازمت کی اور کچھ عرصہ چٹاگانگ میں مقیم رہے۔ 1954 میں وہ اپنے خاندان کے ہمراہ ہجرت کر کے پاکستان آ گئے۔
ابتدا میں وہ اخبار ’امروز‘ میں ’عالم برزخ‘ کے عنوان سے مزاحیہ کالم لکھتے رہے۔ وہ فلمی صحافت سے بھی وابستہ رہے اور اداکاری کے شوق میں کراچی سے لاہور منتقل ہو گئے۔ انہوں نے ہدایت کار رضا میر کے ساتھ بطور معاون کام کیا اور فلم ’لاکھوں میں ایک‘ میں ایک کردار بھی نبھایا۔ ان کے نام میں ’فہیم‘ ان کا تخلص جبکہ ’ارسلان‘ فلمی نام تھا۔
ان کی صاحبزادی کے مطابق انہوں نے وفات سے کچھ عرصہ قبل اپنا شعری مجموعہ چھپوانے کے لیے کسی دوست کو دیا تھا، جو بدقسمتی سے مسودہ لے کر غائب ہو گئے۔ نورالصمد فہیم ارسلان کا انتقال 11 مارچ 2004 کو 77 سال کی عمر میں لاہور میں ہوا۔
ان کا ایک اور شعر ملاحظہ ہو:
زیست کا حاصل ہے ہچکی اور وہ بھی موت کی
دو گھڑی کی زندگی پہ آپ اتراتے ہیں کیوں
غزل اور سوال
جس غزل کے شعر نے گلزار کو گرویدہ کیا، اس کے دیگر اشعار بھی کمال کے ہیں:
رحمتِ خدا کی یوں تو یہاں سب پہ عام ہے
کچھ خاص خاص لوگ ہیں یہ جن کے نام ہے
رہنے کو میرے بے در و دیوار گھر ملا
اور لوگ کہہ رہے ہیں تو عالی مقام ہے
سالارِ قافلہ نہ ہو جس قافلے کے ساتھ
وہ قافلہ نہیں ہے فقط اژدہام ہے
امید کی کرن کے سوا اور کچھ نہیں
اس گھر میں روشنی کا یہی انتظام ہے
میں ہوں امیرِ مملکتِ درد و رنج و غم
اور تو فقیہہ شہر ہے بے ننگ و نام ہے
آخر میں ایک سوال سر اٹھاتا ہے کہ اگر گلزار اس شعر کا ذکر نہ کرتے تو کیا ہم کبھی نورالصمد فہیم ارسلان کو یاد کرتے؟ اگر اس کا جواب نفی میں ہے تو ہمیں جان لینا چاہیے کہ ہم نے فن و ادب کے میدان میں بہت کچھ کھو دیا ہے اور ہمیں اس کا احساس تک نہیں۔
نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی زندگی پر مشتمل ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔