عمران خان ’دا مسلم 500‘ کی جانب سے ’مین آف دی ایئر‘ قرار

اردن کے میگزین نے لکھا کہ ’اگر ’ دا مسلم 500‘ سن 1992 میں شائع ہوتا تو عمران خان کو کرکٹ میں اپنی شاندار کارکردگی کی وجہ سے پہلے ہی ’مسلم مین آف دی ایئر‘ نامزد کر چکا ہوتا۔‘

23 مارچ 2019 کی اس تصویر میں 'یوم پاکستان' کے موقع پر وزیراعظم عمران خان فوجی پریڈ کے  معائنے کے لیے سٹیج پر آتے ہوئے (فائل تصویر: اے ایف پی)

اردن سے شائع ہونے والے میگزین ’دا مسلم 500‘ نے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کو ’مین آف دی ایئر‘  جبکہ امریکی کانگریس کی خاتون رکن راشدہ طالب کو ’ویمن آف دی ایئر‘  قرار دیا ہے۔

میگزین نے عمران خان کو یہ اعزاز نوازتے ہوئے لکھا کہ اگر ’ دا مسلم 500‘ سن 1992 میں شائع ہوتا تو عمران خان کو کرکٹ میں اپنی شاندار کارکردگی کی وجہ سے پہلے ہی ’مسلم مین آف دی ایئر‘ نامزد کر چکا ہوتا۔

میگزین نے ورلڈ کپ کی ٹرافی اٹھائے عمران خان کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ کینسر کے شکار افراد کے علاج کے ساتھ ساتھ تحقیق کے لیے ایک ہسپتال بنانے کے لیے عمران خان نے فنڈز اکٹھا کرنے کی ایک کامیاب مہم چلائی تھی۔

مزید لکھا گیا: ’1985 میں کینسر کی وجہ سے اپنی والدہ کو کھو دینے پر یہ ان کا شاندار ردعمل تھا اور اس مہم نے نہ صرف پاکستانیوں میں ان کی مقبولیت میں غیرمعمولی اضافہ کیا بلکہ وہ سمندر پار ہم وطنوں کی آنکھ کا تارا بن گئے۔ اس میں کوئی شک نہیں انہوں نے دل کھول کر اس مہم میں حصہ ڈالا۔ بالآخر 1994 میں شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال نے لاہور میں اپنے دروازے کھول دیئے۔‘

ایڈیٹر نے لکھا ہے کہ اس ہسپتال کے 75 فیصد مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

میگزین کے مطابق: ’ملک میں اصلاحات کے لیے پرعزم عمران خان 22 سال کی جدوجہد کے بعد 2018 میں پاکستان کے وزیر اعظم بن گئے اور انہوں نے کرپشن اور بدانتظامی کے شکار پاکستان کی سویلین سیاسی اسٹیبلشمنٹ کا مقابلہ کیا۔ اس کے علاوہ ان کے کریڈٹ پر جو بات سب سے اہم ہے وہ یہ کہ اگست 2018 میں عہدہ سنبھالنے کے بعد عمران خان نے یہ واضح کردیا کہ ان کی اولین ترجیحات میں سے ایک یہ ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ پائیدار امن کے لیے کام کریں۔ وہ تجارت کے ذریعے تعلقات کو معمول پر لانا اور تعلقات کی راہ میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ مسئلہ کشمیر کو حل کرنا چاہتے تھے۔‘

یہ میگزین ایک خود مختار تحقیقی ادارہ ہے جو رائل اسلامک سٹریٹجک سٹڈیز سینٹر (آر آئی ایس ایس سی) کی زیر قیادت کام کرتا ہے۔

وزیراعظم کو ملنے والے اس اعزاز کے بعد پاکستان اور دنیا بھر سے مبارک بادوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا اور یہ اس وقت ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ کر رہا ہے۔

ترکی کی معروف صحافی ایلف احمت نے لکھا: ’عمران خان کو مسلم دنیا کا لیڈر قرار دیے جانے پر تمام پاکستانیوں کو مبارک باد۔‘

وزیراعظم کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے آفیشل ہینڈل سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’ وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا.‘

پی ٹی آئی کے رہنما ڈاکٹر شہباز گِل نے لکھا: ’دا مسلم 500 کی جانب سے عمران خان کو ’مین آف ایئر‘ قرار دیا گیا ہے۔ عمران خان پاکستان کے لیے عزت اور تعظیم سمیٹ رہے ہیں۔‘

اسماعیل صدیقی نامی صارف نے لکھا: ’ وزیر اعظم عمران خان صرف پاکستان کے قائد نہیں ہیں بلکہ وہ مسلم دنیا کے رہنما بننے کے لیے ابھر رہے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں وہ دنیا کے اعلیٰ رہنما ہونے کی قابلیت رکھتے ہیں۔ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ انہیں دا مسلم 500 نے مین آف دی ایئر قرار دیا ہے۔‘

 

زیادہ پڑھی جانے والی ٹرینڈنگ