طیب اردوغان کی چار بڑی غلطیاں

ترک ریاست دو غیر اعلانیہ ستونوں پر کھڑی نظر آتی تھی: سول اسلام اور سیکولر ریاست۔ یعنی سماج مذہب کی ساری قدروں سے جڑا رہے گا اور مذہب پر عمل پیرا بھی رہے گا لیکن ریاست کا مزاج سیکولر رہے گا۔ اردوغان نے یہ ترتیب بدل دی ہے۔

(اے ایف پی)

دل بھلے ان کی طرف کھنچتا ہے مگر سچ یہ ہے کہ رجب طیب اردوغان کا بصیرت کے باب میں ہاتھ تنگ نظر آتا ہے۔

دیوار دل سے اندیشے آن لپٹے ہیں کہ جس ترکی کو انہوں نے تنکا تنکا استوار کیا ان کی افتاد طبع اسی کے درپے نہ ہو جائے۔ اس بڑھیا کی طرح جس نے ساری عمر سوت کاٹا اور آخر میں اسے ٹکڑے کر کے پھینک دیا۔ ان کی کامیابیاں بڑی ہیں تو ان کی غلطیاں بھی پہاڑ جیسی ہیں۔ کیا معلوم آخری تجزیے میں وہ ایک اثاثہ قرار پائیں یا ایک بوجھ۔

کمال ازم کے بعد ترک ریاست دو غیر اعلانیہ ستونوں پر کھڑی نظر آتی تھی: سول اسلام اور سیکولر ریاست۔ یعنی سماج مذہب کی ساری قدروں سے جڑا رہے گا اور مذہب پر عمل پیرا بھی رہے گا لیکن ریاست کا مزاج سیکولر رہے گا۔ اردوغان نے یہ ترتیب بدل دی ہے اور مذہب کو معاشرے میں خیر کی قوت کے طور پر لینے کی بجائے انہوں نے داخلی اور خارجی سیاست میں اپنے امکانات کے لیے استعمال کیا۔ یہ ان کی پہلی بڑی غلطی ہے۔

 انہوں نے ترک سماج کو شدید پولرائزیشن سے دوچار کر دیا ہے۔ پولیٹیکل اسلام کو وہ جس شدت سے لے کر چلے ہیں اس میں خود گولن جیسے اسلام پسندوں پر بھی زمین تنگ کر دی گئی ہے۔ سماج میں گھٹن کی شکایات بڑھ رہی ہیں۔ اسلام کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ وزارت عظمیٰ بھی مزاج یار کو راس نہیں آئی اور صدارتی نظام نافذ فرما لیا گیا ہے جو بھلے ریفرنڈم کے ذریعے ہوا ہے مگر ریفرنڈم ریفرنڈم ہوتا ہے ضیاء الحق صاحب کا ہو یا اردوغان صاحب کا۔ اختیارات کا گھنٹہ گھر اب جناب اردوغان ہی کی ذات ہے۔

اسلام کے نام پر شخصیت پرستی کا یہ آزار کہاں رکے گا، کسی کو معلوم نہیں۔ وقت بتائے گا یہ رد عمل صرف ان کے شخصی اقتدار تک محدود رہتا ہے یا یہ سماج کو واپس سیکیولرزم کی جانب دھکیل دیتا ہے کیونکہ یہ حقیقت ہمیں نظر انداز نہیں کرنی چاہیے کہ سیکیولر قوتیں ترکی میں متبادل قیادت کے طور پر اپنا بھرپور وجود رکھتی ہیں۔ اردوغان چاہتے تو سماج کی فالٹ لائنز کو بھر کر آ گے بڑھ سکتے تھے انہوں نے مگر ان فالٹ لائنز کو اور گہرا کر دیا۔

اردوغان کی دوسری بڑی غلطی کا تعلق امور خارجہ سے ہے جو ان کی افتاد طبع کی لپیٹ میں آ گئے ہیں۔ مسلم دنیا کی قیادت کی خواہش میں اردوغان نے مسلم دنیا کو مزید تقسیم کر دیا۔ عرب ایران تنازع کیا کم تھا کہ ترکی بھی قیادت کے دعوے کے ساتھ میدان میں آ گیا۔ مسلم دنیا میں کسی خیر کی بجائے اس دعوے سے مزید تناؤ پیدا کیا۔

اس معاملے میں مزید پیچیدگی اردوغان کے تضادات سے بھرے سطحی رویے نے پیدا کر دی اور وہ تضادات کی پوٹلی سر پر رکھے چوک میں کھڑے ہو کر عالم اسلام کو بے نقط سناتے پائے گئے۔ یو اے ای نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات استوار کیے تو اردوغان امت کے درد میں عربوں پر برس پڑے لیکن یہ حقیقت انہوں نے نظر انداز فرما دی کہ خود ان کے ملک نے اسرائیل کو تسلیم کر رکھا ہے۔ جب جہاں انہیں موقع ملا انہوں نے مسلم دنیا میں اپنے حریفوں سے حساب چکانے کو ترجیح دی اور ایک مدبر اور درد دل رکھنے والے مسلمان رہنما کے طور پر سب کے ساتھ چلنے اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش نہیں کی۔

اردوغان کی تیسری بڑی غلطی یہ ہے کہ انہوں نے ترکی کے لیے بلاوجہ بہت سے محاذ کھول لیے ہیں۔ کبھی وہ شام میں فوجیں بھیج رہے ہیں، کبھی بحیرہ روم میں یونان کو للکار رہے ہیں، کبھی فرانس سے الجھ رہے ہیں۔ داخلی سیاست میں تو وہ شاید اس سے کچھ مقبولیت حاصل کر لیں کہ انہوں نے اپنے عزم سے سلطنت عثمانیہ کی یاد تازہ کر دی ہے اور شرق و غرب میں سب کو للکار رہے ہیں لیکن دنیا کی حقیقتیں مختلف ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بلاشبہ ترکی ایک ابھرتی ہوئی قوت ہے۔ وہ معاشی طور پر مستحکم بھی ہوا ہے اور اب ایشیا کا مرد بیمار نہیں رہا لیکن ترکی میں ابھی اتنا دم خم نہیں ہے کہ وہ دنیا میں درجن بھر سفارتی اور عسکری محاذ کھول لے اور ان کے تقاضے نبھا سکے۔

اردوغان نے ارتقا کے فلسفے کو یکسر نظر انداز کر دیا ہے اور یہ ان کی چوتھی بڑی غلطی ہے۔ قومیں دنوں میں نہیں بنتیں۔ یہ ارتقا کا ایک مسلسل عمل ہوتا ہے۔ آج کا ترکی کل کے ترکی سے بہتر ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے اپنی تعمیر کی۔ لیکن ابھی ترکی کو ایک طویل سفر کرنا ہے۔ ابھی سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں وہ بہت پیچھے ہے، علم و تحقیق میں بھی یورپ اور اس کا کوئی مقابلہ نہیں۔ الجھنے اور بڑھکیں لگانے کی بجائے ترکی کو داخلی تعمیر پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

ایک مدبر رہنما ارتقا کا یہ فلسفہ سمجھتا ہے کہ سب کچھ وہ نہیں کر پائے گا اور اسے اپنے حصے کا کام کر جانا چاہیے۔ آگے کا کام کوئی اور کر لے گا۔ ’ارطغرل‘ ڈرامے ہی کو دیکھ لیجیے، سلمان شاہ نے اپنے حصے کا کام کیا، ارطغرل نے اپنے حصے کا، تب کہیں جا کر عثمان کو سلطان بننا نصیب ہوا۔ اردوغان کے حصے کا کام ترکی کی تعمیر ہے یہاں تک کہ دنیا میں ترکی کو اسی طرح نظر انداز کرنا ممکن نہ رہے جیسے آج چین کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ چین نے خاموشی سے اپنی تعمیر کی ہے۔ اردوغان کی افتاد طبع اپنے حصے کا کام کرنے پر رضامند نہیں۔ سلمان شاہ سے عثمان تک، سب کام وہ خودکر گزرنے پر مائل ہیں۔

ڈر ہے اس سے ترکی کی ترقی معکوس کا سفر نہ شروع ہو جائے۔

----------

یہ تحریر مصنف کے ذاتی خیالات پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر