1975: ملکہ برطانیہ کو آسٹریلوی وزیراعظم کی معزولی کا علم نہں تھا

اس حوالے سے شکوک سامنے آنے کے بعد کہ شاہی محل نے منتخب آسٹریلوی وزیر اعظم وہٹ لام کی معزولی میں کردار ادا کیا تھا اب آسٹریلوی ری پبلکنز کی جانب سے یہ بیانات دیے جا رہے ہیں کہ آسٹریلیا کو خود کو اس شاہی نظام سے الگ کر لینا چاہیے۔

(اے ایف پی)

دہائیوں تک خفیہ رہنے کے بعد منگل کو سامنے آنے والے خطوط میں انکشاف ہوا ہے کہ ملکہ الزبتھ دوم 1975 میں اپنے نمائندے کی جانب سے آسٹریلوی وزیر اعظم کو معزول کیے جانے سے آگاہ نہیں تھیں۔

برطانوی ملکہ کے آسٹریلیا میں نمائندے گورنر جنرل جان کر نے جمہوری طور پر منتخب کیے جانے والے وزیر اعظم کو معزول کر کے ایک آئینی بحران پیدا کر دیا تھا۔

مئی میں ہائی کورٹ کی جانب سے یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ ملکہ برطانیہ کے پرائیویٹ سیکرٹری اور گورنر جنرل کے درمیان ہونے والی 200 خطوط پر مبنی خط و کتابت تک عوام کو رسائی دی جائے۔ ان خطوط میں کئی متنازعہ معاملات پر بھی بات چیت شامل تھی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق خطوط میں ظاہر ہوتا ہے کہ ملکہ برطانیہ کو اس معزولی سے متعلق فوری طور پر کچھ نہیں بتایا گیا تھا۔ ملکہ برطانیہ جو آسٹریلیا کی ریاستی سربراہ ہیں قانونی طور پر غیر سیاسی ہیں اور حکومتی معاملات میں کوئی فیصلہ نہیں کر سکتیں۔

اس حوالے سے شکوک سامنے آنے کے بعد کہ شاہی محل نے منتخب آسٹریلوی وزیر اعظم وہٹ لام کی معزولی میں کردار ادا کیا تھا اب آسٹریلوی ری پبلکنز کی جانب سے یہ بیانات دیے جا رہے ہیں کہ آسٹریلیا کو خود کو اس شاہی نظام سے الگ کر لینا چاہیے۔

تاریخ دان اس وقت 1200 صفحات پر مبنی یاداشتیں اکھٹی کرنے میں مصروف ہیں جن میں شاہی خاندان کے مختلف افراد کی جانب سے سابقہ کالونی میں حکومت پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی۔ ان میں ملکہ برطانیہ، ان کے بیٹے اور جانشین شہزادہ چارلس اور شاہی مشیروں کے ممکنہ کردار پر غور کیا جا رہا ہے۔

برطانوی شاہی محل نے ان خطوط کے منظر عام پر آنے بعد بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'یہ خطوط ثابت کرتے ہیں کہ نہ ہی ملکہ برطانیہ اور نہ ہی شاہی خاندان کا 'جان کر' کے وزیر اعظم وہٹ لام کو معزول کرنے کے فیصلے میں کوئی کردار تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ملکہ نے اپنے تمام دور میں ہمیشہ آسٹریلیا، آسٹریلوی آزادی اور آئین اور آسٹریلوی قوم کے لیے حمایت کا مظاہرہ کیا ہے۔ جیسا کے ظاہر کردہ خطوط میں سامنے آیا ہے۔'

لیکن وزیر اعظم وہٹ لام کی سوانح حیات لکھنے والی پروفیسر جینی ہوکنگ جو کہ اس معاملے کو عدالت تک لے گئیں ہیں، ان کا کہنا ہے کہ یہ خط و کتابت حیران کن ہے کیونکہ ریاست کی آئینی شاہی سربراہ کی حیثیت سے یہ لازم ہے کہ ملکہ غیر جانبدار رہیں۔

وہٹ لام کو معزول کرنے کے بعد جان کر نے اپوزیشن جماعت لبرل پارٹی سے تعلق رکھنے والے میلکم فریزر کو عبوری وزیر اعظم تعینات کر دیا تھا جس کے بعد آسٹریلیا کے دارالحکومت کینبر سمیت پارلیمنٹ کے باہر مظاہرے ہوئے تھے۔

آسٹریلیا 1901 میں آزادی حاصل کرنے کے باوجود تاج برطانیہ کے تحت شاہی خاندان کے سربراہ کو ریاستی سربراہ کا درجہ دیتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی یورپ