ایف اے ٹی ایف کا تازہ بیان، بھارتی میڈیا اور پاکستان

’24 جون کو ایف اے ٹی ایف نے ورچوئل اجلاس میں صرف دو ممالک کی کارکردگی کا جائزہ لیا ہے۔‘

بھارتی میڈیا کے کچھ حلقوں کی جانب سے خبر دی گئی کہ ایف اے ٹی ایف نے اپنے اجلاس میں فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کو گرے لسٹ میں ہی رکھا جائے گا۔ تصویر: ایف اے ٹی ایف

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے گذشتہ ہفتے ہونے والے ورچوئل اجلاس کے بعد بھارتی میڈیا کے کچھ حلقوں نے خبر دی کہ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ میں ہی رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایف اے ٹی ایف کا حالیہ جلاس گذشتہ ہفتے 24 جون کو ہوا تھا۔

تاہم اس اجلاس کے حوالے سے آج (منگل) کو ایف اے ٹی ایف کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے بعد بھارتی میڈیا کی ان خبروں کی نفی ہو گئی ہے۔

ایف اے ٹی ایف کے اس تازہ بیان کے مطابق ایف اے ٹی ایف اپریل میں ہی پاکستان سمیت 16 ممالک کی کارکردگی کے جائزے میں کرونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والی صورت حال کی وجہ سے چار ماہ کی توسیع کر چکا ہے۔

منگل جاری ہونی والی پریس ریلیز میں ایف اے ٹی ایف نے کہا ہے کہ ’منگلویا اور آئس لینڈ کے علاوہ دیگر ممالک کی کارکردگی کا جائزہ اپریل میں ہی چار ماہ کے لیے موخر کر دیا گیا تھا۔

’منگولیا اور آئس لینڈ کی کاردکردگی جائزہ کو اس لیے موخر نہیں کیا گیا کیوں کہ انہوں نے خود جائزہ موخر نہ کرنے کی درخواست کی تھی۔‘

اس سے قبل بعض بھارتی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں میں دعوی کیا گیا تھا کہ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ٹائمز آف انڈیا  اور معروف اخبار دی ہندو کی خبروں کے مطابق ایف اے ٹی ایف اجلاس میں فیصلہ ہوا ہے کہ پاکستان کو مزید کچھ عرصہ گرے لسٹ میں رکھا جائے گا۔

اسی طرح بھارتی دفتر خارجہ سے 25 جون کو اس حوالے سے پریس کانفرنس میں جب سوال پوچھا گیا تو ترجمان انوراگ شریواستو کا کہنا تھا کہ ’ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ بھارت کے موقف کی جیت ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم اب ایف اے ٹی ایف نے آج جاری کیے جانے والے بیان میں کہا ہے کہ چونکہ دیگر  ممالک کے کارکردگی جائزے کی ڈیڈلائن میں اپریل کو توسیع ہو چکی تھی اس لیے ’24 جون کو ایف اے ٹی ایف نے ورچوئل اجلاس میں صرف دو ممالک (آئس لینڈ اور منگولیا) کی کارکردگی کا جائزہ لیا ہے۔‘

بیان میں مزید لکھا ہے کہ ایف اے ٹی ایف اور اس کی علاقائی باڈیز گرے لسٹ میں موجود ممالک کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں اور ان ممالک سے کہتی ہیں کہ وہ طے کردہ منصوبے کے مطابق بروقت کام کریں۔

ایف اے ٹی ایف کا کہنا ہے کہ وہ ان ممالک میں ہونے والی پیش رفت کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا