ملتان کی پہیہ چائے

تندوری چائے کے بارے میں تو سبھی جانتے ہیں لیکن کیا آپ کو پتہ ہے کہ ملتان میں لوگ 'پہیہ چائے' شوق سے پیتے ہیں۔

تندوری چائے کے بارے میں تو سبھی جانتے ہیں لیکن کیا آپ کو پتہ ہے کہ ملتان میں 'پہیہ چائے' بھی ملتی ہے، جس لوگ بہت شوق سے پیتے ہیں۔

ملتان کے 65 سالہ بابا فلک شیر نےغلہ منڈی میں چائے کا ایک چھوٹا سا ہوٹل بنایا ہوا ہے جہاں وہ سائیکل کا پہیہ چلا کر کوئلے کے ذریعے چائے بناتے ہیں۔

بابا فلک شیر کے مطابق یہ پرانی ثقافت ہےاور ماضی میں ایسا سسٹم لوہاروں کے پاس ہوتا تھا۔'لوہار جب لوہا گرم کرتے تھے تو اسے ہاتھ سے چلاتے تھے، میرے ذہن میں بھی یہی بات تھی اور مشاورت کے بعد چائے کا ہوٹل بنایا ۔ ہم نے جب اسے چلایا تو اس نے ہمیں بہت فائدہ دیا۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ کوئلے کا بہت فائدہ ہے کیونکہ  اس سے چائے میں منفرد ذائقہ آتا ہے، گیس والی چائے کی نسبت لوگ اس کو زیادہ پسند کرتے ہیں ۔ 'گاڑیوں والے رک کر حیرانی میں کہتے ہیں کہ کوئلے کی چائے کے ساتھ پہیہ چل رہا ہے کوئی بجلی بھی نہیں لگائی ہوئی، بندہ ہاتھ سے محنت کر رہا ہے ۔'

انہوں نے بتایا کہ پورے عمل میں کوئلے کے علاوہ لکڑی کا گٹکا بھی استعمال ہوتا ہے، اس چائے کی تاثیر ٹھنڈی ہوتی ہے ۔'ہم یہ کام کر رہے ہیں اللہ تعالی نے ہمت دی ہے اور اللہ سے دعا بھی ہے کہ ہمارا ہاتھ چلائے رکھنا جب تک زندگی ہے ۔ '

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا