لائن آف کنٹرول اور لائن آف ایکچوئل کنٹرول میں کیا فرق ہے؟

پاکستان اور بھارت کے درمیان ایل او سی اور چین اور بھارت کے درمیان ایل اے سی کی قانونی حیثیت کیا ہے اور اس بارے میں عالمی قوانین کیا کہتے ہیں؟

بھارت کی بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کا ایک اہلکار جموں کے قریب اکھنور میں پاکستان۔ بھارت سرحد پر گشت کر رہا ہے (اے ایف پی)

پاکستان اور بھارت کے درمیان ’لائن آف کنٹرول‘ پر کشیدگی کوئی نئی بات نہیں اور لوگ ایل او سی کے جملے سے اچھی طرح آشنا ہیں مگر گذشتہ کچھ ہفتوں سے بھارت اور چین کے فوجیوں کے مابین جھڑپوں کی وجہ سے ’لائن آف ایکچوئل کنٹرول‘ (ایل اے سی) جملہ بار بار سنائی دے رہا ہے۔ تو آخر پاکستان اور بھارت کے درمیان ایل او سی اور چین اور بھارت کے درمیان ای اے سی میں کیا فرق ہے؟

چین اور بھارت کے درمیان تازہ جھڑپوں میں بھارت کے 20 فوجی ہلاک ہوئے ہیں تو دوسری جانب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایل او سی پر کشیدگی کے باعث شہری ہلاکتوں کو سلسلہ ایک مرتبہ پھر شروع ہو گیا ہے۔

حکام نے تصدیق کی ہے کہ بدھ کو لائن آف کنٹرول پر واقع نکیال سیکٹر کے گاؤں دتوٹ میں بھارتی فوج کی گولہ باری سے دو بھائیوں سمیت تین نوجوان مارے گئے۔

لائن آف کنٹرول اور لائن آف ایکچوئل کنٹرول کی زمینی اور قانونی حقیقت کیا ہے؟ یہ جاننے کے لیے انڈپینڈنٹ اردو نے دفاعی اور بین الاقوامی امور کے ماہرین سے رابطہ کیا۔

لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کیا ہے؟

لائن آف کنٹرول جنوبی کشمیر، وادی اور کارگل کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور بلتستان سے الگ کرنے والی سرحد ہے۔ یہ بھمبر، گجرات سے لے کر گلگت، بلتستان تک پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور بھارت کے زیرانتظام جموں وکشمیر کے درمیان واقع ہے۔

اس سرحدی لکیر پر دونوں ممالک کے درمیان 1949 میں اقوام متحدہ کی مداخلت سے جنگ بندی ہوئی تھی۔ تب یہ سیز فائر لائن کہلاتی تھی، بعد میں 1972 میں شملہ معاہدے کے وقت اس کو لائن آف کنٹرول کا نام دے دیا گیا۔

دونوں ممالک نے اس وقت سے اپنی اپنی فوجوں کے زیر قبضہ علاقوں پر حکومتیں قائم کر لی تھیں۔ دفاعی امور کے ماہر لیفٹینٹ جنرل (ر)غلام مصطفیٰ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ کچھ سرحدیں عالمی طور پر تسلیم شدہ اور کچھ  صرف دو ملکوں کے مابین تسلیم شدہ ہوتی ہیں۔

بین الاقوامی قانون کے ماہر احمر بلال صوفی اس بارے میں کہتے ہیں کہ لائن آف کنٹرول اصل میں متنازع سرحد ہے۔ ’تسلیم شدہ بین الاقوامی سرحد غیر متنازع ہوتی ہے، جیسے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان واہگہ بارڈر ہے لیکن جس علاقے پر دونوں فریقین کا دعویٰ ہو اور علاقہ متنازع ہو جائے اور اقوام متحدہ اس لڑائی میں فریق بن کر جنگ بندی کرائے تو پھر وہ علاقہ لائن آف کنٹرول ہو جائے گا۔‘

انہوں نے بتایا ایل او سی کے تحت جو جہاں بیٹھا ہے وہی اس کی سرحد ہو جائے گی اور وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی تحت آگے نہیں بڑھے گا، ایل او سی اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت وجود میں آئی ہے اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازع ہے۔

لائن آف ایکچوئل (ایل اے سی) کنٹرول کیا ہے؟

لائن آف ایکچوئل کنٹرول بھارت اور چین کے درمیان ہے جہاں گذشتہ دنوں تناؤ کی سی صورتحال ہے اور دونوں ممالک کی فوجیں آمنے سامنے ہیں۔ سیاچن گلییشیئر تک واضح حد بندی نہ ہونے کے سبب یہ علاقہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول کہلاتا ہے۔ 

احمر بلال صافی کے مطابق لائن آف ایکچوئل کنٹرول کا زمینی اور قانونی پس منظر ایل او سی سے بالکل مختلف ہے، لائن آف ایکچوئل کنٹرول اقوام متحدہ کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ دو ممالک کا باہمی تنازع ہے، دونوں ممالک کے اپنے اپنے موقف ہیں اور دونوں ہی ایک دوسرے کا موقف نہیں مان رہے۔

انہوں نےبتایا کہ 1962 کی جنگ میں چین نے جن علاقوں پر قبضہ کیا تھا انہیں اپنے ملک میں شامل کر لیا، جب جنگ ختم ہوئی تو دونوں ممالک جس علاقے میں موجود تھے اسے اپنی سرحد تسلیم کرنے لگے۔ ’لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر کوئی سرحدی حد بندی نہیں بلکہ جس ملک کی فوج جس جگہ موجود ہے وہ اسے اپنا علاقہ سمجھتے ہیں اور اس معاملے میں کوئی تیسرا ملک فریق نہیں اور دونوں جانب متنازع علاقے ہیں۔‘

احمر بلال صوفی کہتے ہیں کہ بین الاقوامی قانون میں ڈی مارکیشن اور ڈی لمیٹیشن ہوتی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ڈی مارکیشن نقشے پر مارک کی جاتی ہے اور ڈی لمیٹیشن زمین پر حد بندی لگائی جاتی ہے لیکن لائن آف ایکچوئل کنٹرول میں ان معاملات پر ابہام موجود ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ بھارت کا اس حوالے سے متصادم موقف ہے کہ لداخ سے لے کر سقم تک لگ بھگ ساڑھے تین ہزار سرحدی لائن پر بھارت کا حق ملکیت بنا دیا۔

ورکنگ باؤنڈری کیا ہے؟

پاکستان کے ضلع گجرات سے لے کر نارووال کی تحصیل ظفروال تک تقریباً 90 میل کی پٹی کے اُس جانب بھارت کے زیر انتظام کشمیر کا علاقہ ہے۔ ادھر یہ علاقہ پاکستان کی ملکیت ہے اور اس میں کسی قسم کا تنازع نہیں ہے۔

ایک طے شدہ علاقے اور متنازع علاقے کے درمیان موجود سرحد ورکنگ باؤنڈری ہوتی ہے، یعنیٰ اس کے دوسری جانب جموں وکشمیر کا متنازع علاقہ ہے جس پر پاکستان اور بھارت دونوں ہی دعویٰ کرتے ہیں۔

احمر بلال صوفی نے بتایا کہ ورکنگ باؤنڈری بھی دو ممالک کے درمیان تسلیم شدہ سرحد ہوتی ہے لیکن اگر سرحد کے ایک جانب متنازع علاقہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں زمینی حقائق بدل سکتے ہیں، اس لیے یہ علاقہ ورکنگ باؤنڈری کہلائے گا۔

نقشے کے مطابق جہاں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حدود ختم ہوتی ہے وہاں اس کے بالمقابل بھارت کے زیرانتظام جموں اور کشمیر کی ریاست ختم نہیں ہوتی بلکہ نیچے جنوب کی طرف چلی جاتی ہے۔

دوسرے لفظوں میں پاکستان کے زیرانتظام کشمیرکی انتہائی جنوبی سرحد سے لے کر شکر گڑھ تک کا علاقہ پاکستان میں پنجاب کہلاتا ہے لیکن بھارت کی طرف یہ علاقہ جموں اور کشمیر کا علاقہ ہی رہتا ہے۔ چنانچہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے جنوب سے لے کر شکر گڑھ تک کے علاقے جس کی لمبائی 200 کلومیٹر ہے کو ورکنگ باؤنڈری کہا جاتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا