سپین کے پاکستانیوں کی کرونا کے خلاف جنگ

سید شیراز سے ایک خیال پھوٹا، ایک خیال تین افراد سے ہوتا ڈیڑھ سو ٹیکسی ورکرز تک جا پہنچا جنھوں نے کامل باون دن رات بارسلونا کے چپے چپے سے طبی اور نیم طبی عملہ کو گھروں سے متعلقہ ہسپتالوں اورایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال مفت خدمات پہنچائیں۔

(اےایف پی)

یہ طلسم ہے، فقط داستان نہیں۔ یہ ہسپانیہ میں عہدِ کرونا (کورونا) میں لکھی گئی پاکستانیوں کی لازوال ایثار و قربانی کی تفسیر ہے، ان ریاضت کیشوں کی جومعاشرہ اور قوم بناتے ہیں۔

وسط جولائی 2020 وہ دورانیہ نہیں جس کے متعلق ہسپانوی ماہرین طب اور سائنس نے کہا تھا کہ کرونا کی وبا واپس آئے گی۔ یہ وہ دور ہے جس میں کامل 62 دن بعد آہستہ آہستہ گھروں میں مقیۤد مخلوق نے آزادی پائی اور آزاد ہوتے ہی کرونا کو بیل سمجھ کر 'آ مجھے مار' بول دیا۔

بیل جو بمشکل قابو میں آیا تھا وہ ہاتھ سے یُوں نکلا کہ لگ بھگ ہزار مریض گذشتہ ایک ہفتے سے لگاتار درج ہو رہے ہیں۔ ملک بھر میں اڑھائی سو سے زائد چھوٹے اور بڑے سوراخوں سے کرونا پھوٹ پڑا ہے، 52 میں سے 30 صوبے اس کی زد میں ہیں۔

طبی عملہ جسے ایک ماہ سانس لینے کو ملا تھا دوبارہ کرونا کے خلاف جنگ میں جت گیا ہے۔ کرونا کی دوسری لہر یورپ بھراور بالخصوص ہسپانیہ میں ستمبر کے وسط میں خیال کی جا رہی ہے۔

ہسپانیہ نے بہر حال ستمبر کے وسط  کو جولائی کے وسط میں ہی جا لیا ہے، اللہ جانے یہ لہو گرم رکھنے کا بہانہ ہے یا کوئی اور بلا، یہ طے ہے کہ یہ صرف وبا بالکل بھی نہیں جس کا مکمل کنٹرول اب صوبائی معاملہ ہے۔

ہسپانیہ میں اس مرض کا پہلا 'باقاعدہ' مریض 31 جنوری 2020 کو منظر عام پر آیا تھا۔ حالیہ تحقیق بتاتی ہے کہ پہلی موت فروری کے وسط میں ہوئی، فروری کا سارا مہینہ غیر معمولی طور پر عام موسمی بخار کی طرح کی وبا کی شدت اورافزائش محسوس کی گئی۔ جو مریض ویکسین لگوا چکے تھے وہ بھی بیمار پڑتے گئے۔ مارچ کے پہلے ہفتے میں ہا ہا کار مچ چُکی تھی۔ اٹلی بالترتیب اپنے شمالی اضلاع، صوبے اور ملک بند کر چکا تھا۔

ہسپانوی طبی عملہ خبردار کر رہا تھا۔ 11 مارچ 2020 کو کاتالونیہ کی صوبائی وزیر صحت نے اعلان فرمایا کہ مریض چارہی ہیں کاتالونیہ بھر میں اوردریائے ژوبریگات ہر طرف چین ہی چین لکھ رہا ہے لہذا 'گھبرانا نہیں' مگر پھر یُوں ہوا کہ بارہ مارچ کو بارسلونا صوبے کا وسطی حصہ 'اِغوالادا' مکمل طور پر بند کرنا پڑا۔

بارہ مارچ 2020 تک طبی عملہ سمیت بارسلونا کے مختلف ہسپتالوں میں سینتالیس مریض کرونا کے ساتھ تشخیص ہو کر داخل ہو چکے تھے، سکول کالج اور جامعات مقفل کر دی گئیں، عوام کو سوائے اشد ضرورت کے گھروں سے باہر نکلنے سے منع کر دیا گیا، ہسپتال بھرنا اور انتہائی نگہداشت کے وارڈز اُبلنا شروع ہو چکے تھے، وبا منہ زور ہو چکی تھی۔

یہ تیرہ مارچ کی شب کا وسط ہے جب موبائل کی گھنٹی بجی۔ سلام دُعا کے بعد شاہ جی نے پلان بیان فرمایا۔ طبی عملہ جو اس وقت تک 'خودکش' بن چکا تھا ان کو پاکستانی ٹیکسی سیکٹر مفت سروس مہیا کرنے کی خواہش رکھتا تھا۔ سیۤد شیراز بارسلونا کے ٹیکسی سیکٹر سے وابستہ ہیں۔ افسانہ لکھتے ہیں، شعر سے شغف ہے، تجزیہ کرنے کا فن جانتے ہیں۔ پاکستان سے سولہ سال قبل بارسلونا وارد ہوئے۔ مزدوری شروع کی۔ پاکستان سے ایم بی اے کر رکھا تھا، سیلز کا تجربہ تھا، ترقی کرتے گئے۔

دس سال ادھر جب ہسپانیہ معاشی کرائسس کی زد میں تھا، شاہ جی نے کاروبار اور مزدوری کو خیر باد کہا اور مستقل ٹیکسی سیکٹر سے وابستہ ہو گئے۔ اُن کا ناقابل یقین منصوبہ نظر بظاہر ناقابل عمل تھا۔ ٹیکسی کی پچھلی سیٹ پر آپ لاکھ حفاظتی تدابیر اختیار کر اور کروا لیں، واسطہ نئے کرونا سے لتھڑے کسی ڈاکٹر، نرس، کسی ایمبولینس والے سے پڑنا تھا۔

14 ستمبر صبح نو بجے پاکستانی ٹیکسی سیکٹر کے روح رواں چوہدری عاصم گوندل کا فون آیا اور اُن کے بعد چوہدری شہباز کھٹانہ کا۔ عجیب تذبذب تھا، حالت 'یہ کیسے ہو گا' سوچ کر غیر ہو رہی تھی۔ واٹس ایپ گروپ بنا دیا گیا، احباب نے بارسلونا کے تمام بڑے ہسپتالوں سے لے کر بنیادی صحت کے مراکز میں خود جا کر اشتہار بانٹے، ساڑھے بارہ بجے واٹس ایپ پر پہلا پیغام موصول ہوا، میاں عامر رضا پہلی مفت سروس ایک ڈاکٹر صاحبہ کو مہیا کرچکے تھے۔ چودہ مارچ دن کھانے کے وقت سے کُچھ دیر قبل ہسپانیہ کے صدر جناب پیدرو سانچیز ٹی وی سکرین پر نمودار ہوئے اور ملک بھر میں الرٹ کا اعلان کر دیا۔

سید شیراز سے ایک خیال پھوٹا، ایک خیال تین افراد سے ہوتا ڈیڑھ سو ٹیکسی ورکرز تک جا پہنچا جنھوں نے کامل باون دن رات بارسلونا کے چپے چپے سے طبی اور نیم طبی عملہ کو گھروں سے متعلقہ ہسپتالوں اورایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال مفت خدمات پہنچائیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستانی ٹیکسی سیکٹر نے جوتاریخ لکھی اسے الفاظ میں بیان کرنے کے واسطے کتاب چاہیئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے پاکستانیوں کے ساتھ ہسپانوی، لاطینی امریکن، مراکش اور سکھ ٹیکسی ڈرائیور بھی مل گئے اور اس ٹیم نے وہ کام کیا جو مقامی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے نکلتا چہار دانگ عالم پھیلا۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ اور وزیراعظم ہاؤس ہو، یا پاکستان میں ہسپانوی سفارت خانہ، متحدہ عرب امارات تا یورپ وامریکہ اور ساؤتھ افریقہ، ہر بڑے اخبار نے پاکستانی ٹیکسی سیکٹر کو خراج تحسین پیش کیا۔ مقامی اور قومی حکومت نے اس اقدام کو سراہا، میڈیکل اور پیرا میڈیکل کمیونٹی نے فیس بُک، ٹویٹر، واٹس ایپ، آڈیو اور ویڈیو پیغامات میں پاکستانی ٹیکسی سیکٹر کو بے پناہ خراج عقیدت پیش کیا۔

ٹیکسی سیکٹر کی طبی اور نیم طبی عملہ کو ہسپانیہ میں جو سب سے بڑا خراج تحسین پیش ہوا وہ یہ ہے کہ قومی ریل نے بطور ادارہ طبی عملہ کو ملک بھر میں مفت نقل و حرکت کا وہی فارمولا اپنایا جو سید شیرازنے ٹیکسی سیکٹر کے لیے ترتیب دیا، جس کو عملی جامہ عاصم گوندل اور شہباز کھٹانہ نے پہنایا، اور پاکستانیوں نے بارسلونا سے کرونا کے خلاف جنگ میں ایثار اور قربانی کی لازوال مثال قائم کردی۔

کچھ عرصہ قبل پاکستان ٹیکسی سیکٹر نے وزیراعظم پاکستان ڈیم فنڈ سے متعلق سجائی، جس کے سٹیج سیکرٹری سید شیراز ہی تھے اُس میں پاکستان کے قونصل جنرل عمران علی چوہدری نے پاکستانی ٹیکسی سیکٹر کو پاکستانی کمیونٹی کا ہراول دستہ قرار دیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت