طبی عجوبہ: 99 برس تک اعضا کی غلط پوزیشن کے ساتھ زندہ رہنے والی خاتون

اوریگن کی رہائشی روز میری بینٹلے کی وفات کے بعد میڈیکل کے طلبہ کو اس بات کا علم ہوا کہ ان کے دل کے علاوہ تمام اندرونی اعضاء غلط مقام پر تھے۔

روز میری بینٹلے ایک ماہر تیراک تھیں، جنہوں نے پانچ بچوں کی پرورش کی، ایک فیڈ سٹور چلانے میں اپنے خاوند کی مدد کی اور 99 برس تک زندہ رہیں۔ تصویر: بشکریہ بینٹلے خاندان

یونیورسٹی آف پورٹ لینڈ میں اناٹومی کے اسسٹنٹ پروفیسر کیمرون واکر کی کلاس کے طلبہ گذشتہ برس ایک عطیہ کی گئی نعش کا معائنہ کر رہے تھے کہ انہیں معلوم ہوا کہ اس کی خون کی شریانیں کچھ مختلف ہیں۔ جب انہوں نے مزید جائزہ لیا تو پتہ چلا کہ تمام اعضا غلط پوزیشن پر موجود ہیں جبکہ غیرمعمولی خون کی شریانوں کی وجہ سے دل کو سپورٹ ملتی ہے۔

کیمرون واکر نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کو دیے گئے ٹیلیفونک انٹرویو میں اس دریافت کو ’تجسس، دلچسپی اور طبی اسراروں کو مزید کھوجنے کی جستجو‘ سے تعبیر کیا، جو ان کے سامنے موجود تھی اور جسے ایک طبی عجوبہ کہا جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ طلبہ کے بھی کچھ اسی قسم کے احساسات تھے۔

اے پی کے مطابق رواں ہفتے ہونے والی کانفرنس آف اناٹومسٹس کے دوران روز میری بینٹلے کی اس غیرمعمولی صورتحال کے بارے میں انکشاف ہوا، جو طویل عرصے تک حیات رہیں۔

روز میری بینٹلے ایک ماہر تیراک تھیں، جنہوں نے پانچ بچوں کی پرورش کی، ایک فیڈ سٹور چلانے میں اپنے خاوند کی مدد کی اور 99 برس تک زندہ رہیں، لیکن ان کی وفات کے بعد میڈیکل کے طلبہ کو اس بات کا علم ہوا کہ ان کے دل کے علاوہ تمام اندرونی اعضاء غلط مقام پر تھے۔

اوریگن ہیلتھ اینڈ سائنس یونیورسٹی کے مطابق اس طبی صورتحال کا شکار لوگوں کو سائٹس اِنورسز وِد لیووکارڈیا کہا جاتا ہے، جنہیں اپنی زندگی میں امراض قلب سمیت دیگر بیماریوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بینٹلے اور ان کے اہلخانہ کو بھی اس طبی صورتحال کا علم نہیں تھا، جس کے حوالے سے اوریگن ہیلتھ اینڈ سائنس یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ یہ 22 ہزار لوگوں میں سے کسی ایک میں پائی جاتی ہے۔

پورٹ لینڈ کے جنوب میں 25 میل (40 کلومیٹر) کے فاصلے پر واقع علاقے مولالا میں رہنے والی بینٹلے نے ایک نارمل زندگی گزاری۔ ان کی صاحبزادی لوئس اَلّی نے بتایا کہ ان کی والدہ کو صرف گھنٹیا (آرتھرائٹس) کی بیماری لاحق تھی۔

تاہم کچھ ایسی علامات ضرور تھیں، جن سے ان کی غیر معمولی صورتحال کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

لوئس نے بذریعہ ٹیلیفون اے پی سے گفتگو میں بتایا کہ جب وہ 50 برس کی تھیں تو انہیں ہسٹریکٹومی (بچہ دانی نکلوانے کے لیے کی جانے والی سرجری) کروانی پڑی، اس موقع پر ڈاکٹر ان کا اپنڈکس بھی نکالنا چاہتے تھے، لیکن وہ انہیں ملا ہی نہیں، جسے پھر بعد میں نکالا گیا۔

اوریگن ہیلتھ اینڈ سائنس یونیورسٹی کے مطابق اپنی زندگی میں بینٹلے کے تین اعضا نکالے گئے، تاہم صرف اُس سرجن نے، جس نے ان کا اپنڈکس نکالا، اُس کی غیر معمولی پوزیشن کو ریکارڈ کیا۔

لوئس نے مزید بتایا کہ ’جب ان کا پتّہ نکالا گیا تو وہ بھی مخالف جگہ پر تھا، لیکن کسی نے کچھ نہیں بتایا۔ مجھے بہت حیرانی ہوئی۔‘

پروفیسر واکر نے بینٹلے کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے اپنے اعضا کو اوریگن ہیلتھ اینڈ سائنس یونیورسٹی کو عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا، جو کہ اوریگن کا واحد تعلیمی ہیلتھ سینٹر ہے۔

انہوں نے بتایا، ’یہ ایک بہت اہم کیس ہے، جس سے ہمیں یہ موقع ملا کہ مستقبل کے ڈاکٹروں کو اناٹومک تبدیلیوں سے متعلق بھی آگاہی ہو۔‘

ان کا مزید کہنا تھا، ’کسی بھی کتاب کو محض اس کے سرورق کی مدد سے مت جانچیں، ہمیشہ دیکھیں کہ آپ کے پاس کیا ہے اور پھر اس کے بارے میں احتیاط سے بات کریں۔‘

پروفیسر واکر نے اس حوالے سے تحقیق کی کہ اس صورتحال کے ساتھ لوگ کتنا عرصہ زندہ رہ پاتے ہیں اور انہیں ایسا کوئی شخص نہیں ملا، جس نے 73 سال سے زیادہ زندگی پائی ہو جبکہ بینٹلے 26 سال مزید حیات رہیں۔

لوئس الّی کے مطابق ان کی والدہ اس بات پر بہت خوش ہوتیں، اگر انہیں معلوم ہوتا کہ ان کے جسم کو عطیہ کیا جانا ایک نئے سائنسی تجربے کا موجب بنے گا۔

انہوں نے مزید کہا، ’ڈیڈ کو بھی اس بارے میں جان کر بہت خوشی ہوتی تاکہ وہ انہیں اس بات پر چھیڑ سکیں۔‘

بینٹلے کے شوہر جیمز کا انتقال ان کی وفات سے کوئی 15 برس قبل ہوا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی سائنس