جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ نے پاکستان سے بھیجی گئی رقوم کی تفصیلات بتا دیں

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کرواتےہوئے کہا کہ ان پر ایسا کیس بنایا ہے جیسے وہ ماسٹر مائنڈ کریمنل ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ(تصویر: سپریم کورٹ ویب سائٹ)

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس پر اپیلوں کی سماعت میں آج کا دن انتہائی اہم تھا کیوں کہ آج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے اپنا بیان ریکارڈ کروایا ہے۔

اس سے قبل گذشتہ روز جسٹس فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ کے 10 رکنی بنچ کے سامنے خود پیش ہوکر عدالت کو بتایا تھا کہ ان کی اہلیہ ویڈیو لنک کے ذریعے جائیداد کے ذرائع بتانا چاہتی ہیں۔

لہذا جمعرات کو سماعت کے دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ’جسٹس قاضی فائز کی اہلیہ کا موقف سنیں گے اور ان کی اہلیہ کا بیان ریکارڈ کیا جائے گا۔

جس کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سے مخطاب ہوتے ہوئے جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا: ’اسلام علیکم۔‘

اس کے بعد قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے اپنا بیان شروع کرتے ہوئے کہا کہ ’موقع دینے کا بہت بہت شکریہ، آپ کی شکرگزار ہوں۔‘

اہلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ’ہدایات پر عمل کرنے کی کوشش کروں گی۔‘ انہوں نے عدالت سے کہا کہ وہ کسی قسم کی رعایت نہیں مانگتیں، ان کے ساتھ عام شہری جیسا سلوک کیا جائے۔

انہوں نے عدالت سے کہا کہ ’میں نے اپنے خاوند سے کہا کہ مجھ سے کیوں نہیں پوچھا جا رہا۔ جس پر شوہر نے کہا کہ یہ ریفرنس میرے متعلق نہیں۔‘

’مجھ پر ایسا کیس بنایا جیسے میں ماسٹر مائنڈ کریمنل ہوں۔‘

جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ نے وڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کرایا جو کہ انگریزی زبان میں تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا بیان تقریباً تین بج کر 45 منٹ پر شروع ہوا اور چار بج کر 40 منٹ پر ختم ہوا۔ بیان کے دوران سرینا عیسیٰ کی آواز کچھ مواقعوں پر بھر آئی لیکن انہوں نے خود پر قابو رکھتے ہوئے بیان جاری رکھا۔

ان کا کہنا تھا کہ میرے خاوند نے مجھے کہا ریفرنس میرے متعلق نہیں ہے۔ ’میرے لیے یہ بڑا مشکل وقت تھا، میرے والد قریب المرگ ہیں۔‘

اس دوران عدالت میں موجود جج خاموشی سے جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ کا بیان سنتے رہے۔

ویڈیو لنک کے ذریعے اپنے بیان کے دوران انہوں نے اپنا برتھ سرٹیفیکیٹ اور اپنا پرانا شاناختی کارڈ بھی دکھایا۔

قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کا بیان:

انہوں نے عدالت کو بتایا: ’میرا نام شناختی کارڈ پر سرینا عیسیٰ ہے۔ میرا کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ 2003 میں بنا۔ پہلا کارڈ زائد المیعاد ہونے پر دوسرا کارڈ بنوایا تھا۔

’میرے پاس سپین کا پاسپورٹ ہے کیونکہ میری والدہ سپین سے تھیں۔ میرے پہ الزام لگایا گیا کہ میری ڈبل شناخت ہے جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ سپینیش میں سرینا اور اردو میں زرینہ کو دوہری شناخت سمجھا گیا۔‘

میری شادی 25 دسمبر 1980 کو ہوئی۔ شادی کے 21 سال بعد میں نے لندن میں جائیداد خریدی۔

1983 میں مجھے معلوم نہیں تھا کہ 21 سال بعد لندن میں جائیداد خریدوں گی۔ جائیدادوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے بولتے ہوئے بھی وہ مسلسل اپنے آنسو صاف کرتی رہیں۔

سرینا عیسی نے جائیداد کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پہلی جائیداد 2004 میں برطانیہ میں خریدی تھی اور برطانیہ میں جائیداد کی خریداری کے لیے پاسپورٹ کو قبول کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ وہ کراچی میں امریکن سکول میں ملازمت کرتی رہی ہیں اور ریحان نقوی ان کے ٹیکس معاملات کے وکیل تھے۔

’گوشوارے جمع کرانے پر حکومت نے انہیں ٹیکس سرٹیفکیٹ جاری کیا اور ان کا ٹیکس ریکارڈ کراچی سے اسلام آباد منتقل کر دیا گیا لیکن ایف بی آر نے انہیں ریکارڈ منتقلی سے متعلق کچھ نہیں بتایا۔‘

انہوں نے مزید تفصیلات بتائیں کہ کلفٹن بلاک 4 میں جائیداد خریدی لیکن کلفٹن کی کچھ پراپرٹی فروخت کر دی گئی۔ شاہ لطیف میں خریدی گئی پراپرٹی بھی فروخت کر دی گئی۔

’میری زرعی زمین میرے اپنے نام پر ہے زرعی زمین کا خاوند سے تعلق نہیں کیونکہ زرعی زمین والد سے ملی۔‘

انہوں نے بتایا کہ زرعی زمین ڈسٹرکٹ جیکب آباد سندھ میں ہے۔ ڈیرہ مراد جمالی بلوچستان میں بھی زرعی زمین ہے۔ ان کے ٹیکس وکیل ریحان نقوی نے مشورہ دیا کہ زرعی آمدن قابل ٹیکس نہیں ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ زرعی زمین کی دیکھ بھال میرے والد کرتے تھے۔ وکیل ریحان نقوی نے انہیں مشورہ دیا کہ فارن کرنسی اکاؤنٹ اوپن کروائیں۔

سرینا عیسی نے عدالت کو بتایا کہ وہ غلط بیانی نہیں کریں گی۔ حکومت کو ان کی زمین کے بارے میں علم ہے۔

اس دوران انہوں نے ویڈیو لنک پر فارن کرنسی اکاؤنٹ کا ریکارڈ بھی دکھایا اور بتایا کہ چونکہ بینک دس سالہ پرانا ریکارڈ نہیں رکھتے اس لیے انہیں یہ ریکارڈ حاصل کرنے کے لیے بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

’2003 سے 2013 تک رقم اسی اکاؤنٹ سے باہر گئی ہے۔ پیسہ بینک اکاونٹ سے لندن بھیجا گیا اور سرینا عیسی کے نام سے پیسہ باہر گیا ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ایک پراپرٹی 236000 پاونڈز میں خریدی گئی۔ سٹینڈر چارٹر بنک کے فارن کرنسی اکاؤنٹس میں سات لاکھ پاونڈز کی رقم ٹرانسفر کی گئی۔

’یہ تمام دستاویزات جو میں نے دکھائی ہیں اصلی ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ انہیں محدود وقت دیا گیا ہے۔ سرینا عیسی کے مطابق لندن اکاؤنٹ بھی ان کے نام پر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سنہ 2013 میں 245000 پاؤنڈز سے تیسری جائیداد خریدی گئی اور اس پراپرٹی میں ان کا بیٹا رہائش پذیر ہے۔ دو لاکھ 70 ہزار پاؤنڈز کی ایک اور پراپرٹی اپنے اور بیٹی کے نام پہ خریدی۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ پراپرٹی میرے خاوند کے نہیں بلکہ میرے اور بیٹی کے نام پر ہے۔

جب امریکن سکول میں کام کرنا بند کیا تو وکیل ریحان نقوی نے تجویز دی کہ آمدن قابل ٹیکس نہیں ہے، اب قانون تبدیل ہو گیا ہے۔‘

لہذا انہوں نے اس لیے دو جائیدادیں کرایہ پر دے دی ہیں اور تیسری پراپرٹی میں بیٹا رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس لیے اب میں پاکستان اور برطانیہ میں انکم ٹیکس نہیں دے رہی۔‘

سرینا عیسیٰ نے کہا 13 ماہ سے الزامات لگتے رہے اور مجھ سے کسی نے کچھ نہیں پوچھا اور کیوں نہیں پوچھا؟ پچھلے 13 ماہ سے پاگلوں کی طرح دستاویزات جمع کر رہی تھی۔

انہوں نے کہا یہ معاملہ کھڑا ہی نہ ہوتا اگر میرا شوہر جج نہ ہوتا کیونکہ مجھے عام شہری کی طرح ٹریٹ نہیں کیا جا رہا۔

سماعت کے آخر میں جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ’جس طرح آپ نے آج سارا معاملہ پیش کیا ہے بالکل کسی ماہر وکیل کی طرح ہی کیس پیش کیا ہے۔ جس بہادری اور حوصلے کے ساتھ آپ نے اپنے مالی معاملات پیش کیے ہیں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کے پاس تمام ریکارڈ موجود ہے۔اور آپ بہادر خاتون ہیں۔‘

بیریسٹر فروغ نسیم کے دلائل اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا بیان مکمل ہونے کے بعد سماعت جمعہ 19 جون صبح ساڑھے نو بجے تک ملتوی کر دی گئی ہے جس میں منیر اے ملک قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل جوابی دلائل دیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان