چینی انکوائری کمیشن کیس پر حکم امتناع خارج، اداروں کو کارروائی کی اجازت

اسلام آباد ہائی کورٹ نے شوگر ملز ایسوسی ایشن اور ملز مالکان کی جانب سے انکوائری کمیشن کی رپورٹ پر کارروائی روکنے کی درخواست مسترد کردی۔

شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ کے خلاف پاکستان شوگرملز ایوسی ایشن ، جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے کی زیر ملکیت شوگر ملز سمیت دیگر نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا (اے ایف پی)

اسلام آباد ہائی کورٹ نے چینی انکوائری کمیشن کیس میں حکم امتناع خارج کردیا اور شوگر ملز ایسوسی ایشن اور ملز مالکان کی جانب سے انکوائری رپورٹ پر کارروائی روکنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے تمام اداروں کو کارروائی کی اجازت دے دی۔

عدالت عالیہ نے اپنے مختصر فیصلے میں قرار دیا کہ 'چینی انکوائری کمیشن پاکستان کمیشن ایکٹ کے دائرہ کار سے باہر ہے اور نہ ہی یہ انکوائری درخواست گزاروں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔'

واضح رہے کہ شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ کے خلاف پاکستان شوگرملز ایوسی ایشن (پی ایس ایم اے)، جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے کی زیر ملکیت شوگر ملز، سلیمان شہباز شریف، مخدوم عمر شہریار، پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سردار علی رضا دریشک سمیت دیگر نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

11 جون کو مذکورہ کیس کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ نے شوگر ملز ایسوسی ایشن کے حق میں مشروط حکم امتناع جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت تک ملک بھر میں عام آدمی کے لیے چینی 70 روپے فی کلو فروخت کرنے کا حکم دیا تھا۔

ہفتے کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے چینی کی قیمتوں میں اضافے پر انکوائری کمیشن کی رپورٹ کے خلاف درخواست پر سماعت کی، جہاں اٹارنی جنرل خالد جاوید خان اور دیگر فریقین کے وکلا پیش ہوئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوران سماعت اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ' یہ تاثر غلط  ہے کہ انکوائری کمیشن سیاسی مخالفین سے انتقام کے لیے بنایا گیا کیونکہ انکوائری تو حکومت کے اپنے اتحادیوں اور دوستوں کے خلاف بھی ہو رہی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ کسی تعصب پر مبنی کارروائی نہیں۔'

جس پر ملز مالکان کے وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ 'یہ کاروباری افراد کے بنیادی آئینی حقوق کا  کیس ہے جبکہ حکومت کی جانب سے شوگر ملز مالکان کو مافیا تک کہا جا رہا ہے۔'

شوگر ملز ایسوسی ایشن کے وکیل نے مزید دلائل دیے کہ 'شوگر کے معاملے پر تمام متعلقہ قوانین ملک میں موجود ہیں، حکومتی انکوائری کمیشن کی ضرورت نہیں تھی۔'

سماعت کے دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ عدالت جواب الجواب دلائل کے لیے وقت دے گی لیکن حکم امتناع آج ہی ختم ہوگا، جس پر مخدوم علی خان نے کہا کہ اگر حکم امتناع میں توسیع نہیں دی جارہی تو پھر جواب الجواب دلائل بھی آج ہی سن لیں۔

وکلا کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا اور بعدازاں فیصلہ سناتے ہوئے انکوائری کمیشن کی رپورٹ پر کارروائی کے خلاف دائر درخواست کو خارج کرتے ہوئے چینی رپورٹ پر اداروں کو کارروائی کی اجازت دے دی۔

دوسری جانب عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے میں ‏کمیشن کی سفارشات پر عملدرآمد کے لیے معاون خصوصی شہزاد اکبر کو تفویض اختیارات کو بھی غیرقانونی قرار دے دیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ '‏وفاقی کابینہ کا شہزاد اکبر کو اپنے اختیارات تفویض کرنا خلاف قانون اور سپریم کورٹ کے طے کردہ قانون سے مطابقت نہیں رکھتا۔'

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان