قبائلی لڑکیوں کی تعلیم، یہاں بھی جعلی استانیاں؟

تعلیم جو کسی ملک کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے  قبائلی علاقے میں اس جدید دور کے ہوتے ہوئے بھی لوگ اس نعمت سے محروم ہیں خاص طور پر لڑکیاں۔

(تصاویر: اے ایف پی)

تعلیم جو کسی ملک کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے  قبائلی علاقے میں اس جدید دور کے ہوتے ہوئے بھی لوگ اس نعمت سے محروم ہیں۔

لڑکیوں کے سکولوں میں حاضری اور خواتین اساتذہ کی صورت حال کیا ہے، اس پر گفتگو سے پہلے یہ سچا واقعہ پڑھیے۔

مجھے ایک  مانیٹرنگ سٹاف (سکول کا نظام چیک کرنے کے لیے مقرر چھاپہ مار سٹاف) نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ 'ایک دفعہ ایک سکول میں وزٹ ہوا وہاں پر جب دیکھا تو تعلیم حاصل کرنے کے لیے بچیاں سکول میں موجود تھیں اور بتایا جا رہا تھا کہ استانیاں بھی آئی ہوئی ہیں اور کلاسوں میں پڑھا رہی ہیں۔ '

'وہ بچیاں کافی خوش نظر آ رہی تھیں جب میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہم بڑی ہو کر ڈاکٹر بنیں گی اور ایک لڑکی نے میری طرف اشارہ کیا کہ میں بڑی ہوکر آپ کی طرح ٹیچر بنوں گی اور آپ کی طرح سکولوں میں جا کر بچیوں کی خبر لوں گی ۔'

اس نے بتایا کہ 'مجھے کافی خوشی ہوئی کہ چلو اچھا ہے کہ یہاں کی یہ غریب لڑکیاں بھی پڑھ لکھ جائیں گی تو ملک و قوم کا نام روشن کریں گی، مگر میری خوشی اس وقت دکھ میں بدل گئی جب میرا سامنا ان کی وہاں پر موجود استانیوں سے ہوگیا۔ '

'وہاں پر جو استانیاں ڈیوٹیوں پر موجود تھیں وہ اصلی استانیاں نہیں تھیں بلکہ ان استانیوں کی جگہ پر پانچ چھ ہزار روپے کے عوض ڈیوٹیاں کرنے والی وہاں کی غریب مقامی پرائمری پاس بچیاں تھیں۔'

'جب میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نام بتائیں تو انہوں نے اپنے نام نہیں بتائے بلکہ جن استانیوں کی جگہ وہ ڈیوٹیاں دے رہی تھی ان کے نام بتائے۔ جب میں نے ان میں سے ایک کی تعلیم کے متعلق پوچھا تو جواب ملا کہ میں نے بی اے کیا ہوا ہے حالانکہ وہ لڑکی تقریباً 13 سال کی تھی۔ '

'مجھے تو اسے کو دیکھ کر ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ اصلی استانی نہیں ہے مگر بغیر ثبوت کے میرے پاس کوئی چارہ نہ تھا۔'

'مجھے حیرت سے ہنسی آ رہی تھی کہ ان کی عمریں دیکھو، ان کی معصومیت دیکھو اور یہ دیکھو کہ ان کو جس بات پر پختہ کیا ہے کہ کسی بھی حال میں خود کوظاہر نہ کرنا، یہ معصوم بچیاں بھی وہی کر رہی تھیں اور میرے سامنے بڑی خود اعتمادی سے کھڑی تھیں۔'

'اس طرح ایک اور بچی جو استانی بنی ہوئی تھی اور اس کے ہاتھ میں انگریزی کی کتاب تھی، اس کو میں نے بلا کر کہا کہ جی آپ کا نام؟ تو اس نے بھی وہی کہا کہ اپنا اصل نام  ظاہر نہ کیا اور جس کی جگہ پیسوں پر لگی تھی اس کا نام ہی بتایا۔ تو میں نے اس سے پوچھا کہ آپ کی تعلیم کتنی ہے تو اس نے بتایا کہ میں نے ایف اے کیا ہوا ہے، مگر اس کا رنگ اڑا ہوا تھا۔ '

'وہ تھوڑی گھبراگئی جب میں نے اس سے چند سوالات کرنا شروع کیے اور کہا کہ اچھا، بہت اچھی بات ہے مگر اتنی کم عمر میں اتنی تعلیم آپ نے کیسے حاصل کی ؟ تو وہ گھبرا گئی اور کہا کہ کلاس کا ٹائم ہے، بچیوں کو پڑھانا ہے۔ مگر اس کے ہاتھ میں کتاب دیکھ کر میرے ذہن میں خیال آیا کہ کیوں نہ اس سے اس کتاب کے متعلق پوچھا جائے۔'

'میں نے اس سے وہ کتاب مانگی اور وہاں پر موجود بچیوں سے پوچھا کہ یہ استانی کیسی ہیں؟ سب نے کہا کہ بہت اچھی ہیں اور بہت اچھا پڑھاتی ہیں۔  وہ بچیاں کیا سمجھتی تھی اچھے برے کو، وہ یہی سمجھ رہی تھیں کہ اچھی استانیاں ہیں۔'

'میں نے اس استانی سے کہا کہ اچھا میرے سامنے ان بچیوں کو پڑھاؤ۔ بچیاں کافی خوش ہیں آپ سے اور میں نے اس استانی کی حوصلہ افزائی کی، مگر اس سے خود کچھ بھی نہیں پڑھا جارہا تھا۔ '

'میں سمجھ گئی کہ اس کو کچھ بھی نہیں آتا میں نے اس سے اسی کتاب میں موجود چند آسان سے سوال پوچھے جو اس کو نہیں آرہے تھے۔ حیرت تو بہت ہوئی کہ ایک تو فیک ہے اور دوسرا کچھ آتا بھی نہیں، پھر میں نے اسی کتاب کا پہلا صفحہ کھولا اور اس سے اس کے بارے میں پوچھا تو اس کو کچھ بھی نہیں آرہا تھا۔ '

'پھر میں نے لہجے میں کچھ سختی کی اور کہا کہ آپ کو خود کچھ نہیں آتا آپ بچیوں کو کیا سکھارہی ہیں؟  میں نے اس سے اس کے سکول اور کالج کے بارے میں سوالات پوچھنے شروع کیے جس پر اس نے مجھے سب کچھ سچ سچ بتا دیا۔'

'اس نے کہا کہ میں کسی اور کی جگہ پر ڈیوٹی کر رہی ہوں اور مجھے چھ ہزار ملتے ہیں اور میں تیسری جماعت تک پڑھی ہوں۔ اس طرح وہ دوسری اور تیسری سب استانیاں فیک نکلیں جن کی تعلیم پرائمری جماعت سے آگے نہیں تھی ۔'

'کافی دکھ ہورہا تھا  اور وہاں سکول کی نگرانی کرنے والا  ملک  (مشر- مقامی عمائدین کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح) جو اس سکول کی نگرانی کر رہا تھا اس کا چہرہ اڑا ہوا تھا۔ وہ میری منت سماجت کرنے لگا کہ یہاں ڈیوٹیوں پر جتنی بھی استانیاں ہیں سب کی حاضری لکھ دوں۔'

'وہاں پر ایک طرف سکول میں بچیاں تھی جہنوں نے اتنے بڑے بڑے ارمان دل میں سجائے ہوئے تھے، جو اپنے علاقے کے لیے ڈاکٹر  ،ٹیچرز یا پتہ نہیں کیا کیا بننا چاہتی تھیں اور دوسری طرف یہاں کی صورتحال دیکھ کر مجھے افسوس ہورہا تھا کہ ہم ان بچیوں کے مستقبل کے ساتھ کیا  کر رہے ہیں؟ آیا ہم آخرت میں اس کا جواب نہیں دیں گے؟ آیا ہم سے اس فرض کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا ؟ کیا اللّہ کے دربار میں بھی ہم اس طرح دھوکہ دے کر نکل جائیں گے؟ '

اس واقعے سے تمام معاملے کا بہتر اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

یہاں سکولوں میں اساتذہ، پانی اور بجلی جیسی بنیادی سہولیات کی کمی ہے۔ صحت کی بات کریں تو ہسپتالوں میں سٹاف نہیں، نہ کاروبار کے کوئی مواقع ہیں اور نہ ہی حکومت کی طرف سے کوئی توجہ اس جانب ہے۔

سکول ہر ضلع ہر گاؤں میں موجود تو ہیں مگر صرف مہمان خانے بنے ہوئے ہیں جن کے خلاف اگر آواز اٹھائی جائے تو کافی مشکلات کا سامنا کر نا پڑتا ہے۔

یہاں عورتوں کے نام پر سکول تو منظور کیے جاتے ہیں، عورتوں کے نام پر تنخواہیں بھی لی جاتی ہیں، مگر اسی عورت کو اس کے بنیادی حق تعلیم کی روشنی سے محروم رکھا جاتا ہے۔

ایک مرتبہ جنوبی وزیرستان کے ایک انتہائی پسماندہ علاقے میں جانا ہوا۔ ایسا علاقہ جس میں اگر دیکھا جائے تو وہاں کے لوگوں کے پاس، جن میں عورتیں بھی شامل ہیں، ان کے شناختی کارڈ تک نہیں بنے  تھے۔

وہاں پر مجھے لڑکیوں کا سکول نظر آیا اور میں نے وہاں کے مقامی لوگوں سے بچیوں کی تعلیم کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ نہیں بچیاں یہاں تعلیم کیسے حاصل کریں جب کہ کوئی سکول ہی نہیں ہے؟

تو میں نےاس سکول کا حوالہ دیا کہ یہاں پر فلاں لڑکیوں کا سکول موجود ہے تو پڑھاتے کیو ں نہیں ہو؟

تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ تو فلاں ملک (مشر ، جو اسی علاقے کا مشر تھا) کا ہے اور وہ سکول میں کسی کو جانے نہیں دیتا نہ وہاں پر سٹاف آتا ہے، اور نہ ہی وہاں پر کوئی پڑھنے جا سکتا ہے۔

حیرت ہوئی کہ جب سکول موجود ہے اور پڑھنے نہیں دیا جارہا تو اس سکول کی منظوری کی کیا ضرورت؟

جب اس ملک  (مشر) سے  ہمارے ٹیم کے ایک بندے کی بات ہوئی تو اس نے کہا کہ انشااللہ یہ سکول اب پرائمری سکول سے مڈل بن جائے گا اور بڑے فخر سے بتا رہا تھا کہ جیسے اس نے سکول کی اپ گریڈیشن کرکے کوئی بڑا کارنامہ سر انجام دیا ہو۔

مگر جب اس سے سکول کے نان فنکشنل ہونے کے متعلق پوچھا گیا تو اس کے ماتھے پر بل پڑ گئے اور غصے کے انداز میں کہا کہ  لڑکیوں کو اسلام میں گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں،عورت گھر کی ملکہ ہے وہ گھر میں ہی اچھی لگتی ہے، لڑکیاں پڑھ کر کیا کر لیں گی؟  اور میں لڑکیوں کی  تعلیم کے سخت خلاف ہوں،  اور آگے مزید بات کرنے سے انکار کردیا ۔

 مجھے اس بات پر  حیرت ہو رہی تھی کہ جب یہ بچیوں کی تعلیم کے خلاف ہے تو سکول کس لیے منظور کروایا ہے؟ جب یہ بچیوں کے تعلیم کے خلاف ہے تو اس سکول کی اپ گریڈیشن پر اتنا خوش کیوں ہے جب یہ بچیوں کے تعلیم کے خلاف ہے تو بچیوں کے نام پر ہی  سکول کیوں ؟  

کیا صرف نوکریوں کے حصول کے لیے؟ کیا صرف عورتوں کے نام پر  پیسہ لینا حلال ہے جب کہ اس کو اس کا بنیادی حق دینا حرام ؟ کیا  اسلام یہی کہتا ہے ؟ کیا ہم اسلام کے بنیادی اصولوں سے واقفیت رکھتے ہیں؟

کیا اسلام اس طریقے سے پیسہ کمانے کو جائز قرار دیتا ہے جب کہ اسلام نے عورتوں کو جو تعلیم کا حق دیا ہے اس کو چھین کے ہم اسلام کے  کیسے دعویدار بن رہے ہیں  ؟ وزیرستان میں سکولوں میں اکثر ایسی اساتذہ بھرتی کی گئی ہیں جنہوں نے سکول کا نام و نشان تک نہیں دیکھا اور وہ پینشن بھی لے رہی ہیں اور اب بھی ایسی اساتذہ موجود ہیں جہنوں نے نہ خود تعلیم حاصل کی ہے اور نہ سکول کو دیکھا ہے۔  

نہ وہ ڈیوٹیاں کرتی ہیں اور ڈیوٹیاں کریں گی بھی تو کیسے جب انہوں نے خود تعلیم حاصل نہ کی ہو تو وہ دوسروں کو کیا علم کی روشنی دے پائیں گی؟

اکثر پرائمری پاس مقامی لڑکیوں کو پانچ ہزار یا چھ ہزار روپوں کا لالچ دے کر ان سے   ڈیوٹیاں کروائی جاتی ہیں جو کہ سکولوں میں صرف حاضری اور کسی مانیٹرنگ کے وزٹ کے دوران موجود رہنے تک ہوتی ہیں، باقی سکولوں میں بچوں کے مستقبل کے بارے میں کوئی سنجیدگی نہیں۔

یہاں تک کہ جب ان اضلاع میں مانیٹرنگ کا سسٹم فعال کر دیا گیا اور سٹاف ہائر کیا گیا تو لوگوں میں خوشی کی انتہا نہ رہی کہ اب سکول فنکشنل ہو جائیں گے اور ہمارے بچے اور بچیاں صحیح طریقے سے تعلیم حاصل کر پائیں گے مگر یہ خواب بھی ایک خواب ہی رہا۔

ایک مہینے مانیٹرنگ والوں کی ڈیوٹیوں کے بعد ان کا کوئی صحیح رزلٹ نہ آیا۔ یہاں تک کہ اکثر مانیٹرنگ میں بھی ایسے لوگوں کو بھرتی کیا گیا ہے جن کے کہیں نہ کہیں  سے ایجوکیشن والوں کے ساتھ لنک ہے اور وہ بھی آنکھیں بند کر کے آگے رپورٹ اوکے کروا دیتے ہیں۔

اگر کچھ لوگ اپنی ڈیوٹیوں کو صحیح طریقے سے سر انجام دینا بھی چاہتے ہیں تو ان کو کافی تنگ کیا جاتا ہے اور مجبوراً وہ بھی اپنی نوکری بچانے کے لیے غیر حاضر اساتذہ کو حاضر اساتذہ میں ہی ڈال لیتے ہیں ۔

اس اقدام سے علاقے کے لوگوں میں بے چینی کا عالم ہے ۔

اکثر  ضلعی انتظامیہ کے اہلکار یا  دوسرے مانیٹرنگ والے  مرد حضرات  جو اس سے پہلے ان سکولوں کا وزٹ کرتے تھے،  ان کے سامنے برقعے میں ان بچیوں کو پیش کر کے فرض پورا کیا جاتا تھا کہ یہی استانیاں ہیں اور پھر ان کو کاریگری کی داد دی جاتی جب کہ حقیقت کچھ اور ہوا کرتی۔

وزیرستان میں بچیوں کے سکول دراصل فنکشنل ہی نہیں ہیں۔ جو ایک یا دو سکول جن کے فنکشنل ہونے کا ڈرامہ رچایا جاتا ہے وہ بھی ایسے فنکشنل ہوتے ہیں کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے ۔وزٹ بھی ہوجائے اور نوکری بھی سلامت رہے۔

حاضری برقرار رہتی ہے اور اصلی اساتذہ ٹانک ،ڈیرہ اسماعیل خان،پشاور، کراچی، مانسہرہ اور دوسرے علاقوں میں گھر بیٹھ کر مزے سے تنخواہیں لے رہی ہوتی ہیں۔ نہ کوئی شکایت اور نہ کوئی ڈر۔

یہی صورتحال مرد حضرات کی بھی ہے۔ اس طرح سے ان کو بڑے بڑے لوگوں کی پشت پناہی بھی حاصل ہے جن کے متعلق اگر کچھ کہا جائے تو بات دشمنی پر اتر آتی ہے اور آپ کو دھمکایا جاتا ہے۔

عام تاثر یہ جاتا ہے کہ قبائلی علاقے کے لوگ بچیوں کی تعلیم کے خلاف ہیں لیکن حقیقت میں وہ سب سے زیادہ زور بچیوں کی تعلیم پر ہی دیتے ہیں۔ اس کی مثال پاکستان کے دوسرے شہروں میں رہائش پذیر قبائلی علاقے کے لوگ ہیں جو اپنے بچوں سے ذیادہ بچیوں کی تعلیم پر زور دیتے ہیں، جن کی بچیاں پڑھ لکھ کر مختلف شعبہ ہائے جات میں خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

لیکن اگر وہ اپنے ان قبائلی علاقوں میں بچیوں کو نہیں پڑھا سکتے تو اس کی وجہ وہاں کے غیر فنکشنل سکول اور غیر ذمہ دار استانیاں ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اگر سکولوں میں حاضر سروس استانیوں کی ڈیوٹیوں کو ریگولر کیا جائے، سکولوں کو فنکشنل کیا جائے،  سکولوں میں استانیاں  کی حاضریوں کو سنجیدگی سے لیا جائے اور بچیوں کے مستقبل کے ساتھ مزید مذاق کرنا بند کر دیا جائے تو شاید یہاں پر غریب بچیاں بھی پڑھ لکھ جائیں کیونکہ یہاں کی مٹی بہت زرخیز ہے۔

یہ فیک اساتذہ جو ملکی خزانے پر ایک بوجھ ہیں، جو گھروں میں تنخواہیں لے رہی ہیں، جن سے علاقے کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا، جن سے اگر ڈیوٹیوں کی بات کی جائے تو ہزاروں حیلے بہانے ان کے پاس ہوتے ہیں، اگر وہ ڈیوٹیاں نہیں کر سکتیں تو ملک کے خزانے پر بوجھ کیوں بنی  ہوئی ہیں؟  

ان کو بر طرف کر کے دیگر تعلیم یافتہ لڑکیوں کو موقع دیا جائے جو ڈیوٹی بھی کریں اور علاقے کے لوگوں کو ان کی تعلیم سے فائدہ بھی پہنچ سکے۔

حال ہی میں وزیرستان ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ میں بوگس بھرتیوں پر وزیرستان کے نوجوان طبقے نے شور مچانا شروع کیا کہ ملٹری آپریشن کے بعد سے کافی بوگس بھرتیاں ہوئی ہیں اور ان کی انکوائری کی جائے۔

اس بارے میں ایڈووکیٹ سجاد محسود نے پشاور ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن بھی دائر کی جس پر کمشنر ڈیرہ جاوید مروت نے اقدام لیتے ہوئے کہا کہ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کرپشن کیس پر انکوائری کریں گے مگر اب تک ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ  سکینڈل انکوائری  کا کوئی اقدام سامنے نہیں آیا۔

 یہاں تک کہ کمشنر ڈیرہ جاوید مروت کا تبادلہ ہوا اور ان کی جگہ یحییٰ اخونزادہ کمشنر ڈیرہ تعینات ہو گئے۔  اب لوگوں کی ان سے امیدیں وابستہ ہیں کہ وہ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ انکوائری کو بہترین طریقے سے ڈیل کریں گے۔

 مگر ساتھ ساتھ لوگوں میں مایوسی بھی پھیلی ہوئی ہے کہ اب تک وزیرستان ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پر کوئی ایکشن ہوتے ہوئے بہرحال نظر نہیں آیا۔  

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین