عذیر بلوچ جے آئی ٹی، اصل رپورٹ کس کے پاس ہے؟

وفاقی وزیر اور کراچی سے پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی علی حیدر زیدی نے ایک ٹویٹ میں اعلان کیا ہے کہ وہ منگل کی دوپہر ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب میں ’دلچسپ انکشافات‘ کریں گے۔

2016 میں پاکستان رینجرز کے ہاتھوں گرفتاری کے وقت عذیر بلوچ(تصویر: رینجرز)

حکومت سندھ اور وفاق کے درمیان لیاری امن کمیٹی کے سربراہ عذیر بلوچ کی جوائنٹ انویسٹی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ پر ایک نیا تنازع اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ بات اب یہ ہے کہ اصل جے آئی ٹی کی رپورٹ کون سی ہے اور کس کے پاس ہے۔

حکومت سندھ کی جانب سے پیر کو کافی تاخیر سے جاری کی گئی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملزم نے سیاسی و لسانی بنیادوں پر 198 افراد کے قتل کا اعتراف کیا ہے۔ لیکن سندھ حکومت کی جانب سے جاری رپورٹ میں صوبے کی حکمراں جماعت پیپلز پارٹی کا کوئی ذکر نہ ہونے پر پاکستان تحریک انصاف کو شک ہے۔

وفاقی وزیر اور کراچی سے پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی علی حیدر زیدی نے ایک ٹویٹ میں اعلان کیا ہے کہ وہ منگل کی دوپہر ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب میں ’دلچسپ انکشافات‘ کریں گے۔ انہوں نے لکھا کہ ’گیم آن ہے۔‘

تاہم انہوں نے ایک نجی ٹی وی چینل کو بتایا کہ ان کے پاس جس جے آئی ٹی کی رپورٹ ہے اس میں پیپلز پارٹی کا ذکر ہے۔

مبصرین کے مطابق سندھ حکومت کی رپورٹ پر دو جبکہ پی ٹی آئی کے پاس رپورٹ پر چھ سرکاری اہلکاروں کے دستخط ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کس کی رپورٹ اصل ہے۔

حکومت سندھ کے مطابق رپورٹ میں کوئی ردوبدل نہیں کیا گیا ہے۔ ترجمان صوبائی حکومت مرتضی وہاب کہتے ہیں کہ اس کا حل یہ ہے کہ جی آئی ٹی کے سربراہ سے پوچھ لیا جائے کہ کون سی رپورٹ اصل ہے۔

سندھ حکومت کی جاری رپورٹ کے مطابق مختلف مجرمانہ واقعات میں ملوث ہونے کے باعث 2006 سے 2008 تک کراچی سینٹرل جیل میں قید رہے جبکہ عذیر بلوچ جون 2013 میں کراچی سے براستہ ایران دبئی فرار ہو گئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق وہ ایک نامعلوم راستے سے کراچی واپس آئے لیکن کراچی سے بلوچستان میں داخل ہوتے ہوئے 30 جنوری 2016 کو پاکستان رینجرز نے انہیں گرفتار کر لیا تھا۔

2001 میں لیاری ناظم کا الیکشن ہارنے والے عذیر جان بلوچ کے والد فیض بلوچ، جو ٹرانسپورٹ کا کام کرتے تھے اور انہیں 2003 میں ارشد پپو کے والد نے مبینہ طور پر قتل کر دیا تھا جس کا بدلہ لینے کے لیے وہ رحمٰن ڈکیت گروپ میں شامل ہوئے تھے۔

جے آئی ٹی کے مطابق 2008 میں پولیس مقابلے میں رحمٰن ڈکیٹ کی موت کے بعد عذیر بلوچ نے گینگ کو سنبھالا اور پیپلز امن کمیٹی کا آغاز کیا اور اسی جماعت کے زیر سایہ لیاری میں مجرمانہ سرگرمیاں اور ارشد پپو اور غفار ذکری گروپ کے خلاف گینگ وار کا سلسلہ جاری رکھا جبکہ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے علاقے میں ایم کیو ایم کے ٹارگٹ کلرز کو بھی مارنے کا سلسلہ جاری رکھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مارچ 2013 میں ارشد پپو کو قتل کرنے کے بعد عذیر بلوچ لیاری کے بادشاہ بن گئے تھے تاہم اس کے بعد لیاری امن کمیٹی اندرونی اختلافات سے دوچار ہو گئی اور بالآخر ستمبر 2013 میں کراچی آپریشن شروع ہونے کے بعد وہ بیرون ملک فرار ہو گئے تھے۔

ملزم زمینوں پر قبضے، بھتہ خوری، چائنا کٹنگ اور منشیات کی سمگلنگ میں بھی ملوث رہے۔

جےآئی ٹی کی رپورٹ میں عزیر بلوچ پر آرمی ایکٹ کے تحت جاسوسی کا مقدمہ چلانے سمیت دیگر سفارشات کی گئی ہیں۔ عزیر بلوچ نے غیرملکیوں کے لیے جاسوسی کی، آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کی اس لیے نشاندہی پر برآمد اسلحہ اور بارودی مواد پر نیا مقدمہ درج کیا جائے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست