علی زیدی کے الزام کھسیانی بلی کھمبا نوچے جیسے: سعید غنی

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا 'یہ (علی زیدی) موٹر سائیکل والے سے لفافے کے اندر ملنے والی جی آئی ٹی جھوٹی نکلنے کے بعد کھسیانی بلی کھمبا نوچے کی مانند ایسی حرکتیں کرہے ہیں۔'

(ٹوئٹر)

وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی نے لیاری گینگ وار کے سرغنہ عذیر بلوچ کے قریبی ساتھی حبیب جان بلوچ کی ایک ویڈیو اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شیئر کرکے دعوی کیا کہ انھوں نے آصف زرداری اور قادر پٹیل کو بے نقاب کردیا ہے۔

ان کے اس دعوے کے ردعمل میں پاکستان پیپلز پارٹی نے کہا 'علی زیدی کے الزامات ایسے ہیں کہ کھسیانی بلی کھمبا نوچے۔'

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا 'یہ (علی زیدی) موٹر سائیکل والے سے لفافے کے اندر ملنے والی جی آئی ٹی جھوٹی نکلنے کے بعد کھسیانی بلی کھمبا نوچے کی مانند ایسی حرکتیں کرہے ہیں۔'

'یہ سب باتیں بہت پُرانی ہیں، مجھے حیرت ہے کہ علی زیدی کو علم تک نہیں کہ سارے معاملے اور الزامات پرانے ہوچکے ہیں۔ دنیا جہاں کو پتہ ہے کہ حبیب جان بلوچ 2014 میں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کرچکے ہیں۔ اب علی زیدی اپنی پارٹی کے رکن سے جو چاہے کہلوا لیں۔ اس وقت یہ بلدیہ فیکٹری اور عذیر بلوچ سمیت تمام کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اگر ان کے پاس کوئی ثبوت ہیں تو عدالت میں جائیں۔'

واضح رہے کہ جمعے کی رات وفاقی وزیر علی زیدی نے اپنے تصدیق شدہ ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ٹوئیٹ کرتے ہوئے لکھا تھا ' کل صبح میں ایک دھماکہ خیز ویڈیو ٹویٹ کروں گا! ایک بار پھر آصف زرداری اور ان کے مجرموں کے گروہ بے نقاب ہوں گے۔'

ان کی ٹویٹ کے جواب میں سیاست دانوں نے دلچسپ تبصرے بھی کیے۔

پی ٹی آئی رہنما علی زیدی نے ایک منٹ 57 سیکنڈز کی اس ویڈیو کے ساتھ اپنی ٹویٹ میں لکھا : جرم اور سیاست ایک ساتھ چلتے رہے، مافیا ڈان آصف زرداری اور ان کے ساتھی  قادر پٹیل ایک بار پھر بے نقاب ہوگئے، انہیں حبیب جان نے بےنقاب کردیا، جو اس وقت ان کے ساتھ تھا۔'

 اس ویڈیو میں حبیب جان بلوچ کا کہنا  تھا : '2012 میں لیاری آپریشن کے بعد پیپلز پارٹی کی قیادت نے عذیر بلوچ سے رابطہ کیا اور انہیں منانے کے لیے 5 کروڑ روپے دیے۔ جس کے بعد عذیر جان بلوچ پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے، عذیر بلوچ کی دعوت پر قائم علی شاہ، شرمیلا فاروقی اور فریال تالپور بھی آئے۔'

پیپلز پارٹی رہنما اور رکن سندھ اسمبلی شرمیلا فاروقی نے حبیب جان کی جانب سے عذیر بلوچ کی پارٹی شمولیت   اختیار کرنے والی دعوت میں شرکت  میں ان کی موجودگی والے الزام پر ردعمل دیتے ہوئے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا : 'وہ ایک عشایہ تھا جس کا اہتمام ثانیہ ناز اور جاوید ناگوری نے کیا تھا۔ اس عشایے پر ہم گئے تھے۔ اس دعوت میں پانچ سو لوگ شریک تھے اب اگر ان پانچ سو لوگوں کی دعوت میں اگر کوئی عذیر بلوچ نکل آیا تو اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں۔ اس متعلق مزید وضاحت ثانیہ ناز اور جاوید ناگوری سے لیں۔ ہم نے صرف شرکت کی، ہم وہاں بیٹھے، کھانا کھایا اور ہم واپس آگئے۔ اگر وہاں کوئی عذیر بلوچ، چور یا ڈاکو تھا تو اس کی ذمہ داری منتظمین پر ہے، ان سے پوچھا جائے۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

علی زیدی کی جانب سے شئیر کی جانے والے ویڈیو میں جب حبیب جان بلوچ سے پوچھا گیا کہ کیا کبھی پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت جیسے کہ آصف زرداری سے عذیر بلوچ ملاقات ہوئی؟ تو انھوں نے کہا کہ: 'ایک مرتبہ عذیر بلوچ کا مجھے فون آیا کہ آصف زرداری ان سے ملنا چاہتے ہیں اور اس ملاقات کے لیے قادر پٹیل کے ساتھ جانا تھا۔'

پیپلز پارٹی قیادت سےناراضگی کی وجوہات بتاتے ہوئے حبیب جان بلوچ نے کہا : ' 'آصف زرداری کی خواہش تھی کہ ان کے منہ بولے بھائی اویس مظفر ٹپی لیاری سے الیکشن لڑیں، یہ بات ناراضگی کی وجہ بنی۔'

سعید غنی نے اس حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو کو مزید بتایا کہ جب پی ٹی آئی کے پارٹی الیکشن میں رشوت پر عہدے لینے کا الزام لگا تو عمران خان کی جانب سے جسٹس وجیہہ الدین کی انکوائری میں جہانگیر ترین سمیت اہم رہنماؤں پر رشوت دے کر پارٹی پوزیشن لینا ثابت ہوگیا تھا ۔

'جس سیاسی پارٹی کے اندر پارٹی الیکشن میں رشوت چلتی ہو ایسی پارٹی کے رہنما کو ایسے الزامات لگاتے ہوئے شرم آنی چاہیے۔'

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان