22 مسافر، 22 کروڑ عوام اور ڈرائیور

غلطی تو ان لوگوں کی ہے جنہوں نے اس سے پہلے اس وین کو غلط استعمال کر کے اس کو چھکڑا کر دیا تھا۔ گردن ان کی ناپی جانی چاہیے۔ انکوائریاں ان کے خلاف ہونی چاہیے۔

پشاور میں ٹرین اور وین کے حادثے میں ہلاک ہونے والے سکھوں کی آخری رسومات ادا کی جا رہی ہیں (اے ایف پی)

شیخ رشید نے بات تو ٹھیک کی ہے۔ سکھ یاتریوں سے بھری ویگن کو پیش آنے والا اندوہناک حادثہ جس میں 22 لوگ اپنی جانوں سے گئے، اصل میں ڈرائیور کی کوتاہی سے پیش آیا۔

اگر ڈرائیورعقل مند ہوتا یا کم از کم عقل کا اندھا نہ ہوتا تو گاڑی کو پھاٹک سے جلد گزارنے کی جان لیوا کوشش نہ کرتا۔ اب ٹرین کا کیا پتہ کب آ جائے۔ یا کس رفتار پر سر پر پہنچ جائے۔ اور پھر ڈرائیور سے یہ توقع بھی تھی کہ وہ ماضی کے حادثات کے بارے میں خبریں وغیرہ تو پڑھتا رہا ہو گا۔ اس کے علم میں یہ ہونا چاہیے تھا کہ ایسے کاموں کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔

اگر وہ جاہل تھا یا پڑھنے لکھنے کی صلاحیت سے نا آشنا تھا تو اس کو یہ تو معلوم ہی ہو گا کہ جس وزارت کو شیخ رشید چلا رہے ہوں وہاں پر ہر چلنے والی چیز کا چال اور چلن کیسا ہو گا۔ ایسے مشکوک اور غیریقینی حالات میں اس نے ضرورت سے کہیں زیادہ احتیاط برتنی تھی۔ اس نے نہیں برتی، اس نے یہ تمام اہتمام نہیں کیا۔

نتیجے میں ’ایسے سانحے کو جنم دیا کہ جس نے درجنوں گھر بھی اجاڑ دیے اور سکھ برادری کے ذریعے ہندوستان کے ساتھ سفارت کاری کی جنگ میں ملک کے موقف کو بھی دھچکہ پہنچایا۔ اگرچہ مرنے والوں اور ان کے ورثا کوC-130  کی سہولت مہیا ہو گئی تھی مگر ان حالات میں ایسے اقدامات کی ہمدردانہ روح کو کون یاد رکھتا ہے۔ صرف نقصان ہی ذہن پر سوار رہتا ہے جو ناقابل تلافی ہے۔

دوسری طرف 22 افراد کی جان لینے کی ذمہ داری کی زد میں آئے ہوئے ڈرائیور کے ورثا یہ کہہ سکتے ہیں کہ قصور اس کا نہیں تھا۔ وہ خود سے تو گاڑی کی سیٹ پر نہیں بیٹھا۔ اس کو یقینا کسی نے چنا ہو گا۔ اس کو لائسنس دلوایا گیا ہو گا۔ اگر لائسنس جعلی تھا یا اس نے تربیت یافتہ نہ ہونے کے باوجود خود کو اس اہم سیٹ پر بیٹھنے کے لیے انتظام کر لیا تو یہ سب کچھ معاونت اور مدد کے بغیر نہیں ہوا ہو گا۔ کسی نے تو اس کو اپنا پیارا، اپنا لاڈلہ بنا کر سب کو چکر دے کر اس مقام پر کھڑا  کیا ہو گا۔

قانون اور ضابطے کی دھجیاں اڑائی گئی ہوں گیں۔ میرٹ کا ستیاناس کیا گیا ہو گا۔ زیادہ اہل امیدواروں کو دھوکہ دے کر اپنے امیدوار کو دھکے سے لائن میں آگے کیا ہو گا۔ اس دوران جھوٹ بھی بولے گئے ہوں گے۔ پیسہ دھیلا بھی لگایا گیا ہو گا۔ اس ڈرائیور کی تعریفوں کے پُل بھی باندھے گئے ہوں گے۔ کہا گیا ہو گا کہ ایسا سورما تو کبھی مشینی فعل و حرکت کی تاریخ میں پیدا ہی نہیں ہوا۔ یہ جس سٹیئرنگ ویل کو ہاتھ لگاتا ہے وہ اطاعت گزار کی طرح اس کے ایک اشارے پر چلنے لگتا ہے۔ اس کو بریک لگانے یا رفتار بڑھانے کے لیے پاؤں کا استعمال نہیں کرنا پڑتا بس اس کا رعب اور مسکراہٹ ہی کافی ہے۔

یہ بھی بتایا گیا ہو گا کہ اس کو ڈرائیونگ سییٹ پر بیٹھا دیکھ کر مسافروں کو راحت اور اطمینان کے ساتھ مکمل تحفظ کی ضمانت از خود حاصل ہو جاتی تھی۔ بلکہ بعض موقع پر ایسے کرشمے بھی سننے کو آئے تھے کہ بوڑھے اس کی گاڑی میں سے نکل کر جوان ہو گئے۔ بانجھ عورتوں کی گود ہری ہو گئی اور جو فقیر تھا اس کا چولا ڈالروں سے بوجھل ہو گیا۔

ڈرائیور کی ایسی کرامات کے ساتھ اس کے ساتھ میرٹ پر مقابلہ کرنے والے دوسرے امیدواروں کی مبینہ نحوستوں کا ذکر بھی کیا گیا ہو گا۔ بتایا گیا ہو گا کہ اقبال کے اس مومن کے مدمقابل بد اور جعلی ہیں۔ وہ بےشک تجربہ کار ہوں گے مگر ان کی تجربہ کاری یا ڈرائیوروں اور مسافروں میں ان کی مقبولیت مکاری اور عیاری کی مرہون منت ہے۔

وہ باصلاحیت بھی نہیں ہیں اورنہ اس قابل کہ لوگوں کے جان و مال کو باعزت اور باحفاظت انداز سے اپنی منزل مقصود تک پہنچا پائیں۔ گاڑی ان کے ہاتھ میں دینے کا مطلب ہے مکمل تباہی اور بربادی۔ اور پھر اس کے ساتھ میں یہ بھی کیا گیا ہو گا کہ اس  ویگن کو چلانے والوں کی فہرست میں سے اپنے پسندیدہ امیدوار کے علاوہ سب کے نام کاٹ کر اس کو واحد چوائس بنا دیا جائے تاکہ آخر میں اگر اس کی حقیقت کھل بھی جائے تو یہ تو کہہ سکیں کہ کیا کرتے اس کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہیں تھا۔

مگر پھر ڈائیور کو وین کی چابیاں دینے والے اور اس کو ہر الٹے سیدھے طریقے سے سیٹ پر بیٹھانے والے یہ کہہ سکتے ہیں کہ اصل مسئلہ نہ تو ڈرائیور کی غلط سیلیکشن ہے (ظاہر ہے کون اپنی غلطی تسلیم کرتا ہے) اور نہ ڈرائیونگ کی صلاحیت کے فقدان کا۔

سانحے کی بنیادی وجہ وہ حالات تھے جو کسی کو بھی زیر کر سکتے تھے۔ ڈرائیور نے اپنے طور مسافروں کو منزل مقصود تک پہنچانے کی بھر پور کوشش کی۔ اب گاڑی کا گیئر بکس اگر خراب ہو گیا یا اس کا انجن بیچ پٹڑی جان نہ پکر سکا تو اس کا دوش ڈرائیور کو کیوں دیا جائے۔

غلطی تو ان لوگوں کی ہے جنہوں نے اس سے پہلے اس وین کو غلط استعمال کر کے اس کو چھکڑا کر دیا تھا۔ گردن ان کی ناپی جانی چاہیے۔ انکوائریاں ان کے خلاف ہونی چاہیے نہ کہ اس کے خلاف۔ اور ہاں وہ یہ بھی یاد دہانی کروا سکتے ہیں کہ ہونی کو کوئی نہیں روک سکتا - بطور مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ اللہ کی مرضی کو اپنانا ہی اصل بندگی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اگرچہ مارے جانے والے سکھ تھے لیکن چونکہ ان کا سفر اسلامی سرزمین پر جاری تھا لہذا اس کے اندوہناک اختتام پر یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔ وہ سکھ برادری کو نہ گھبرانے کی تلقین بھی کر سکتے ہیں۔ ان کے گھروں میں افسوس کی رسم پوری کرتے ہوئے ان کو تسلی دینے کے لیے یہ سمجھا سکتے ہیں کہ نقصان اس سے بھی زیادہ ہو سکتا تھا۔ یعنی جو چھ بچ گئے وہ بھی شمشان گھاٹ پہنچ سکتے تھے۔

ڈرائیور تو بہت اچھا تھا۔ محلے سے خیرات اکٹھی کرتا تھا - خوب کسرت کرتا  تھا۔ گلی ڈنڈے کے کئی ٹورنامنٹ بھی جیتا ہوا تھا۔ بس قسمت خراب تھی۔ خود بھی جان سے گیا جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کتنا محنتی تھا۔ اب بس صبر کریں ۔ آگے کی سوچیں۔

22 اموات کے علاوہ حالات قابو میں ہیں۔ ٹریفک ٹھیک چل رہی ہے۔ پاکستان کی کرکٹ ٹیم انگلینڈ میں ہے۔ شیخ رشید صحت یاب ہو چکے ہیں۔ ن لیگ کو سیاسی طور پر جکڑ لیا گیا ہے اور آصف علی زرداری کی ٹھکائی بس شروع ہونے والی ہے۔ جب اہم ملکی معاملات احسن طریقے سے چل رہے ہوں تو ایسے حادثات پر زیادہ رنجیدہ نہیں ہونا چاہیے۔

سوچ مثبت رکھیں۔ اخبار نہ پڑہیں۔ گلاس اگر نہ بھی ہو تو بس تصور کریں کہ وہ ہے اور آدھے سے زیادہ بھرا ہوا ہے۔ قبر کے دائمی سکون سے پہلے دنیا میں تشفی حاصل کرنے کا یہ آزمودہ نسخہ ہے۔ اگر یقین نہ آئے تو 22 کروڑ پاکستانیوں سے پوچھ لیں کہ دو سال میں ان کا سفر کیسا رہا۔

------------

نوٹ: یہ تحریر مصنف کے ذاتی خیالات پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ