’چڑیلز‘ کا کوئی ایجنڈا نہیں ہے: یاسرہ رضوی

ذی فائیو کی ویب سیریز کے حوالے سے یاسرہ رضوی نے کہا کہ ’کچھ کہانیاں زندگی کی طرح ہوتی ہیں اور انہیں زندگی ہی کی طرح دکھایا جائے تو وہ اچھی لگتی ہیں۔‘

یاسرہ کا کہنا تھا کہ اب تک پاکستان میں صرف ٹی وی پر ہی زیادہ کام ہوا ہے لیکن ویب سیریز ایک مختلف انداز کا کام ہے(سکرین گریب)

یاسرہ رضوی اگرچہ کافی عرصے سے پاکستانی ڈراموں میں کام کر رہی ہیں اور سوشل میڈیا پر اپنی شاعری کی وجہ سے بھی جانی جاتی ہیں تاہم حال ہی میں ذی فائیو کی ویب سیریز ’چڑیلز‘ میں ان کے کردار جگنو کو کافی سراہا گیا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو نے یاسرہ سے ان کے ایک آنے والے پراجیکٹ ’تعریف کا شکریہ‘کے سیٹ پر ملاقات کی اور ان سے پہلی ویب سیریز کے تجربے کے حوالےسے جانا۔

 یاسرہ کا کہنا تھا کہ اب تک پاکستان میں صرف ٹی وی پر ہی زیادہ کام ہوا ہے لیکن ویب سیریز ایک مختلف انداز کا کام ہے۔ ’میرا تجربہ بہت اچھا رہا کیونکہ ہمارے ملک میں مختلف قسم کے فارمیٹس کی کمی ہے، فلمیں طویل عرصے تک بنی ہی نہیں اس لیے بہت بڑا وقفہ آگیا‘۔

’چڑیلز‘ کی کہانی خواتین کے حقوق کے گرد گھومتی ہے، اس بارے میں یاسرہ رضوی کا کہنا تھا کہ اس ویب سیریز کو سائن کرتے ہوئے ان کے ذہن میں کوئی خاص ایجنڈا نہیں تھا اور یہ ایک ایسے ہدایتکار کی جانب سے بنائی جارہی تھی جن کی فلم ’کیک‘ سچائی پر مبنی تھی، یہی وجہ ہے کہ جب ’چڑیلز‘ کی کہانی پڑھی تو محسوس ہوا کہ یہ بہت اچھے انداز میں لکھی ہوئی ہے۔

یاسرہ نے بتایا کہ یہ کہانی صرف خواتین کے حقوق پر ہی مبنی نہیں ہے بلکہ یہ ایک مکمل ’تھرلر‘ ہے جس کے کردار انتہائی دلچسپ ہیں۔ یہ کہانی چند کرداروں اور ان کی چھوٹی چھوٹی کہانیوں کا مجموعہ ہے۔

یاسرہ رضوی نے اپنے کردار کے بارے میں بتایا کہ سچ یہ ہے کہ ان کا کردار ان کی اصل شخصیت سے بہت ہی مختلف تھا اور اگر پروڈکشن ٹیم کی مدد نہ ہوتی تو ان کے لیے یہ نبھانا ممکن نہ ہوتا کیونکہ یہ ایک بہت ہی ہائی سوسائٹی سے تعلق رکھنے والی خاتون کا کردار ہے، جس کے بہت سے مسائل ہیں، جو اکیلی ہے، جسے شراب نوشی کی لت لگی ہوئی ہے اور وہ کسی قسم کی زیادتی برداشت نہیں کرتی۔

یاسرہ کے مطابق: ’اس کردار کو ادا کرنے کے لیے میں نے ادھر ادھر دیکھا تھا اور کیونکہ میں بہت مختلف النوع قسم کے لوگوں سے ملتی رہتی ہوں، جن میں امیر اور امیر ترین افراد بھی ہیں اور سڑک اور تھڑے پر محفلیں سجانے والے بھی، اس لیے اس کردار سے متعلق میرے پاس کچھ خاکے تھے۔‘

یاسرہ رضوی کا مزید کہنا تھا کہ یہ صرف چار عورتوں کی کہانی نہیں ہے بلکہ جب کہانی آگے بڑھتی ہے تو اس میں 12 سے زیادہ خواتین مل جاتی ہیں۔ اس لیے یہ قطعاً کسی سے مشابہت نہیں رکھتی اور نہ ہی یہ چربہ ہے۔’کچھ کہانیاں زندگی کی طرح ہوتی ہیں اور انہیں زندگی ہی کی طرح دکھایا جائے تو وہ اچھی لگتی ہیں اور اب اس کا رواج تیزی سے آرہا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا  مزید کہنا تھا کہ اب زمانہ بدل گیا ہے اور فلم اور ڈرامے کے ستارے کوئی ماورائی چیز نہیں ہوتے کیونکہ آپ انہیں سوشل میڈیا پر دن رات دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

یاسرہ رضوی آج کل ایک منفرد کہانی بنانے کی کوشش کررہی ہیں جو ان کے مطابق 90 منٹ کی خود کلامی ہے۔ یہ فلم، تھیٹر، وی لاگ سمیت کہانی سنانے کے جتنے طریقے ہیں ان کا ملغوبہ ہے، جو انہوں نے خود لکھا ہے اور خود ہی بنارہی ہیں اور اس کا نام ہے ’تعریف کا شکریہ‘۔

اس حوالے سے یاسرہ نے بتایا کہ ’یہ میں نے ایجاد کرنے کی کوشش کی ہے، ابھی اس کی آدھی عکس بندی ہوئی ہے اب یہ نہیں معلوم کہ باقی آدھا ہو بھی سکے گا یا نہیں۔‘

کچھ عرصہ قبل یاسرہ رضوی نے عورت مارچ کے موقع پر لگنے والے نعروں میں سے ایک نعرے کے بارے میں کچھ رائے دی تھی جو سوشل میڈیا پر کافی متنازع ثابت ہوئی تھی، اسے یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’اس وقت کافی انتہاپسند خیالات سامنے آرہے تھے تو میں نے ایک ’غزم‘ (یاسرہ رضوی کے بقول وہ غزل یا نظم نہیں کہتی بلکہ ان دونوں کو ملا کر شاعری کرتی ہیں) کہی تھی، جس کا نام تھا ’عام عورت‘ اور جس کا آخری شعر لوگوں نے پکڑ لیا، جو کچھ یوں تھا کہ

چائے مجھ سے مانگنی ہے تو مانگ لو

مگر مجھے میری رائے دے دو۔‘

انہوں نے کہا کہ یہ اشعار انہوں نے ایک عام پاکستانی عورت کے بارے میں لکھے تھے۔

یاسرہ نے اختتام پر کہا کہ ان کی شاعری مکمل آمد پر منحصر ہوتی ہے، انہوں نے ڈیئر سوسائٹی نامی اپنی نظم کے اشعار بھی سنائے۔

زیادہ پڑھی جانے والی فن